بھارت کا مذاکرات سے فرار کے لیے پیشگی شرائط کا ڈرامہ
مودی حکومت کا پاکستان کے بارے میں رویہ سابق بھارتی حکومتوں کی بہ نسبت جارحانہ اور غیر دوستانہ چلا آ رہا ہے۔
اگر اس خطے میں مستقل بنیادوں پر امن قائم کرنا ہے تو کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور پر بات چیت کے لیے عالمی طاقتوں کو اپنا عملی کردار ادا کرنا ہو گا۔ فوٹو: فائل
پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی امیدیں ایک بار پھر دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان عرصے سے چلے آ رہے متنازعہ امور طے کرنے کے لیے قومی سلامتی مشیروں کے نئی دہلی میں 24 اگست کو ہونے والے مذاکرات بھارت کی ہٹ دھرمی کی نذر ہو گئے ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پیشگی شرائط پر قومی سلامتی مشیروں کے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ نے ایک طرف تو یہ تسلیم کیا کہ دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام معاملات پر مذاکرات ہوں تاہم انھوں نے مذاکرات کا ایجنڈا یکطرفہ طور پر مسئلہ کشمیر کو نکال کر دہشت گردی اور لائن آف کنٹرول پر امن تک محدود کر دیا ہے۔
وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے قومی سلامتی و امور خارجہ سرتاج عزیز نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ نئی دہلی جانے کو تیار ہوں مگر بھارت کی پیشگی شرائط قبول نہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے وزارت خارجہ میں ہونے والے ایک اجلاس کے بعد کہا کہ اس بات پر مکمل اتفاق رائے موجود ہے کہ مذاکرات میں پاکستان بھارت کی کسی شرط پر مسئلہ کشمیر کو نظرانداز نہیں کر سکتا جب بھی مذاکرات ہوں گے کشمیر کا ایشو اس میں شامل ہو گا لہٰذا بھارت کی جانب سے عائد کردہ شرائط کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ موجودہ صورت حال میں پاکستانی وفد بھارت نہیں جائے گا۔
مودی حکومت کا پاکستان کے بارے میں رویہ سابق بھارتی حکومتوں کی بہ نسبت جارحانہ اور غیر دوستانہ چلا آ رہا ہے۔ سابقہ بھارتی حکومتوں کے ادوار میں پاک بھارت متنازعہ امور طے کرنے کے لیے مختلف سطح پر مذاکرات ہوتے رہے یہاں تک کہ بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان تشریف لائے اسی طرح پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف بھی نئی دہلی گئے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کی راہ ہموار کرنا تھا۔ مگر اب یوں معلوم ہوتا ہے کہ مودی سرکار ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم نہیں کرنا چاہتی۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اب تک مودی حکومت کا جو رویہ سامنے آیا ہے اس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرنے کے لیے قطعی آمادہ نہیں اور چاہتی ہے کہ پاکستان بھی مسئلہ کشمیر چھوڑ کر دیگر امور پر بات چیت کرے۔ جب بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بات چلی بھارت نے کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر انھیں سبوتاژ کیا۔ پاک بھارت خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر طے پانے والے مذاکرات بھی بھارت نے یہ کہہ کر نہ ہونے دیے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر نے کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کیوں کی۔
جولائی میں روسی شہر اوفا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر پاک بھارت وزرائے اعظم کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیر متنازعہ معاملات پر بات چیت کے لیے ملاقات کریں گے مگراب بھارت نے اپنی پیشگی شرائط کا ڈرامہ رچاتے ہوئے ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش کی ہے اور اس نے ان شرائط میں کہا ہے کہ مذاکرات دہشت گردی اور لائن آف کنٹرول پر امن تک محدود رہیں گے کشمیر کے مسئلہ پر کوئی بات نہیں ہوگی۔ بھارت کے اس رویے پر سرتاج عزیز نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دوسرا موقع ہے کہ بھارت کی جانب سے حریت رہنماؤں سے ملاقات کو ایشو بنا کر مذاکرات منسوخ کیے گئے ہیں۔
پاکستان کی بیس سال سے روایت رہی ہے کہ جب بھی دہلی کا دورہ ہوتا ہے حریت رہنماؤں سے ملاقات ہوتی ہے' وہ اب بھی دہلی جانے کے لیے تیار ہیں لیکن کسی شرط کے بغیر' پاکستان بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام دیرینہ حل طلب معاملات پر بات چیت کرنا چاہتا ہے' کشمیر بنیادی مسئلہ ہے اس کے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کا موقف بالکل درست ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جائے گا تب تک پاک بھارت تعلقات میں بہتری نہیں آ سکتی کیونکہ یہ ہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ کا باعث بنا ہوا ہے اور اسی مسئلے پر دونوں کے درمیان جنگیں ہو چکی ہیں اور اب بھی کنٹرول لائن پر ہونے والی فائرنگ سے جنم لینے والی کشیدگی سے کسی نئی جنگ کے خطرات منڈلانے لگتے ہیں۔
حیرت انگیز امر ہے کہ جب بھی مذاکرات کی بات چلتی ہے تو سرحدوں پر بھارت کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ بی بی سی کے مطابق بھارتی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارت اقتصادی اور فوجی اعتبار سے پاکستان سے زیادہ مضبوط ہے لہٰذا بے نتیجہ مذاکرات کے بجائے کسی دوسرے آپشن پر توجہ دی جائے یہ آپشن جنگ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر مودی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ اقتصادی اور فوجی لحاظ سے زیادہ طاقتور ہونے کے باعث پاکستان کو دباؤ میں لا سکتی ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ بھارت کے ہٹ دھرمی کے رویے کے تناظر میں عالمی طاقتیں بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اگر اس خطے میں مستقل بنیادوں پر امن قائم کرنا ہے تو کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور پر بات چیت کے لیے عالمی طاقتوں کو اپنا عملی کردار ادا کرنا ہو گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پیشگی شرائط پر قومی سلامتی مشیروں کے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ نے ایک طرف تو یہ تسلیم کیا کہ دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام معاملات پر مذاکرات ہوں تاہم انھوں نے مذاکرات کا ایجنڈا یکطرفہ طور پر مسئلہ کشمیر کو نکال کر دہشت گردی اور لائن آف کنٹرول پر امن تک محدود کر دیا ہے۔
وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے قومی سلامتی و امور خارجہ سرتاج عزیز نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ نئی دہلی جانے کو تیار ہوں مگر بھارت کی پیشگی شرائط قبول نہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے وزارت خارجہ میں ہونے والے ایک اجلاس کے بعد کہا کہ اس بات پر مکمل اتفاق رائے موجود ہے کہ مذاکرات میں پاکستان بھارت کی کسی شرط پر مسئلہ کشمیر کو نظرانداز نہیں کر سکتا جب بھی مذاکرات ہوں گے کشمیر کا ایشو اس میں شامل ہو گا لہٰذا بھارت کی جانب سے عائد کردہ شرائط کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ موجودہ صورت حال میں پاکستانی وفد بھارت نہیں جائے گا۔
مودی حکومت کا پاکستان کے بارے میں رویہ سابق بھارتی حکومتوں کی بہ نسبت جارحانہ اور غیر دوستانہ چلا آ رہا ہے۔ سابقہ بھارتی حکومتوں کے ادوار میں پاک بھارت متنازعہ امور طے کرنے کے لیے مختلف سطح پر مذاکرات ہوتے رہے یہاں تک کہ بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان تشریف لائے اسی طرح پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف بھی نئی دہلی گئے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کی راہ ہموار کرنا تھا۔ مگر اب یوں معلوم ہوتا ہے کہ مودی سرکار ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم نہیں کرنا چاہتی۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اب تک مودی حکومت کا جو رویہ سامنے آیا ہے اس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرنے کے لیے قطعی آمادہ نہیں اور چاہتی ہے کہ پاکستان بھی مسئلہ کشمیر چھوڑ کر دیگر امور پر بات چیت کرے۔ جب بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بات چلی بھارت نے کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر انھیں سبوتاژ کیا۔ پاک بھارت خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر طے پانے والے مذاکرات بھی بھارت نے یہ کہہ کر نہ ہونے دیے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر نے کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کیوں کی۔
جولائی میں روسی شہر اوفا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر پاک بھارت وزرائے اعظم کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیر متنازعہ معاملات پر بات چیت کے لیے ملاقات کریں گے مگراب بھارت نے اپنی پیشگی شرائط کا ڈرامہ رچاتے ہوئے ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش کی ہے اور اس نے ان شرائط میں کہا ہے کہ مذاکرات دہشت گردی اور لائن آف کنٹرول پر امن تک محدود رہیں گے کشمیر کے مسئلہ پر کوئی بات نہیں ہوگی۔ بھارت کے اس رویے پر سرتاج عزیز نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دوسرا موقع ہے کہ بھارت کی جانب سے حریت رہنماؤں سے ملاقات کو ایشو بنا کر مذاکرات منسوخ کیے گئے ہیں۔
پاکستان کی بیس سال سے روایت رہی ہے کہ جب بھی دہلی کا دورہ ہوتا ہے حریت رہنماؤں سے ملاقات ہوتی ہے' وہ اب بھی دہلی جانے کے لیے تیار ہیں لیکن کسی شرط کے بغیر' پاکستان بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام دیرینہ حل طلب معاملات پر بات چیت کرنا چاہتا ہے' کشمیر بنیادی مسئلہ ہے اس کے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کا موقف بالکل درست ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جائے گا تب تک پاک بھارت تعلقات میں بہتری نہیں آ سکتی کیونکہ یہ ہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ کا باعث بنا ہوا ہے اور اسی مسئلے پر دونوں کے درمیان جنگیں ہو چکی ہیں اور اب بھی کنٹرول لائن پر ہونے والی فائرنگ سے جنم لینے والی کشیدگی سے کسی نئی جنگ کے خطرات منڈلانے لگتے ہیں۔
حیرت انگیز امر ہے کہ جب بھی مذاکرات کی بات چلتی ہے تو سرحدوں پر بھارت کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ بی بی سی کے مطابق بھارتی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارت اقتصادی اور فوجی اعتبار سے پاکستان سے زیادہ مضبوط ہے لہٰذا بے نتیجہ مذاکرات کے بجائے کسی دوسرے آپشن پر توجہ دی جائے یہ آپشن جنگ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر مودی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ اقتصادی اور فوجی لحاظ سے زیادہ طاقتور ہونے کے باعث پاکستان کو دباؤ میں لا سکتی ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ بھارت کے ہٹ دھرمی کے رویے کے تناظر میں عالمی طاقتیں بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اگر اس خطے میں مستقل بنیادوں پر امن قائم کرنا ہے تو کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور پر بات چیت کے لیے عالمی طاقتوں کو اپنا عملی کردار ادا کرنا ہو گا۔