5سال مکمل سانحہ کارساز کی ازسرنو تحقیقات کیلئے ایک اور ٹیم تشکیل

ایڈیشنل آئی جی غلام شبیر شیخ سربراہ ہونگے،2 ہفتے میں رپورٹ پیش کریگی

کراچی:وزیراعلیٰ قائم علی شاہ سانحہ کارساز کے شہدا کی یادگار پر پھول چڑھانے کے بعد فاتحہ خوانی کررہے ہیں۔ فوٹو: این این آئی

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہاہے کہ سانحہ کارسازبڑی سازشں تھی ، جس میں اندرونی اوربیرونی دونوں ہاتھ ملوث تھے۔

اسں سانحہ کی ارسرنوتحقیقات کے لیے حال ہی میں ایک اورٹیم تشکیل دی گئی ہے جوایڈیشنل آئی جی غلام شبیرشیخ کی سربراہی میں تفتیش کررہی ہے ،یہ ٹیم دو ہفتوں میںاسں حوالے سے اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کرے گی،اسں اہم کیس کی معلومات سے قوم کو جلدآگاہ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پیپلزپارٹی کی شہید چیئرپرسن جب طویل جلاوطنی ختم کرکے پاکستان آئی تھیں تو ان پر کارساز کے قریب خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں پیپلزپارٹی کے170 سے زائد کارکن جاں بحق ہوگئے تھے تاہم5 سالہ گزرنے کے باوجود پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے ہیں ،جمعرات کو صوبائی وزرا،پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے عہدیداروں اورورکروں کے ہمراہ18اکتوبر 2007کے شہدائے کارساز کی پانچویں برسی کے موقع پریادگارپرحاضری دینے کے بعدمیڈیاسے گفتگو کرتے وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ وہ اورپارٹی کے دیگررہنماوکارکنان اپنے عظیم کارکنوں اورجیالوںکوسلام پیش کرنے آئے ہیں۔


جنھوں نے18 اکتوبر 2007کوجمہوریت دشمن قوتوںکی طرف سے کیے گئے دھماکوںکے باعث اپنی جان کانذرانہ پیش کیاتھا،یہ ایک تاریخی قربانی تھی اور18اکتوبرکوملکی تاریخ میں جمہوریت کیلیے قربانی دینے والوں کی تاریخ رقم ہوئی،ہم شہیدوںکوسلام پیش کرتے ہیں،پارٹی کی طرف سے جیالوں کی جانب سے اورجمہوریت کیلئے جانوں کی قربانی دینے والوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے قائدشہید ذوالفقاربھٹواور شہید بینظیربھٹو جیسی قربانیاں کسی اورپارٹی کے رہنمانے نہیں دی ہے اورایسی مثالیں دنیا میں بہت کم ملتی ہیں۔

شہیدبینظیر کی آمد کے سلسلے میں سیکیورٹی کیلیے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی،حکومتی سطح پر محکمہ داخلہ نے انتظام کیاتھاجبکہ اس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کو بھی کہا گیاتھا کہ وہ بینظیربھٹوکے جلوس کوپوری سیکیورٹی دیں۔صوبائی وزیر بلدیات آغاسراج درانی نے کہا کہ صدرمملکت کو تجویز دی گئی ہے کہ سابق وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم کوبھی اسں کیسںمیں شامل تفتیشںکیاجائے کیونکہ انھوں نے بیان دیا تھاکہ اسں رات بارہ بجے کے بعد بینظیربھٹو واپسں لوٹ جائیں گی اور رات بارہ بجے اسٹریٹ لائٹسں بند ہونے کے بعددھماکا ہوا ، سانحہ کارساز کے شہداکی بر سی کے موقع پررقت آمیزمناظردیکھنے میں آئے۔

شہداکو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمعرات کی شام جائے حادثہ پردیے روشن کیے گئے جبکہ شہداکے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی بھی کی گئی۔دریں اثناء دیہہ مند ہاری ہاکس بے میں واقع شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ٹاؤنز اسکیم کے تحت جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کے لیے سائی کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اپنے بنیادی نعرے روٹی،کپڑا اور مکان کی تکمیل کے لیے کراچی سمیت صوبے بھر کے 10 اضلاع میں 120 گز کے 32 ہزار 31 پلاٹ غریبوں میں تقسیم کرے گی۔

اس موقع پر ڈی جی ایل ڈی اے آگا مقصود عباس نے پروجیکٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور ترقیاتی کاموں کی تفصیلات بتائی ۔اس موقع پر وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن ، وزیر بلدیات آغا سراج درانی ، وزیر اقلیتی امور ڈاکٹر موہن لال ، ارکان سندھ اسمبلی فیاض بٹ ، عمران لغاری ، امداد پتافی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صدر زرداری کی ہدایت پر کراچی میں دسمبر کے پہلے ہفتے میں دیہہ مند ہاری ہاکس بے میں20ہزارپلاٹ پیپلز پارٹی کی جانب سے غریبوں میں بلا تفریق تقسیم کیے جائیںگے جبکہ شہید چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا عوام سے وہ وعدہ پورا کیا ہے اور ترقیاتی کاموں کے تمام اخراجات حکومت سندھ برداشت کرے گی۔
Load Next Story