کپاس کی پیداوار 12 فیصد بڑھ کر 5283 لاکھ بیلز تک جاپہنچی
پنجاب میں 9 فیصد کم پیداوار، سندھ کی پیداوار 63 فیصد اضافے سے 22 لاکھ گانٹھ ہوگئی۔
پنجاب میں 9 فیصد کم پیداوار، سندھ کی پیداوار 63 فیصد اضافے سے 22 لاکھ گانٹھ ہوگئی۔ فوٹو: فائل
کپاس کی پیداوار 15 اکتوبر تک 12.03 فیصد کے اضافے سے 52 لاکھ 83 ہزار197 گانٹھوں تک پہنچ گئی۔
پی سی جی اے سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں کپاس کی پیداوار8.89 فیصد کمی سے 30لاکھ52ہزار297 بیلز اور سندھ میں63.38 فیصد اضافے سے 22 لاکھ 30 ہزار 900گانٹھ رہی، 40 لاکھ 92 ہزاربیلزروئی ٹیکسٹائل انڈسٹری نے خریدی، 99 ہزار 648 گانٹھیں برآمد کی گئیں جبکہ جنرزکے پاس روئی کی10لاکھ 91ہزارگانٹھوں کے ذخائرہیں۔
سانگھڑ نے رواں سیزن میں سب سے زیادہ پیداوار والے علاقے کا اپنا کھویا ہوا اعزاز ایک بار پھر حاصل کرلیا جو گزشتہ سال بارشوں سے کپاس کی فصل متاثر ہونے کے باعث چھن گیا تھا، فی الوقت سانگھڑ میں کپاس کی پیداوار 10لاکھ 65ہزار 55گانٹھوں تک پہنچ چکی ہے جواس عرصے میں مجموعی پیداوار کا20فیصد جبکہ سندھ کی پیداوار کا 48 فیصد ہے۔
پی سی جی اے سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں کپاس کی پیداوار8.89 فیصد کمی سے 30لاکھ52ہزار297 بیلز اور سندھ میں63.38 فیصد اضافے سے 22 لاکھ 30 ہزار 900گانٹھ رہی، 40 لاکھ 92 ہزاربیلزروئی ٹیکسٹائل انڈسٹری نے خریدی، 99 ہزار 648 گانٹھیں برآمد کی گئیں جبکہ جنرزکے پاس روئی کی10لاکھ 91ہزارگانٹھوں کے ذخائرہیں۔
سانگھڑ نے رواں سیزن میں سب سے زیادہ پیداوار والے علاقے کا اپنا کھویا ہوا اعزاز ایک بار پھر حاصل کرلیا جو گزشتہ سال بارشوں سے کپاس کی فصل متاثر ہونے کے باعث چھن گیا تھا، فی الوقت سانگھڑ میں کپاس کی پیداوار 10لاکھ 65ہزار 55گانٹھوں تک پہنچ چکی ہے جواس عرصے میں مجموعی پیداوار کا20فیصد جبکہ سندھ کی پیداوار کا 48 فیصد ہے۔