بلدیاتی انتخابات کرانے سے معذرت
پنجاب اور سندھ کو اگر تحفظات ہیں تو وہ بلداتی انتخابات کو التوا کے بجائے مرحلہ وار کروا سکتے ہیں۔
پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات کرانے سے پہلو نہیں بچانا چاہیے، اگر یہ انتخابات ملتوی ہوتے رہے تو کوئی مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ فوٹو: فائل
الیکشن کمیشن کے اجلاس کے دوران سندھ اور پنجاب کے چیف سیکریٹریز نے اکتوبر سے پہلے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کرانے سے معذرت کر لی۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا محمد خان کی زیر صدارت اجلاس میں چیف سیکریٹریز نے موقف اختیار کیا کہ سیلاب کے باعث بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار یا تاخیر سے کرانا مجبوری ہے، انتخابات اکتوبر سے پہلے نہیں کرائے جا سکتے۔
واضح رہے اس سے قبل بلوچستان اور کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کروائے جا چکے ہیں حالانکہ متذکرہ صوبوں کے امن و امان کے حالات بھی کوئی خاص قابل رشک نہ تھے پھر بھی انھوں نے معروضی حالات کو بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا اور شیڈول کے مطابق بلدیاتی انتخابات منعقد کروا دیے۔ پنجاب اور سندھ کو اگر تحفظات ہیں تو وہ بلداتی انتخابات کو التوا کے بجائے مرحلہ وار کروا سکتے ہیں۔
جن علاقوں میں سیلاب نے تباہی مچائی ہے، وہاں بلدیاتی انتخابات بعد میں کرائے جا سکتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات کرانے سے پہلو نہیں بچانا چاہیے، اگر یہ انتخابات ملتوی ہوتے رہے تو کوئی مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے، کل کلاں مردم شماری کا ایشو سامنے آ سکتا ہے اور پھر یہ بہانہ بنایا جا سکتا ہے کہ مردم شماری کے بعد الیکشن ہونگے۔
واضح رہے اس سے قبل بلوچستان اور کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کروائے جا چکے ہیں حالانکہ متذکرہ صوبوں کے امن و امان کے حالات بھی کوئی خاص قابل رشک نہ تھے پھر بھی انھوں نے معروضی حالات کو بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا اور شیڈول کے مطابق بلدیاتی انتخابات منعقد کروا دیے۔ پنجاب اور سندھ کو اگر تحفظات ہیں تو وہ بلداتی انتخابات کو التوا کے بجائے مرحلہ وار کروا سکتے ہیں۔
جن علاقوں میں سیلاب نے تباہی مچائی ہے، وہاں بلدیاتی انتخابات بعد میں کرائے جا سکتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات کرانے سے پہلو نہیں بچانا چاہیے، اگر یہ انتخابات ملتوی ہوتے رہے تو کوئی مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے، کل کلاں مردم شماری کا ایشو سامنے آ سکتا ہے اور پھر یہ بہانہ بنایا جا سکتا ہے کہ مردم شماری کے بعد الیکشن ہونگے۔