نیگلیریا سے بچاؤ ابلا ہوا یاکلورین ملا پانی استعمال کیا جائے ماہرین

ضروری کاموں کے دوران ناک میں صرف ابلا ہوا یا کلورین ملا ہوا پانی داخل کریں

ابلے ہوئے پانی یا کلورین ملے پانی سے وائرل بیماریوں اورنیگلیریا کے جراثیم سے بچا جا سکتا ہے. فوٹو: فائل

لاہور:
برڈ فلو اور ڈنگی بخار کے بعد دماغی انفیکشن کا باعث بننے والے امیبا نیگلیریا فاؤلیری نے عوام کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

تاہم ابلے ہوئے پانی یا کلورین ملے پانی سے وائرل بیماریوں اورنیگلیریا کے جراثیم سے بچا جا سکتا ہے،یہ بات آغا خان یونیورسٹی اسپتال کی جانب سے منعقدہ صحت کی آگاہی کے ایک سیمینار میں ماہرین نے بتائی، ماہرین کے مطابق سوئمنگ پول میں نہاتے وقت یا تیراکی کے دوران سرکو پانی سے باہر رکھنا چاہیے اورکوشش کرنی چاہیے کہ غسل کے دوران ناک میں پانی داخل نہ ہو تاہم وضو اور دیگر ضروری کاموں کے دوران ناک میں صرف ابلا ہوا یا کلورین ملا ہوا پانی داخل کریں، امیبا نیگلیریا سے آلودہ پانی پینے یا اس سے نہانے سے یہ انفیکشن نہیں ہوتا اور نہ ہی متاثرہ فرد کے چھونے سے دوسروںمیں منتقل ہوتا ہے۔


اے کے یو ایچ کے کنسلٹنٹ انفیکشن ڈزیزز ڈاکٹر فیصل محمود نے کہا کہ نیگلیریا کی وجہ سے ہونے والا دماغی انفیکشن امیبک میننجواینسیفیلائٹس (پی اے ایم) کہلاتا ہے اور یہ بہت کم ہوتا ہے، یہ مرض دماغی ٹشوز میں ٹوٹ پھوٹ اور سوجن کا باعث بنتا ہے،ابتدائی علامات میں سردرد ، بھوک میں کمی، بخاراور قے شامل ہیں تاہم مرض بڑھنے کی صورت میں گردن میں اکڑن، ذہنی ابتری، مرگی اور کوما جیسی شکایات پیدا ہوسکتی ہیں، ڈاکٹر فیصل نے کہاکہ پی اے ایم ایک مہلک بیماری ہے جس کے لیے دنیا میں کہیں بھی کوئی موثر علاج موجود نہیں ہے۔

گوکہ ہمیشہ مریضوں کوامیبا کے خاتمے کی ادویات دی جاتی ہیںلیکن وہ کارگر ثابت نہیں ہوتیں اور 99 فیصد کیسز میں مریض جاں بحق ہوجاتے ہیں، دنیا بھر میں نیگلیریا کے بہت کم واقعات سامنے آتے ہیں لیکن حال ہی میں کراچی میں ان میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اے کے یو ایچ کی کنسلٹنٹ کلینکل مائیکروبائیولوجسٹ ڈاکٹر عافیہ ظفر نے اس موقع پر کہا کہ نیگلیریا عام طور پر تازہ اور گر م پانی کی جھیلوں، تالابوں، دریاؤں، گرم چشموں اور مٹی میں پایا جاتا ہے، یہ گرم آب و ہوا سے موافقت رکھتا ہے اور 28سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں تیزی سے نشوونما پاتا ہے اور 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک حرارت برداشت کرسکتا ہے،ٹھنڈے پانی میں اس کے پائے جانے کے امکانات کم ہوتے ہیں اور یہ نمکین پانی یعنی سمندر میں بھی نہیں پایا جاتا، ترقی یافتہ ممالک میں گھروں کو فراہم کیا جانے والا پانی محفوظ ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وہاں اس بیماری کے زیادہ تر شکار وہ بچے ہوتے ہیںجو تفریحی سرگرمیوں کی غرض سے جھیلوں اور دریاؤں کے گندے پانی کا رخ کرتے ہیں،بدقسمتی سے کراچی میں گھروں کو فراہم کیے جانے والے پانی میں یا تو کلورین شامل نہیں ہوتی یا اس کی مقدار ناکافی ہوتی ہے،یہی وجہ ہے کہ نہ صرف بچے بلکہ 16 سے 42 سال کے بہت سے صحت مندافراد بھی اس کا شکار ہورہے ہیں،ڈاکٹر ظفر نے عوام کو ہدایت کی کہ وہ گھر کے پانی کے ٹینکوں کو سال میں دو مرتبہ لازمی صاف کریں اورپھر کلورین ملاہو اپانی بھر لیں، گھریلوپانی میں 0.5 ppm کلورین شامل ہونی چاہیے تاہم اگر پانی گدلا ہو تو اس کی مقدار بڑھا کر 1 ppmکی جاسکتی ہے، تیراکی کے لیے ایسے صاف ستھرے سوئمنگ پولز کا انتخاب کریں جن کے پانی میں کلورین ملایا گیا ہو، ناک بند کیے بغیر یا ناک کا کلپ استعمال کیے بغیر گرم اور تازہ پانی میں چھلانگ یا غوطہ لگانے سے گریز کریں۔
Load Next Story