ہائیکورٹ کا قیدی کو طبی سہولت فراہم کرنیکا حکم
گذشتہ سماعت پر عدالت نے حکم دیاتھا کہ عمرقید کی سزا پانے والے ملزم رستم کو مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائے
سماعت کے موقع پر ایس پی کورٹ پولیس میاں جمشید انعام نے عدالت کو بتایا کہ انہیں عدالتی احکامات تاخیر سے موصول ہوئے. فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے لیاری گینگ وار (ارشد پپو گروپ) کے سزایافتہ رستم کو طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے10دن میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔
جمعرات کو سماعت کے موقع پر ایس پی کورٹ پولیس میاں جمشید انعام نے عدالت کو بتایا کہ انہیں عدالتی احکامات تاخیر سے موصول ہوئے تاہم وہ عدالت کو یقین دلاتے ہیں کہ قیدی کا طبی معائنہ اور ایم آر آئی جلد لیاقت نیشنل اسپتال میں کرایا جائیگا۔
گذشتہ سماعت پر عدالت نے حکم دیاتھا کہ عمرقید کی سزا پانے والے ملزم رستم کو مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائے اور ایم آر آئی اور دیگر ٹیسٹ کیلیے لیاقت نیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا تھاکہ ملزم کو ایم آر آئی اور دیگر ٹیسٹ کیلیے سول اسپتال نہیں لایا جاسکتا۔
جمعرات کو سماعت کے موقع پر ایس پی کورٹ پولیس میاں جمشید انعام نے عدالت کو بتایا کہ انہیں عدالتی احکامات تاخیر سے موصول ہوئے تاہم وہ عدالت کو یقین دلاتے ہیں کہ قیدی کا طبی معائنہ اور ایم آر آئی جلد لیاقت نیشنل اسپتال میں کرایا جائیگا۔
گذشتہ سماعت پر عدالت نے حکم دیاتھا کہ عمرقید کی سزا پانے والے ملزم رستم کو مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائے اور ایم آر آئی اور دیگر ٹیسٹ کیلیے لیاقت نیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا تھاکہ ملزم کو ایم آر آئی اور دیگر ٹیسٹ کیلیے سول اسپتال نہیں لایا جاسکتا۔