کسان وزیر اعظم مزدور صدر بن سکتا ہے
ہم جس معاشی نظام میں زندگی گزار رہے ہیں وہ سر سے لے کر پیر تک طبقاتی ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
جمہوریت کا مطلب عوام کی حکمرانی ہے، اگر جمہوریت کا یہی مفہوم ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں 68 سالوں کے دوران جو جمہوریت رہی ہے، اس میں کبھی عوام کی حکمرانی رہی ہے؟ ہمارے جمہوری مفکرین نے جمہوریت کو اشرافیائی آمریت میں بدلنے کے لیے جس نیابتی جمہوریت کو روشناس کرایا اس نیابتی جمہوریت میں عوام کی حکمرانی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوری ملکوں میں خاص طور پر پسماندہ ملکوں کی جمہوریت میں حکمرانوں کو منتخب کرنے کے لیے جو انتخابات کرائے جاتے ہیں اس کا دلچسپ بلکہ مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ ان انتخابات میں عوام کی تعریف پر اترنے والا کوئی شخص حصہ ہی نہیں لے سکتا۔
اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ ان انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کروڑوں کے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے اور بد قسمتی سے عوام کی تعریف پر پورا اترنے والا شخص کروڑوں کا مالک نہیں بلکہ دو وقت کی روٹی کا محتاج ہوتا ہے۔ اس معاشی پستی کی وجہ سے وہ خواب میں بھی یہ سوچ نہیں سکتا کہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکے گا۔ الیکشن میں کامیابی اور حکمران بنانے کی بات تو خواب و خیال سے بھی بہت دور ہے۔
کیا یہ کوئی اتفاق کی بات ہے؟ یا کسی منظم سازش کا حصہ ہے؟ اس سوال کو سمجھنے کے لیے اس پورے معاشی نظام کو سمجھنا پڑے گا۔ ہم جس معاشی نظام میں زندگی گزار رہے ہیں وہ سر سے لے کر پیر تک طبقاتی ہے۔ اس طبقاتی نظام کی تقسیم اس طرح کی گئی ہے کہ ایک طرف وہ 90 فی صد طبقہ ہے جو دن رات محنت کر کے اتنی اجرت حاصل کرتا ہے کہ دو وقت کی روٹی پوری نہیں کر پاتا۔ دوسری طرف وہ مٹھی بھر طبقہ ہے۔
جو ملک کی آبادی کا مشکل سے 2 فی صد بنتا ہے وہ ملک کی 80 فی صد دولت پر دو دہائی سے قابض ہے اس بے ایمانی اور بددیانتی سے جمع کیے ہوئے سرمائے سے وہ خود ہی انتخابات میں حصہ نہیں لیتا بلکہ اپنی آل اولاد کو بھی انتخابات لڑاتا اور جیت جاتا ہے اس پوری مکارانہ، عیارانہ سسٹم کا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ وہ عوام جنھیں اس جمہوری نظام میں حکمران ہونا چاہیے اشرافیہ کے بددیانت امیدواروں کو اپنے ووٹ دے کر کامیاب بناتے ہیں۔ وہ پر فریب جمہوریت جن کی تعریف جمہوریت کے مفکرین نے ''عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے'' کی ہے۔
اس جمہوریت کی پہلی شرط تو سرمایہ ہے دوسری شرط اہلیت ہے۔ یعنی الیکشن جیت کر حکومت میں آنے والا یا آنے والے لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں وہ قومی اور بین الاقوامی مسائل کا ادراک رکھتے ہوں۔ دوسرے ملکوں کے حکمرانوں سے ملکی اور بین الاقوامی مسائل پر گفتگو کرنے کے اہل ہوں وغیرہ وغیرہ۔
ادھر اس 90 فی صد آبادی والے طبقے کا حال یہ ہے کہ اس طبقاتی نظام کی محافظ اشرافیہ نے تعلیم کو بھی اس طرح طبقاتی بنا دیا ہے کہ 90 فی صد طبقہ کالے پیلے سرکاری اسکولوں میں بھی بمشکل پہنچ پاتا ہے اور یہاں تعلیم حاصل کرنے کے بجائے جہالت اور برائیاں سیکھتا ہے اور جرائم پیشہ افراد کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے اس طبقے کے دو فی صد نونہال بھی اس قابل نہیں ہوتے کہ کالجوں، یونیورسٹیوں تک پہنچ سکیں، دور حکمرانی کی ضرورتیں پوری کرنے کے قابل ہو سکیں۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ 90 فی صد آبادی کو جہل کی تاریکیوں میں اس طرح دھکیل دیا جاتا ہے کہ وہ نسل در نسل اشرافیہ کو اپنے ووٹ کے ذریعے اقتدار کے محلوں میں پہنچانے کی ذمے داری پوری کرتے رہتے ہیں۔
اس 90 فی صد آبادی میں سے 2-1 فی صد نوجوان اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور کوششوں سے اس مضبوط طبقاتی حد کو پھلانگ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور حکمرانی کی صلاحیتیں بھی حاصل کر لیتے ہیں تو انھیں ان کا طبقاتی پس منظر دکھا کر حقارت سے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے کیوں کہ وہ اپنی کوششوں سے اعلیٰ تعلیم تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن انتخابات میں حصہ لینے کی پہلی شرط یعنی کروڑوں کی دولت کے مالک نہیں بن سکتے۔
اس کمی کی وجہ سے وہ اپنی اعلیٰ تعلیم اور اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ آخری صفوں میں دھکے کھاتے پھرتے ہیں اور بد دیانت طبقے کے نا اہل افراد اپنی دولت کی وجہ سے حکمرانی کی تمام شرائط پوری کر لیتے ہیں، نچلے طبقے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ، اعلیٰ صلاحیتوں، اعلیٰ کردار کے مالک نوجوانوں کو نچلے طبقے کے ''سیلف میڈ'' کا نام دے کر ہر جگہ انھیں پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے اور ایک مستقل احساس کمتری کا شکار بنا دیا جاتا ہے۔
یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ 90 فی صد اور 2 فی صد کی طبقاتی تقسیم نہ کوئی اتفاق ہے نہ کوئی حادثہ بلکہ اشرافیہ کی سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے جس کا اولین مقصد یا ضرورت 90 فی صد آبادی کو جاہل اعلیٰ تعلیم سے دور رکھنا ہے۔ ہمارے ملک میں دہرے نظام تعلیم کے خلاف آواز ''صدا بہ صحرا'' اس لیے بن جاتی ہیں کہ 90 فی صد کے حق میں اٹھنے والی ان آوازوں کے پیچھے 90 فی صد عوام کی طاقت نہیں ہوتی اور یہ آوازیں پیشہ ور سحری جگانے والوں کی آوازیں بن کر رہ جاتی ہیں۔ جو لوگ اس ملک سے اشرافیائی جمہوریت کا خاتمہ چاہتے ہیں ان کی ذمے داری ہے کہ وہ اس آواز کو اس قدر طاقتور بنائیں کہ یہ آواز حکمرانوں کے محلوں کی فصیلوں میں دراڑیں ڈال سکے۔
اور ایسا اس وقت ہی ممکن ہے جب ان حقائق کا شعور رکھنے والے گھروں کے کونے کھدروں سے نکل کر عوام کے سمندر میں آئیں اور اپنی نقار خانے میں طوطی کی آواز کو جنگی نقاروں کی آواز میں بدل دیں، اس سمت میں پیشرفت کی پہلی شرط بارش کا پہلا قطرہ بننا ہے محض کسی معجزے کے انتظار سے یہ بڑا کام نہیں ہو سکتا۔
ہماری آبادی میں 4 کروڑ سے زیادہ مزدور ہیں جن میں فارمل اور انفارمل سیکٹر میں کام کرنے والے مزدور شامل ہیں، ہماری صنعتی اشرافیہ نے جن کی سربراہی کا اعزاز ہمارے محترم وزیر اعظم کو ہے ان چار کروڑ سے زیادہ مزدوروں کو ٹھیکیداری سسٹم کے حوالے کر کے انھیں اس طرح غلاموں سے بد تر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے کہ یہ 4 کروڑ مزدور اپنے حقوق کی آواز زبان پر لانے سے بھی خوفزدہ رہتے ہیں۔
ہماری آبادی کا دوسرا بڑا حصہ کسانوں، ہاریوں کا ہے جو ملک کی آبادی کا 60 فی صد حصہ ہیں انھیں جاگیرداروں وڈیروں نے دور وسطیٰ کے غلاموں سے بد تر بنا کر رکھ دیا ہے ان بے چاروں کا حال یہ ہے کہ وہ وڈیرے سے ملنے کے لیے مدتوں انتظار کرتے ہیں اور ملنے کی باری آتی ہے تو سر جھکا کر کھڑے ہوتے ہیں اگر انھیں اعلیٰ تعلیم کے مواقعے ملیں جس کا انھیں حق ہے تو کسان وزیر اعظم اور مزدور صدر بن سکتا ہے۔
اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ ان انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کروڑوں کے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے اور بد قسمتی سے عوام کی تعریف پر پورا اترنے والا شخص کروڑوں کا مالک نہیں بلکہ دو وقت کی روٹی کا محتاج ہوتا ہے۔ اس معاشی پستی کی وجہ سے وہ خواب میں بھی یہ سوچ نہیں سکتا کہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکے گا۔ الیکشن میں کامیابی اور حکمران بنانے کی بات تو خواب و خیال سے بھی بہت دور ہے۔
کیا یہ کوئی اتفاق کی بات ہے؟ یا کسی منظم سازش کا حصہ ہے؟ اس سوال کو سمجھنے کے لیے اس پورے معاشی نظام کو سمجھنا پڑے گا۔ ہم جس معاشی نظام میں زندگی گزار رہے ہیں وہ سر سے لے کر پیر تک طبقاتی ہے۔ اس طبقاتی نظام کی تقسیم اس طرح کی گئی ہے کہ ایک طرف وہ 90 فی صد طبقہ ہے جو دن رات محنت کر کے اتنی اجرت حاصل کرتا ہے کہ دو وقت کی روٹی پوری نہیں کر پاتا۔ دوسری طرف وہ مٹھی بھر طبقہ ہے۔
جو ملک کی آبادی کا مشکل سے 2 فی صد بنتا ہے وہ ملک کی 80 فی صد دولت پر دو دہائی سے قابض ہے اس بے ایمانی اور بددیانتی سے جمع کیے ہوئے سرمائے سے وہ خود ہی انتخابات میں حصہ نہیں لیتا بلکہ اپنی آل اولاد کو بھی انتخابات لڑاتا اور جیت جاتا ہے اس پوری مکارانہ، عیارانہ سسٹم کا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ وہ عوام جنھیں اس جمہوری نظام میں حکمران ہونا چاہیے اشرافیہ کے بددیانت امیدواروں کو اپنے ووٹ دے کر کامیاب بناتے ہیں۔ وہ پر فریب جمہوریت جن کی تعریف جمہوریت کے مفکرین نے ''عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے'' کی ہے۔
اس جمہوریت کی پہلی شرط تو سرمایہ ہے دوسری شرط اہلیت ہے۔ یعنی الیکشن جیت کر حکومت میں آنے والا یا آنے والے لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں وہ قومی اور بین الاقوامی مسائل کا ادراک رکھتے ہوں۔ دوسرے ملکوں کے حکمرانوں سے ملکی اور بین الاقوامی مسائل پر گفتگو کرنے کے اہل ہوں وغیرہ وغیرہ۔
ادھر اس 90 فی صد آبادی والے طبقے کا حال یہ ہے کہ اس طبقاتی نظام کی محافظ اشرافیہ نے تعلیم کو بھی اس طرح طبقاتی بنا دیا ہے کہ 90 فی صد طبقہ کالے پیلے سرکاری اسکولوں میں بھی بمشکل پہنچ پاتا ہے اور یہاں تعلیم حاصل کرنے کے بجائے جہالت اور برائیاں سیکھتا ہے اور جرائم پیشہ افراد کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے اس طبقے کے دو فی صد نونہال بھی اس قابل نہیں ہوتے کہ کالجوں، یونیورسٹیوں تک پہنچ سکیں، دور حکمرانی کی ضرورتیں پوری کرنے کے قابل ہو سکیں۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ 90 فی صد آبادی کو جہل کی تاریکیوں میں اس طرح دھکیل دیا جاتا ہے کہ وہ نسل در نسل اشرافیہ کو اپنے ووٹ کے ذریعے اقتدار کے محلوں میں پہنچانے کی ذمے داری پوری کرتے رہتے ہیں۔
اس 90 فی صد آبادی میں سے 2-1 فی صد نوجوان اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور کوششوں سے اس مضبوط طبقاتی حد کو پھلانگ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور حکمرانی کی صلاحیتیں بھی حاصل کر لیتے ہیں تو انھیں ان کا طبقاتی پس منظر دکھا کر حقارت سے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے کیوں کہ وہ اپنی کوششوں سے اعلیٰ تعلیم تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن انتخابات میں حصہ لینے کی پہلی شرط یعنی کروڑوں کی دولت کے مالک نہیں بن سکتے۔
اس کمی کی وجہ سے وہ اپنی اعلیٰ تعلیم اور اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ آخری صفوں میں دھکے کھاتے پھرتے ہیں اور بد دیانت طبقے کے نا اہل افراد اپنی دولت کی وجہ سے حکمرانی کی تمام شرائط پوری کر لیتے ہیں، نچلے طبقے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ، اعلیٰ صلاحیتوں، اعلیٰ کردار کے مالک نوجوانوں کو نچلے طبقے کے ''سیلف میڈ'' کا نام دے کر ہر جگہ انھیں پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے اور ایک مستقل احساس کمتری کا شکار بنا دیا جاتا ہے۔
یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ 90 فی صد اور 2 فی صد کی طبقاتی تقسیم نہ کوئی اتفاق ہے نہ کوئی حادثہ بلکہ اشرافیہ کی سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے جس کا اولین مقصد یا ضرورت 90 فی صد آبادی کو جاہل اعلیٰ تعلیم سے دور رکھنا ہے۔ ہمارے ملک میں دہرے نظام تعلیم کے خلاف آواز ''صدا بہ صحرا'' اس لیے بن جاتی ہیں کہ 90 فی صد کے حق میں اٹھنے والی ان آوازوں کے پیچھے 90 فی صد عوام کی طاقت نہیں ہوتی اور یہ آوازیں پیشہ ور سحری جگانے والوں کی آوازیں بن کر رہ جاتی ہیں۔ جو لوگ اس ملک سے اشرافیائی جمہوریت کا خاتمہ چاہتے ہیں ان کی ذمے داری ہے کہ وہ اس آواز کو اس قدر طاقتور بنائیں کہ یہ آواز حکمرانوں کے محلوں کی فصیلوں میں دراڑیں ڈال سکے۔
اور ایسا اس وقت ہی ممکن ہے جب ان حقائق کا شعور رکھنے والے گھروں کے کونے کھدروں سے نکل کر عوام کے سمندر میں آئیں اور اپنی نقار خانے میں طوطی کی آواز کو جنگی نقاروں کی آواز میں بدل دیں، اس سمت میں پیشرفت کی پہلی شرط بارش کا پہلا قطرہ بننا ہے محض کسی معجزے کے انتظار سے یہ بڑا کام نہیں ہو سکتا۔
ہماری آبادی میں 4 کروڑ سے زیادہ مزدور ہیں جن میں فارمل اور انفارمل سیکٹر میں کام کرنے والے مزدور شامل ہیں، ہماری صنعتی اشرافیہ نے جن کی سربراہی کا اعزاز ہمارے محترم وزیر اعظم کو ہے ان چار کروڑ سے زیادہ مزدوروں کو ٹھیکیداری سسٹم کے حوالے کر کے انھیں اس طرح غلاموں سے بد تر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے کہ یہ 4 کروڑ مزدور اپنے حقوق کی آواز زبان پر لانے سے بھی خوفزدہ رہتے ہیں۔
ہماری آبادی کا دوسرا بڑا حصہ کسانوں، ہاریوں کا ہے جو ملک کی آبادی کا 60 فی صد حصہ ہیں انھیں جاگیرداروں وڈیروں نے دور وسطیٰ کے غلاموں سے بد تر بنا کر رکھ دیا ہے ان بے چاروں کا حال یہ ہے کہ وہ وڈیرے سے ملنے کے لیے مدتوں انتظار کرتے ہیں اور ملنے کی باری آتی ہے تو سر جھکا کر کھڑے ہوتے ہیں اگر انھیں اعلیٰ تعلیم کے مواقعے ملیں جس کا انھیں حق ہے تو کسان وزیر اعظم اور مزدور صدر بن سکتا ہے۔