حکومت اور قوم کا اعتماد

بد قسمتی یہ ہے کہ ملک میں جو بھی وزیراعظم بنتا ہے وہ ملک کو اپنی جاگیر سمجھ لیتا ہے

ملک بھر میں آج کل پاک فوج کی کارکردگی اور آپریشن ضرب عضب کے دوران دی جانے والی قربانیوں کو نہ صرف سراہا جارہاہے بلکہ ملک کا کوئی سیاسی وسماجی حلقہ ایسا نہیں ہے جس نے پاک فوج کو خراج تحسین نہ پیش کیا ہو۔

ملک میں جمہوری حکومت ہے اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے گزشتہ دنوں اعتراف کیا تھا کہ آرمی چیف کو وفاقی حکومت سمیت قوم کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف ملک کی تاریخ اور سیاسی حکومت میں پاک فوج کے وہ پہلے سربراہ ہیں جن کی کسی بھی سیاسی جماعت کی طرف سے معمولی مخالفت بھی نہیں ہوئی اور ان کی اختیارکردہ غیر جانبدار رہنے کی پالیسی کی وجہ سے آج پاک فوج مکمل طور پر غیر سیاسی اور غیر متنازع ہے جب کہ اس سے پہلے پاک فوج کو ملک کی 68 سالہ تاریخ میں یہ اعزاز کبھی حاصل نہیں رہا جس کی وجہ خود فوج نہیں بلکہ فوج کے اس وقت کے سربراہ تھے اور پاک فوج اپنے ہر سربراہ کی مکمل وفادار ثابت ہوئی ہے جس نے بدنام زمانہ فوجی جنرل اور سانحہ سقوط ڈھاکہ کے ذمے دار قرار دیے جانے والے جنرل یحییٰ کی بھی بے حرمتی نہیں ہونے دی تھی اور انھیں بھی فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ ملک میں سیاسی حکومتوں سے زیادہ فوجی جنرلوں نے حکومت کی، حکومتیں نو سے گیارہ سال تک طویل عرصہ اقتدار میں رہی جب کہ کسی سیاسی وزیراعظم کو طویل عرصے تک حکومت نہیں کرنے دی گئی اور کبھی فوجی جنرلوں نے اور کبھی 58-2/B کی طاقت رکھنے والے ایک فوجی صدر جنرل ضیا الحق اور دو سیاسی صدور غلام اسحاق خان اور فاروق احمد لغاری نے منتخب وزرائے اعظم کو برطرف کیا جب کہ جنرل پرویز مشرف اور جنرل ایوب خان نے 58-2/B کا اختیار نہ ہونے کے باوجود منتخب وزرائے اعظم کی حکومتیں برطرف کی تھیں اور ان برطرفیوں کا ذمے دار بھی اس وقت کے وزرائے اعظم کو قرار دیا تھا ۔

جن کی وجہ سے ملک سیاسی بحران کا شکار ہوئے تھے۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد جو وزیراعظم آئے وہ قوم کا اعتماد نہ حاصل کرسکے، سیاسی بنیادوں پر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے اور بد قسمتی سے ملک کا نو سال تک آئین نہ بن سکا اور پاکستان کو 1956 میں پہلا آئین نصیب ہوا اور ملک 9 سال تک کسی آئین کے بغیر چلایا جاتا رہا۔ 1956 میں ملک کو پہلا آئین تو ملا مگر سیاسی رہنما وزیراعظم بن کر خود کو اس کا اہل ثابت نہ کرسکے اور جنرل ایوب خان کو منتخب حکومت صرف دو سال میں برطرف کرنا پڑی اور 1958 میں ملک میں پہلا مارشل لا نافذ ہوا اور سیاست دان فوجی عتاب کا شکار ہوئے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ قیام پاکستان کے بعد ملک میں وہ ترقی نہیں ہوئی جو 1958 میں فوجی حکومت آنے کے بعد دس سالوں میں ہوئی، ملک میں صنعتی ترقی کا کریڈٹ کسی بھی سیاسی وزیراعظم کو نہیں ملا بلکہ فوجی صدر کو ملا۔ سیاسی قائدین کے باہمی اختلافات کے باعث فوجی جنرلوں کو طویل عرصے تک حکومت کرنے کا موقع ملا اور سیاسی رہنما اپنے معاملات خود نہ طے کرسکے جس پر ملک میں فوجی حکومتیں آتی جاتی رہیں۔

سیاست دانوں نے فوجی جنرلوں کے اقتدار کے خاتمے کے لیے بھی طویل جد وجہد کی اور مختلف سیاسی اتحاد بھی قائم کیے مگر پہلے فوجی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ایوب خان کو ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکے اور ملک میں احتجاج، ہڑتالوں اور سیاسی عدم استحکام دیکھ کر جنرل ایوب خان نے اقتدار جنرل یحییٰ کے حوالے کردیا اور سیاست دانوں کے مطالبے پر نہ انتخاب کرائے نہ انھیں اقتدار دیا۔


جنرل ایوب خان کو ایک اصول پرست فوجی جنرل بھی کہا جاتا ہے جنھوں نے خود اقتدار سے منسلک رہنا ضروری نہ سمجھا اور اقتدار خود چھوڑا۔ جنرل یحییٰ نے 1970 میں ملک میں انتخابات اپنے خاص مقصد کے لیے کرائے مگر ناکام رہے اور ملک دولخت ہوگیا اور اکثریت کے حامل شیخ مجیب الرحمن کو اقتدار نہیں دیا اور مجبوراً ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے اقتدار کردیا جو پہلی بار سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے۔ سیاسی مشاورت سے ملک کو 1973 کا متفقہ آئین دے کر ایسے وزیراعظم بنے کہ انھوں نے حکومت کو اپنی مطلق العنان آمریت سے بھی بد تر بنادیا اور سیاسی انتقام کے ملک میں نئے ریکارڈ قائم کیے ۔

ملک کی سیاسی فضا بہتر نہیں بنائی اور اپنی مقبولیت کی خوش فہمی میں قبل از وقت 1977 میں انتہائی متنازع انتخابات کرا بیٹھے جس پر تمام جماعتیں ان کے خلاف متحد ہوگئیں اور دوبارہ منصفانہ طور پر الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا مگر سیاسی وزیراعظم بھٹو نے سیاسی رہنماؤں کی نہیں مانی اور ملک میں دوسرے مارشل لا کی راہ ہموار کی۔ بھٹو حکومت کی برطرفی کے بعد جنرل ضیا نے سیاست دانوں کے باہمی اختلافات کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور 11 سال حکومت کی اور جہاز کی تباہی کے باعث جنرل ضیا الحق، جنرل اختر عبدالرحمن کے جاںبحق ہونے کے بعد ڈپٹی آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کے لیے مارشل لا لگانے کا بہترین موقع تھا مگر انھوں نے عام انتخابات کو ترجیح دی اور تمغۂ جمہوریت کے حق دار قرار پائے۔

1988 سے 1999 تک کسی فوجی چھتری کے بغیر بے نظیربھٹو اور نواز شریف کو دو دوبار وزیراعظم بننے کا موقع ملا مگر دونوں نے ملک میں حقیقی جمہوریت قائم نہیں کی اور نام نہاد جمہوری حکومتوں کے نام پر اپنی بادشاہت قائم رکھی۔

بد قسمتی یہ ہے کہ ملک میں جو بھی وزیراعظم بنتا ہے وہ ملک کو اپنی جاگیر سمجھ لیتا ہے اور من مانیاں اور اقربا پروری شروع کردیتا ہے جب کہ برسر اقتدار پارٹی چاہے وفاق میں ہو یا صوبوں میں سمجھتی ہیں کہ انھیں لوٹ کھسوٹ کا لائسنس مل گیا ہے جس کی ایک مثال سندھ ہے جہاں کرپشن کی تحقیقات ہورہی ہیں تو وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر اس کو وفاقی مداخلت قرار دے رہے ہیں اور انھیں صوبائی خود مختاری خطرے میں لگ رہی ہے۔

صوبوں کے معاملات پر وفاقی ادارے ایکشن لے رہے ہیں مگر وفاق میں جو کچھ ہوتا ہے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، نیب اگر کچھ کرے تو وفاقی وزیر اطلاعات کو اعتراض ہوتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ نیب کے اوپر بھی نیب ہونی چاہیے۔

نیب ابھی اتنی با اختیار نہیں ہوئی کہ وزیراعظم اور وفاقی حکومت کے غلط کاموں کو پکڑسکے اور یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکمرانوں کے اوپر کوئی نہیں ہے وہ جو چاہیں کریں انھیں اقتدار میں رہتے ہوئے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا اور وزیراعظم تو وزیراعظم وفاقی وزیر بھی غیر ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوج کو بھی نہیں بخشتے جس کی تازہ مثال مشاہد اﷲ خان اور سابق دور میں عبدالقیوم جتوئی تھے ملک میں ایک تاثر عام ہے کہ بہت کچھ وفاقی حکمرانوں کی مرضی کے مطابق نہیں ہورہا اور اب تو وفاقی وزیر داخلہ تسلیم کررہے ہیں کہ حکومت اور عوام کو جنرل راحیل شریف پر مکمل اعتماد ہے یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ عوام کو وزیراعظم پر اعتماد نہیں اور نہ حکومت عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں سنجیدہ ہے بس حکومت چل رہی ہے اور عوام کا اعتماد اب حکومت پر سے اٹھتا جا رہاہے۔
Load Next Story