ابھی نہیں تو کبھی نہیں کا مرحلہ

ملکی سطح پر کراچی میں دہشت گردی کی روک تھام اور کراچی آپریشن کا بلا امتیاز تسلسل ایک مثبت پیش رفت ہے۔

وزیراعظم و آرمی چیف کی ملاقات میں طے کیا گیا کہ مشیرخارجہ سرتاج عزیز کی بھارتی ہم منصب سے ملاقات میں بھارتی جارحیت کا معاملہ سرفہرست رکھا جائے گا۔ فوٹو:فائل

سیاسی اور عسکری قیادت نے کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف جاری آپریشن ہر صورت میں منطقی انجام تک پہنچانے اور دہشتگردوں کے سہولت کاروں اور مالی معاونین کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت دہشتگردوں کو دوبارہ کسی طور پر منظم نہیں ہونے دیا جائیگا۔

گزشتہ روز وزیراعظم نوازشریف سے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ملاقات کی جس میں کراچی میں جاری کارروائی اور ملکی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شریک ہوئے۔

واضح رہے اجلاس میں دیگر اہم فیصلے بھی ہوئے تاہم اسی دورانئے میں کراچی میں حساس ادارے کی ٹیم نے رینجرز کے ہمراہ گلشن اقبال میں ایک بڑی کارروائی کی اور مقابلے کے دوران القاعدہ کمانڈر سمیت 2دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ، ملزمان کی فائرنگ سے حساس ادارے کا ایک افسر بھی جاں بحق ہوگیا، حساس ادارے کی ٹیم نے ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا اسلحہ، لیپ ٹاپ، اہم دستاویزات، القاعدہ کا لٹریچر، موبائل فونز، سمیں اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا، رینجرز کے مطابق دہشت گرد کراچی میں بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

اس واردات کی روشنی میں اس نتیجہ پر پہنچنا مشکل نہیں کہ کراچی میں طالبان، القاعدہ ، دیگر جہادی اور انتہا پسند تنظیموں کے ماسٹر مائنڈز موجود ہیں اور وہ کراچی کے پوش علاقوں میں فلیٹوں اور بنگلوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ اب ان کے خفیہ ٹھکانے کچی آبادیوں تک محدود نہیں، داعش بھی مستقبل کی ہولناک عفریت کا درجہ رکھتی ہے، خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ خوش آیند بات ہے کہ سلامتی پر مامور حکام اور ملکی سیاسی و عسکری قیادت نے کراچی میں آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا ہے ، اب منی پاکستان کو بد امنی ، لاقانونیت، بھتہ خوری ، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے جاری کارروائی کو متنازع بنانے سے حتی الامکان گریز کرنا قومی مفاد میں ہے۔

میڈیا کو بھی احتیاط لازم ہے کہ وہ دکھاوے کی لاحاصل تجزیاتی اور مصنوعی علمی بحثوں سے صورتحال کا بتنگڑ بنانے والوں سے دور رہے جب کہ آپریشن سے متعلق کسی کو افواہوں اور پروپیگنڈہ پر توجہ نہیں دینی چاہیے۔ یہ آج نہیں تو کبھی نہیں کا نازک مرحلہ ہے، جس میں قوم سیاست دانوں سے آسودہ حالی ، معاشی استحکام اور سیاسی و سماجی زندگی میں سکون ، ٹھہراؤ سنجیدگی کی منتظر ہے۔ ملکی سطح پر کراچی میں دہشت گردی کی روک تھام اور کراچی آپریشن کا بلا امتیاز تسلسل ایک مثبت پیش رفت ہے۔


بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم و آرمی چیف کی ملاقات میں طے کیا گیا کہ مشیرخارجہ سرتاج عزیز کی بھارتی ہم منصب سے ملاقات میں بھارتی جارحیت کا معاملہ سرفہرست رکھا جائے گا۔ سانحہ اٹک کے ملزموں کو ہر صورت میں گرفتار کر کے کٹہرے میں لانے پر اتفاق کو عملی نتائج سے متصف ہونا چاہیے۔

کوشش ہونی چاہیے کہ ''پری ایمپشن'' پالیسی پر عملدرآمد کو مستقل میکنزم کی شکل دی جائے تاکہ کوئی واردات ہونے سے پہلے دشمن کی گردن دبوچی جائے، اس کے لیے کسی ہدف تک پہنچنے کا تصور بھی محال ہوجائے، اسی قسم کی ہوم لینڈ سیکیورٹی پالیسی ہوگی تب دہشت گرد وقفہ وقفہ سے ادھر ادھر چھپ کر کارروائی کر کے اپنے وجود کا احساس دلانے سے معذور ہوجائیں گے۔ چنانچہ ہمہ وقت الرٹ رہنے اور عقابی نگاہوں سے اپنے اطراف کی چیزوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔

مذکورہ ملاقات میں جہاں ملک کے سرحدی معاملات زیر غور آئے وہاں بالخصوص بھارت کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا گیا جو تقاضائے وقت ہے، قومی سطح پر سیاسی و عسکری ہم آہنگی قابل دید ہے، سیاسی قیادت نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ایجنڈے کے حوالے سے عسکری قیادت کو اعتماد میں لیا۔

پاک افغان تعلقات کے اس نئے پہلو کو بھی زیر غور لایا جائے جس کے تحت صدر اشرف غنی سمیت دیگر افغان حکام کے حالیہ تلخ بیانات میڈیا کی زینت بن رہے ہیں ، منگل کو قائم مقام افغان وزیر دفاع معصوم ستانکزئی نے ہرزہ سرائی کی کہ پاکستان افغانستان کے خلاف اعلانیہ جنگ میں شامل ہوچکا ہے۔ ادھر یو اے ای کے کاروباری دورہ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی فرما رہے ہیں کہ بھارت پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے مگر ہمسایہ ملک اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین بھارت کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔

مودی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم چالیس سال سے دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔ مگر منہ میں رام رام اور بغل میں چھری کے مصداق مودی جی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے فرنٹ لائن کردار کی تعریف کرنے سے گریزاں ہیں جب کہ پاکستانی سفارتی حکام نے بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ''اسٹرٹیجک پارٹنرشپ'' کے حوالے سے حالیہ سمجھوتے کو دونوں ممالک کا باہمی معاملہ قرار دیا ہے۔ کسی دانشور کا قول ہے کہ ''تشدد نااہل آدمی کا آخری حربہ ہوتا ہے۔'' اس کا عمومی اطلاق دہشتگرد قوتوں پر کتنی آسانی سے ہوسکتا ہے ، صلائے عام ہے یارانِ ِنکتہ داں کے لیے۔
Load Next Story