دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس کی منسوخی
دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس کی منسوخی سے تنازعہ کشمیر ایک بار پھر لائم لائٹ میں آ گیا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان ایک بار پھر تلخی پیدا ہو چکی ہے،کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر حالات کشیدہ ہیں۔ فوٹو: فائل
لاہور:
پاکستان نے مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کو دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس میں بلانے کے بھارتی مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے سی پی اے کانفرنس منسوخ کرنیکا اعلان کیا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ کشمیر کے معاملہ پر پاکستان کسی قیمت پر کوئی لچک نہیں دکھا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن نے اسپیکر مقبوضہ کشمیر اسمبلی کو مدعو کرنے کا کہا تھا، جس پر پاکستان نے اعتراض کرتے ہوئے دولت مشترکہ کی پارلیمانی کانفرنس کی میزبانی سے معذرت کر لی ہے۔
پاکستان نے یہ اقدام اصولی بنیادوں پر اٹھایا ہے۔ اس کو دنیا بھر میں محسوس کیا جائے گا اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا موقع ملے گا گو بھارت کی معاندانہ سفارت کاری قدم قدم پر ہمارا راستہ کاٹے گی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں ایاز صادق نے کہا بھارت کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ آ رہا تھا کہ اسپیکر مقبوضہ کشمیر اسمبلی کو بھی کانفرنس میں مدعو کیا جائے، دولت مشترکہ لندن سیکریٹریٹ سے بھی فون آیا تھا کہ مگر میں نے ان کو جواب دیا کہ اگراسپیکر مقبوضہ کشمیر اسمبلی کو بلانا شرط ہے تو ہم کانفرنس کی میزبانی نہیں کر سکتے۔31 اگست یا یکم ستمبر کو نیویارک میں اسپیکرز کانفرنس ہو رہی ہے، وہاں مسئلہ کشمیر بھرپور انداز میں اجاگر کریں گے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں 30 ستمبر سے 8 اکتوبر تک ہونے والی دولت مشترکہ کی 61 ویں پارلیمانی کانفرنس کی میزبانی کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر بات چیت کریگا، بھارت اگر دہشتگردی کے الزامات کے بجائے تعاون پر زور دے تو اس سے پورے خطے کو فائدہ ہو گا، بھارت پر واضح کر دیاکہ حریت رہنماؤں سے ملاقات معمول کی بات ہے، اس سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے، کشمیری رہنماؤں کی گرفتاریاں افسوسناک ہیں۔
دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس کی منسوخی سے تنازعہ کشمیر ایک بار پھر لائم لائٹ میں آ گیا ہے۔ اس وقت جو صورت حال ہے،اس میں پاکستان اس پارلیمانی کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کو مدعو نہیں کر سکتا تھا،بھارتی حکومت کو اس صورت حال کا اچھی طرح علم تھا اور دولت مشترکہ بھی آگاہ تھی۔
پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ بہت پہلے ہی اس کانفرنس کی میزبانی سے معذرت کر لیتا،اب 23 اگست کو وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے نئی دہلی جانا ہے،جہاں انھوں نے اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات کرنا ہے،دیکھا جائے تو دونوں ملکوں کے درمیان ایک بار پھر تلخی پیدا ہو چکی ہے،کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر حالات کشیدہ ہیں،ایسی صورت میں دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات سے کوئی بریک تھرو ہوتا نظر نہیں آتا۔
پاکستان نے مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کو دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس میں بلانے کے بھارتی مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے سی پی اے کانفرنس منسوخ کرنیکا اعلان کیا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ کشمیر کے معاملہ پر پاکستان کسی قیمت پر کوئی لچک نہیں دکھا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن نے اسپیکر مقبوضہ کشمیر اسمبلی کو مدعو کرنے کا کہا تھا، جس پر پاکستان نے اعتراض کرتے ہوئے دولت مشترکہ کی پارلیمانی کانفرنس کی میزبانی سے معذرت کر لی ہے۔
پاکستان نے یہ اقدام اصولی بنیادوں پر اٹھایا ہے۔ اس کو دنیا بھر میں محسوس کیا جائے گا اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا موقع ملے گا گو بھارت کی معاندانہ سفارت کاری قدم قدم پر ہمارا راستہ کاٹے گی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں ایاز صادق نے کہا بھارت کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ آ رہا تھا کہ اسپیکر مقبوضہ کشمیر اسمبلی کو بھی کانفرنس میں مدعو کیا جائے، دولت مشترکہ لندن سیکریٹریٹ سے بھی فون آیا تھا کہ مگر میں نے ان کو جواب دیا کہ اگراسپیکر مقبوضہ کشمیر اسمبلی کو بلانا شرط ہے تو ہم کانفرنس کی میزبانی نہیں کر سکتے۔31 اگست یا یکم ستمبر کو نیویارک میں اسپیکرز کانفرنس ہو رہی ہے، وہاں مسئلہ کشمیر بھرپور انداز میں اجاگر کریں گے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں 30 ستمبر سے 8 اکتوبر تک ہونے والی دولت مشترکہ کی 61 ویں پارلیمانی کانفرنس کی میزبانی کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر بات چیت کریگا، بھارت اگر دہشتگردی کے الزامات کے بجائے تعاون پر زور دے تو اس سے پورے خطے کو فائدہ ہو گا، بھارت پر واضح کر دیاکہ حریت رہنماؤں سے ملاقات معمول کی بات ہے، اس سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے، کشمیری رہنماؤں کی گرفتاریاں افسوسناک ہیں۔
دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس کی منسوخی سے تنازعہ کشمیر ایک بار پھر لائم لائٹ میں آ گیا ہے۔ اس وقت جو صورت حال ہے،اس میں پاکستان اس پارلیمانی کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کو مدعو نہیں کر سکتا تھا،بھارتی حکومت کو اس صورت حال کا اچھی طرح علم تھا اور دولت مشترکہ بھی آگاہ تھی۔
پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ بہت پہلے ہی اس کانفرنس کی میزبانی سے معذرت کر لیتا،اب 23 اگست کو وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے نئی دہلی جانا ہے،جہاں انھوں نے اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات کرنا ہے،دیکھا جائے تو دونوں ملکوں کے درمیان ایک بار پھر تلخی پیدا ہو چکی ہے،کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر حالات کشیدہ ہیں،ایسی صورت میں دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات سے کوئی بریک تھرو ہوتا نظر نہیں آتا۔