ایم کیو ایم کے استعفے اور سیاسی نظام
صولت مرزا کو دی گئی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد ہوا۔ صولت مرزا کا پھانسی گھاٹ سے ایک ویڈیو انٹرویو میڈیا کی زینت بنا۔
tauceeph@gmail.com
کیا اگست کا مہینہ جمہوری حکومت کے لیے بحرانوں کا مہینہ رہے گا؟ گزشتہ سال تحریک انصاف کے رہنماؤں نے قومی اور دو صوبائی اسمبلیوں سے استعفیٰ دے دیے تھے۔اس سال اگست میں ایم کیو ایم کی قیادت نے سینیٹ ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے اپنے اراکین کے استعفیٰ کا فیصلہ کیا۔ ایم کیو ایم کے استعفوں کا تعلق کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن سے ہے ایم کیو ایم کی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن اب یک طرفہ رخ اختیارکرگیا ہے، صرف ایم کیو ایم کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
آپریشن میں قانون نافذکرنے والی ایجنسیاں قوائد وضوابط کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں اور ان کے کارکنوں کو ماروائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے اور قائد تحریک الطاف حسین کی براہ راست تقاریر ٹیلی کاسٹ کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ کراچی آپریشن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔
ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب کراچی میں آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ ہوا تھا تو ایم کیو ایم نے اس آپریشن کی بھرپور حمایت کی تھی اس وقت فیصلہ ہوا تھا کہ آپریشن کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کی جائے گی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمایندگی ہو گی مگر یہ کمیٹی قائم نہیں ہوئی۔
موجودہ کراچی آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے ایک کارکن کو پھانسی دی گئی تھی۔ صولت مرزا کو دی گئی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد ہوا۔ صولت مرزا کا پھانسی گھاٹ سے ایک ویڈیو انٹرویو میڈیا کی زینت بنا۔ اس انٹرویومیں صولت مرزا نے نوجوانوں کو نصیحت کی تھی کہ وہ ایم کیو ایم کے دہشت گردوں کے آلہ کار نہ بنیں ورنہ ان کا انجام صولت جیسا ہو گا۔
کراچی کا آپریشن گزشتہ سال دسمبر کے بعد ایک نئی شکل اختیارکرگیا ہے ۔اس آپریشن کے نتیجے میں لیاری میں ہونے والی گینگ وار خاصی مدہم پڑچکی ہے۔ اس لڑائی میں ملوث گروپوں کے بہت سے کارکن مارے جاچکے ہیں۔متحرک گروپوں کے سربراہ فرار ہوگئے ہیں جن کے مرنے کی خبریں وقتاً فوقتاً آتی رہتی ہیں۔ ایک گروہ کے سردارعزیر بلوچ کے بارے میں یہ خبر آئی تھی کہ اسے دبئی سے لا کر پشاور میں کسی سیف ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔
اس آپریشن نے کراچی کے مضافاتی علاقوں میں طالبان کی کمین گاہوں کو ختم کرنے میں موثرکردار ادا کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 700سے زیادہ انتہا پسند اب تک ہلاک ہوئے جس کے نتیجے میں شہر میں بینک لوٹنے، اغواء برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ اورخاص طور پر فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔ اس سال سبین محمود، ڈاکٹر وحید الرحمن اور صفورہ میں اسماعیلی برادری کی بس پر فائرنگ کے بڑے واقعات رونما ہوئے ۔ پولیس، رینجرز اور انٹیلی جنس نیٹ ورک نے سبین محمود اور صفورہ فائرنگ میں ملوث ملزمان کوگرفتار کیا ہے مگر ڈاکٹر وحید الرحمن کیس کے بارے میں کچھ پتہ نہ چل سکا۔
اس آپریشن کے نتیجے میں ماہ رمضان کے آخری عشرے میں شہر میںریکارڈ گہما گہمی ہوئی۔ شہرکے بازار صبح سحر ہونے تک کھلے رہے۔ کئی ارب کی اشیاء فروخت ہوئیں۔ 14اگست کو جشن آزادی کے حوالے سے شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام رہا ۔13اور14اگست کو شہر میں رات گئے تک جشن کا سماں نظر آرہا تھا مگر ایم کیو ایم نے گزشتہ مہینے اپنے ایک کارکن ہاشم کی لاش دریافت ہونے پر ہڑتال کی کوشش کی مگر رات گئے یہ فیصلہ واپس لے لیا۔ ایم کیو ایم کے بارے میں یہ خبریں متواتر شایع ہو رہی ہیں کہ اس آپریشن کے نتیجے میں اس کا تنظیمی ڈھانچہ معطل ہوگیا ہے۔
رینجرز کی حکمت عملی کی بناء پر ایم کیو ایم کے کارکن اس رفاہی تنظیم خدمت خلق کمیٹی کے لیے زکوۃ اور فطرے کی مد میں چندہ وصول نہیں کرسکے پھر خود ایم کیو ایم کے قائد نے امریکا میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے یہ اقرار کیا کہ وہ خود مالیاتی بحران کا شکار ہیں۔الطاف حسین کا کہنا ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کی رفاہی تنظیموں کو کام کرنے کی اجازت دینا اور ایم کیو ایم کی رفاہی تنظیم کی سرگرمیوں پر پابندی کا کوئی جواز نہیں۔ الطاف حسین نے تنظیمی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے کئی دفعہ رابطہ کمیٹی کو توڑا کئی معروف رہنماؤں کو جن میں اراکین اسمبلی بھی شامل ہیں، ایم کیو ایم سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا پھر ایک دن تو ایم کیو ایم کے دفاتر بند کرنے اور تنظیم کومعطل کرنے کا اقدام بھی اٹھایا۔
اس دوران قائد تحریک نے اپنی تقاریر میں نیٹو ممالک کی فوجوں کو ملک میں آنے بھارت سے مدد کرنے کی اپیل کی۔ ایم کیو ایم کے ایک ایم ای میل کا بھی ذکر ہوا جو بھارتی ہائی کمشنر کولکھی گئی تھی ۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے اس ای میل کو متعلقہ عملے کی تکنیکی غلطی قرار دیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ ہی اس طرح کی ای میل 50ممالک کے سفیروں کو بھیجی گئیں۔ ایم کیو ایم کی قیادت نے اپنے منتخب اراکین کو منتخب ایوانوں سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا۔سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی اور سندھ اسمبلی کے اسپیکر درانی نے استعفوں کو سیاسی تناظر میں دیکھنے کا فیصلہ کیا، قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق غیر سیاسی رحجان کا شکار ہوئے اور ان کے اس رویے سے ایک بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوا مگر وزیر اعظم کی بصیرت اور دوراندیشی نے بحران کو پیدا ہونے سے قبل ہی کمزور کر دیا۔
اب مولانا فضل الرحمن کے ذریعے ایم کیو ایم کو استعفیٰ واپس لینے کی حکمت عملی اس نظام کی بقاء کے لیے ایک کامیاب تدبیر ہے۔ ایم کیو ایم ایک ایسی تنظیم ہے جس کی جڑیں کراچی میں آباد اور سندھ کے دوسرے شہری علاقوں میں خاصی گہری ہیں۔ وفاق اور سندھ کی حکومتوں نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے کراچی کو پسماندہ شہر بنا رکھا ہے۔ ایم کیو ایم اس صورتحال میں کراچی کے عوام کو حالات کی بہتری کا واحد راستہ نظر آتی ہے ۔
سیاسی تاریخ یہ سبق دے رہی ہے کہ سیاسی قوتوں کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میںمصروف رکھ کر مسلسل بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکال کر سیاسی نظام کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگار پروفیسرسعید عثمانی کا کہنا ہے کہ ملک کے پہلے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس وقت کی اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت نیشنل عوامی پارٹی NAPکی قیادت کو اسمبلیوں سے نکال دیا تھا ۔ولی خان، غوث بخش بزنجو ، عطاء اللہ مینگل وغیرہ کے خلاف غداری کے مقدمات درج کرتے ہوئے انھیں چار سال تک نظر بند رکھا تھا اور حیدر آباد ٹریبونل میں مقدمہ چلا کر ان رہنماؤں کو طویل سزا سنانے کی حکمت عملی اختیار تیارکی تھی۔
اس وقت کی عسکری مقتدرہ بھٹو کی پشت پناہی کر رہی تھی مگر بھٹو جیسا ذہین سیاست دان پس پردہ ہونے والی تبدیلیوں پر نظر نہیں رکھ سکا۔ 1977میں پاکستان قومی اتحاد PNAکی تحریک کے دوران انھیں پتہ چلا کہ ان سے نیپ کے خلاف ریفرنس داخل کروانے والی قوتیں دوسری طرف کھڑی ہیں یوں 5جولائی 1977کو فوج کے سربراہ جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اس سیاسی تاریخ سے سبق ملتا ہے کہ تمام سیاسی قوتوں کی اسمبلیوں میں نمایندگی ضروری ہے۔
حکومت اور ایم کیو ایم کے مذاکرات ایک مثبت صورتحال کی نشاندہی کر رہے ہیں ۔ کراچی میں آپریشن میں قانون کی پامالی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف کے لیے ایک جامع طریقہ کار ہونا چاہیے۔کراچی آپریشن کی نگرانی کے لیے ایک شفاف اور غیر جانبدار افراد پر مشتمل کمیٹی کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ ایم کیو ایم کے اراکین کے استعفیٰ مسترد ہونے سے سیاسی نظام مستحکم ہو گا مگر ایم کیو ایم کی قیادت کو بھی اس حقیقت کو اب تسلیم کرلینا چاہیے کہ جب تک ایم کیو ایم اپنے اندر کی خرابیوں کو دور نہیں کر لے گی کراچی شہرکی رونقیں مستقل بحال نہیں ہوں گی۔
آپریشن میں قانون نافذکرنے والی ایجنسیاں قوائد وضوابط کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں اور ان کے کارکنوں کو ماروائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے اور قائد تحریک الطاف حسین کی براہ راست تقاریر ٹیلی کاسٹ کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ کراچی آپریشن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔
ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب کراچی میں آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ ہوا تھا تو ایم کیو ایم نے اس آپریشن کی بھرپور حمایت کی تھی اس وقت فیصلہ ہوا تھا کہ آپریشن کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کی جائے گی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمایندگی ہو گی مگر یہ کمیٹی قائم نہیں ہوئی۔
موجودہ کراچی آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے ایک کارکن کو پھانسی دی گئی تھی۔ صولت مرزا کو دی گئی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد ہوا۔ صولت مرزا کا پھانسی گھاٹ سے ایک ویڈیو انٹرویو میڈیا کی زینت بنا۔ اس انٹرویومیں صولت مرزا نے نوجوانوں کو نصیحت کی تھی کہ وہ ایم کیو ایم کے دہشت گردوں کے آلہ کار نہ بنیں ورنہ ان کا انجام صولت جیسا ہو گا۔
کراچی کا آپریشن گزشتہ سال دسمبر کے بعد ایک نئی شکل اختیارکرگیا ہے ۔اس آپریشن کے نتیجے میں لیاری میں ہونے والی گینگ وار خاصی مدہم پڑچکی ہے۔ اس لڑائی میں ملوث گروپوں کے بہت سے کارکن مارے جاچکے ہیں۔متحرک گروپوں کے سربراہ فرار ہوگئے ہیں جن کے مرنے کی خبریں وقتاً فوقتاً آتی رہتی ہیں۔ ایک گروہ کے سردارعزیر بلوچ کے بارے میں یہ خبر آئی تھی کہ اسے دبئی سے لا کر پشاور میں کسی سیف ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔
اس آپریشن نے کراچی کے مضافاتی علاقوں میں طالبان کی کمین گاہوں کو ختم کرنے میں موثرکردار ادا کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 700سے زیادہ انتہا پسند اب تک ہلاک ہوئے جس کے نتیجے میں شہر میں بینک لوٹنے، اغواء برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ اورخاص طور پر فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔ اس سال سبین محمود، ڈاکٹر وحید الرحمن اور صفورہ میں اسماعیلی برادری کی بس پر فائرنگ کے بڑے واقعات رونما ہوئے ۔ پولیس، رینجرز اور انٹیلی جنس نیٹ ورک نے سبین محمود اور صفورہ فائرنگ میں ملوث ملزمان کوگرفتار کیا ہے مگر ڈاکٹر وحید الرحمن کیس کے بارے میں کچھ پتہ نہ چل سکا۔
اس آپریشن کے نتیجے میں ماہ رمضان کے آخری عشرے میں شہر میںریکارڈ گہما گہمی ہوئی۔ شہرکے بازار صبح سحر ہونے تک کھلے رہے۔ کئی ارب کی اشیاء فروخت ہوئیں۔ 14اگست کو جشن آزادی کے حوالے سے شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام رہا ۔13اور14اگست کو شہر میں رات گئے تک جشن کا سماں نظر آرہا تھا مگر ایم کیو ایم نے گزشتہ مہینے اپنے ایک کارکن ہاشم کی لاش دریافت ہونے پر ہڑتال کی کوشش کی مگر رات گئے یہ فیصلہ واپس لے لیا۔ ایم کیو ایم کے بارے میں یہ خبریں متواتر شایع ہو رہی ہیں کہ اس آپریشن کے نتیجے میں اس کا تنظیمی ڈھانچہ معطل ہوگیا ہے۔
رینجرز کی حکمت عملی کی بناء پر ایم کیو ایم کے کارکن اس رفاہی تنظیم خدمت خلق کمیٹی کے لیے زکوۃ اور فطرے کی مد میں چندہ وصول نہیں کرسکے پھر خود ایم کیو ایم کے قائد نے امریکا میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے یہ اقرار کیا کہ وہ خود مالیاتی بحران کا شکار ہیں۔الطاف حسین کا کہنا ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کی رفاہی تنظیموں کو کام کرنے کی اجازت دینا اور ایم کیو ایم کی رفاہی تنظیم کی سرگرمیوں پر پابندی کا کوئی جواز نہیں۔ الطاف حسین نے تنظیمی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے کئی دفعہ رابطہ کمیٹی کو توڑا کئی معروف رہنماؤں کو جن میں اراکین اسمبلی بھی شامل ہیں، ایم کیو ایم سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا پھر ایک دن تو ایم کیو ایم کے دفاتر بند کرنے اور تنظیم کومعطل کرنے کا اقدام بھی اٹھایا۔
اس دوران قائد تحریک نے اپنی تقاریر میں نیٹو ممالک کی فوجوں کو ملک میں آنے بھارت سے مدد کرنے کی اپیل کی۔ ایم کیو ایم کے ایک ایم ای میل کا بھی ذکر ہوا جو بھارتی ہائی کمشنر کولکھی گئی تھی ۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے اس ای میل کو متعلقہ عملے کی تکنیکی غلطی قرار دیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ ہی اس طرح کی ای میل 50ممالک کے سفیروں کو بھیجی گئیں۔ ایم کیو ایم کی قیادت نے اپنے منتخب اراکین کو منتخب ایوانوں سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا۔سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی اور سندھ اسمبلی کے اسپیکر درانی نے استعفوں کو سیاسی تناظر میں دیکھنے کا فیصلہ کیا، قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق غیر سیاسی رحجان کا شکار ہوئے اور ان کے اس رویے سے ایک بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوا مگر وزیر اعظم کی بصیرت اور دوراندیشی نے بحران کو پیدا ہونے سے قبل ہی کمزور کر دیا۔
اب مولانا فضل الرحمن کے ذریعے ایم کیو ایم کو استعفیٰ واپس لینے کی حکمت عملی اس نظام کی بقاء کے لیے ایک کامیاب تدبیر ہے۔ ایم کیو ایم ایک ایسی تنظیم ہے جس کی جڑیں کراچی میں آباد اور سندھ کے دوسرے شہری علاقوں میں خاصی گہری ہیں۔ وفاق اور سندھ کی حکومتوں نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے کراچی کو پسماندہ شہر بنا رکھا ہے۔ ایم کیو ایم اس صورتحال میں کراچی کے عوام کو حالات کی بہتری کا واحد راستہ نظر آتی ہے ۔
سیاسی تاریخ یہ سبق دے رہی ہے کہ سیاسی قوتوں کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میںمصروف رکھ کر مسلسل بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکال کر سیاسی نظام کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگار پروفیسرسعید عثمانی کا کہنا ہے کہ ملک کے پہلے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس وقت کی اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت نیشنل عوامی پارٹی NAPکی قیادت کو اسمبلیوں سے نکال دیا تھا ۔ولی خان، غوث بخش بزنجو ، عطاء اللہ مینگل وغیرہ کے خلاف غداری کے مقدمات درج کرتے ہوئے انھیں چار سال تک نظر بند رکھا تھا اور حیدر آباد ٹریبونل میں مقدمہ چلا کر ان رہنماؤں کو طویل سزا سنانے کی حکمت عملی اختیار تیارکی تھی۔
اس وقت کی عسکری مقتدرہ بھٹو کی پشت پناہی کر رہی تھی مگر بھٹو جیسا ذہین سیاست دان پس پردہ ہونے والی تبدیلیوں پر نظر نہیں رکھ سکا۔ 1977میں پاکستان قومی اتحاد PNAکی تحریک کے دوران انھیں پتہ چلا کہ ان سے نیپ کے خلاف ریفرنس داخل کروانے والی قوتیں دوسری طرف کھڑی ہیں یوں 5جولائی 1977کو فوج کے سربراہ جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اس سیاسی تاریخ سے سبق ملتا ہے کہ تمام سیاسی قوتوں کی اسمبلیوں میں نمایندگی ضروری ہے۔
حکومت اور ایم کیو ایم کے مذاکرات ایک مثبت صورتحال کی نشاندہی کر رہے ہیں ۔ کراچی میں آپریشن میں قانون کی پامالی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف کے لیے ایک جامع طریقہ کار ہونا چاہیے۔کراچی آپریشن کی نگرانی کے لیے ایک شفاف اور غیر جانبدار افراد پر مشتمل کمیٹی کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ ایم کیو ایم کے اراکین کے استعفیٰ مسترد ہونے سے سیاسی نظام مستحکم ہو گا مگر ایم کیو ایم کی قیادت کو بھی اس حقیقت کو اب تسلیم کرلینا چاہیے کہ جب تک ایم کیو ایم اپنے اندر کی خرابیوں کو دور نہیں کر لے گی کراچی شہرکی رونقیں مستقل بحال نہیں ہوں گی۔