سلمان اور آصف کی مشکلات برقرارواپسی کا سفر دشوار

ڈومیسٹک مقابلوں میں فوری شرکت کی اجازت نہ مل سکی،ٹی ٹوئنٹی ایونٹ کھیلنے کے ارمانوں پر پانی پھرگیا

سلیکشن کیلیے غورکے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا،دونوں کو ایکدم ٹیم میں لانا مناسب نہیں لگتا، چیف سلیکٹر فوٹو: فائل

سزا کا دورانیہ جلد مکمل ہونے کے باوجود سلمان بٹ اور محمد آصف کی مشکلات برقرار ہیں، دونوں کیلیے کرکٹ میں واپسی کا سفردشوار اور راہ میں کانٹے حائل ہوں گے، انھیں ڈومیسٹک مقابلوں میں فوری شرکت کی اجازت نہ مل سکی،یکم ستمبر سے شروع ہونے والے قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں ایکشن میں آنے کے ارمانوں پر پانی پھر گیا، پی سی بی کو آئی سی سی کے تفصیلی فیصلے کا انتظار ہے،کھلاڑیوں کوکلین چٹ پانے کیلیے مختلف مراحل سے گزرنا ہوگا۔

دوسری جانب چیف سلیکٹر ہارون رشید کا کہنا ہے کہ سلمان اورآصف کو کسی بھی سطح پر سلیکشن کیلیے زیر غور لانے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا،دونوں کو ایکدم ٹیم میں لانا مناسب نہیں لگتا، فٹنس اور فارم ثابت کرنے کیلیے وقت درکار ہے، جو کرکٹر اس وقت عمدہ کارکردگی کی بنا پر اپنی جگہ بنائے ہوئے ہیں انھیں باہر کرکے ایسے کھلاڑیوں کو کس طرح شامل کرسکتے ہیں جن کے بارے میں کوئی اندازہ ہی نہیں۔دریں اثنا تینوں کھلاڑیوں کے بارے میں کرکٹ حلقوں کی رائے بھی منقسم ہے،کوئی حق میں تو دیگر مخالف ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسپاٹ فکسنگ کیس 2010 میں جرم ثابت ہونے پر سزا پانے والے ایک کرکٹر محمد عامر تو کم عمر ہونے کی وجہ سے پی سی بی کی کوششوں سے آئی سی سی سے رعایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے، انھیں5سالہ پابندی ختم ہونے سے قبل ہی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل چکی، یکم ستمبرکے بعد انٹرنیشنل مقابلوں کیلیے بھی منتخب کیا جاسکتا ہے،محمد عامر کو قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں راولپنڈی ریمز کی نمائندگی کا موقع دینے کا فیصلہ بھی کیا جاچکا ہے۔

بدھ کو آئی سی سی کی جانب سے سلمان بٹ اور محمد آصف کی بالترتیب5اور 2سال کی معطل سزائیں بھی ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا تھا، ان دونوں کو بھی یکم ستمبر کے بعد ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کی آزادی مل گئی لیکن قومی ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، ذرائع کے مطابق لاہور سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن سلمان بٹ کو ٹیم میں شامل کرنے کی خواہاں اوروہ بھی ایونٹ کا حصہ بننے کیلیے بے تاب نظر آتے تھے، دوسری جانب محمد آصف کی سیالکوٹ ٹیم میں شمولیت کی اطلاعات تھیں لیکن پی سی بی نے دونوں کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے سے روک دیا۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں پلیئرز نے ابھی اینٹی کرپشن کے قوائد ضوابط پورے نہیں کیے، آئی سی سی کا تفصیلی فیصلہ آنا باقی ہے جس میں واضح ہو گا کہ انھیں کب ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی جائے، ذرائع کے مطابق دونوں کو ابھی ویڈیو لیکچر ریکارڈ کرانے، اینٹی کرپشن یونٹ کی تسلی بخش رپورٹ،بحالی لیکچر اور پی سی بی کے اے سی یو سے ملاقات سمیت چند مراحل طے کرنا ہیں، پی سی بی کی پریس ریلیز میں بھی واضح کیا گیاکہ آئی سی سی کی گائیڈ لائن کی روشنی میں ہی اگلا قدم اٹھائیں گے۔

دوسری جانب نمائندہ ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے چیف سلیکٹر ہارون رشید نے کہا کہ کرکٹرز پر عائد آئی سی سی کی پابندی یکم ستمبر کو ختم ہو رہی ہے لیکن ان کوکسی بھی سطح پر سلیکشن کیلیے زیر غور لانے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے مختلف امور کا جائزہ لیں گے،آئی سی سی کی جانب سے رپورٹ موصول ہونے کے بعد چیئرمین پی سی بی شہریار خان و دیگر حکام اس کا بغور جائزہ لیں گے۔

بعد ازاں ان کرکٹرز کے بارے میں بورڈ جو بھی گائیڈ لائن جاری کرے اس کی روشنی میں لائحہ عمل تیار ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ کرکٹنگ لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو کھلاڑیوں کو ایک دم ٹیم میں ڈالنا مناسب نہیں لگتا،ان کی کافی عرصے کے بعد میدانوں میں واپسی ہورہی ہے،اس دوران نان رجسٹرڈ کلبز کی نمائندگی کرتے رہے، فٹنس اور فارم ثابت کرنے کیلیے وقت درکار ہوگا، جو کرکٹر اس وقت عمدہ کارکردگی کی بنا پر اپنی جگہ بنائے ہوئے ہیں انھیں ایکدم ٹیم سے باہر کرکے ایسے کھلاڑیوں کو کس طرح شامل کرسکتے ہیں جن کے بارے میں کوئی اندازہ ہی نہیں۔

دریں اثنا تینوں کھلاڑیوں کے بارے میں کرکٹ حلقوں کی رائے بھی منقسم ہے،کوئی حق میں تو دیگر مخالف ہیں، سابق کپتان راشد لطیف نے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث رہنے والے تینوں کرکٹرز کی واپسی کی مخالفت کردی، انھوں نے کہا کہ کرپشن اور دھوکہ دہی میں ملوث کسی کھلاڑی کو دوبارہ ٹیم میں شامل کرنا غلط فیصلہ اور ان پلیئرز کے ساتھ ناانصافی ہوگی جو جائز طریقے اور دیانتداری سے کھیل میں شریک ہوتے ہیں،ایک اور سابق کرکٹر محسن حسن خان نے کہا ان لوگوں نے سزا پوری کرلی لیکن فکسنگ سے ملک کے نام کو داغ لگانا ایک بہت بڑا جرم ہے،جس کے بعد کسی کو بھی دوسرا موقع دینا درست نہیں ہوگا۔

سابق کپتان محمد یوسف نے کہا کہ اگر ماضی میں کرپشن میں ملوث کھلاڑیوں کو سزاؤں کے بعد کھیلنے کی اجازت مل سکتی ہے تو ان تینوں کو کیوں نہیں؟ ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھا پرفارم کریں تو انٹرنیشنل مقابلوں کیلیے زیر غور لانا چاہیے۔سابق کرکٹر باسط علی نے کہا کہ غلطیاں ہر کسی سے ہوتی ہیں،انھوں نے قوم سے معافی بھی مانگ لی،اگر کارکردگی اچھی ہو تو ملک کی طرف سے کھیلنے کا موقع دیا جائے۔
Load Next Story