سردار ایاز صادق کا الیکشن کالعدم

خوش آیند بات یہ ہے کہ این اے 122 میں دھاندلی یا بے ضابطگی کے فیصلے کا سارا عمل آئین و قانون کےضوابط کے مطابق ہوا ہے

اصل بات یہ ہے کہ جمہوریت اور نظام کو بچانے کے لیے مظاہروں‘ جلاؤ گھیراؤ سے گریز کیا جانا چاہیے۔ فوٹو: فائل

الیکشن ٹریبونل لاہور نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے دائر انتخابی عذرداری منظور کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے انتخاب کو کالعدم قرار دیدیا اور حلقہ این اے 122 اور اس کے ذیلی صوبائی حلقہ پی پی 147 میں 60 روز میں ری پولنگ کا حکم جاری کیا ہے، سردار ایاز صادق نے فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ عمران خان کے حامیوں نے فتح کا جشن منایا اور مٹھائیاں تقسیم کرتے رہے۔

مئی 2013ء کے عام انتخابات میں لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ 122 میں عمران خان اور سردار ایاز صادق آمنے سامنے تھے۔ سردار ایاز صادق کی جیت کا اعلان کیا گیا۔ عمران نے اس جیت کے خلاف انتخابی عذرداری دائر کر رکھی تھی جس کا گزشتہ روز الیکشن ٹربیونل نے عمران خان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اس فیصلے سے برسراقتدار مسلم لیگ ن کی ساکھ کو ایک بار پھر دھچکا لگا ہے۔

ایاز صادق قومی اسمبلی کے اسپیکر بھی ہیں لہٰذا ان کے اور حکومت کے لیے یہ بڑا دھچکا ہے تاہم اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں جائے گااور وہاں حتمی فیصلہ ہو گا کہ کیا این اے122میں ری پولنگ ہو گی یا نہیں۔ الیکشن ٹربیونل کا نتیجہ حق میں آنے پر عمران خان اور تحریک انصاف کے کارکن خاصے جوش میں تھے' عمران خان نے اپنی تقریر میں الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اعلان کیا کہ اگر الیکشن کمیشن نے ان کے خط کا دو ہفتوں میں جواب نہ دیا تو وہ الیکشن کمیشن کے باہر دھرنا دیں گے۔


بہر حال خوش آیند بات یہ ہے کہ این اے 122 میں دھاندلی یا بے ضابطگی کے فیصلے کا سارا عمل آئین و قانون کے ضوابط کے مطابق ہوا ہے اور فریقین نے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو تسلیم کیا ہے۔ آگے بھی جو کچھ ہو گا' وہ آئین و قانون کے دائرے میں ہی رہے گا' اصل بات یہ ہے کہ جمہوریت اور نظام کو بچانے کے لیے مظاہروں' جلاؤ گھیراؤ سے گریز کیا جانا چاہیے۔

اب تک الیکشن ٹریبونلز نے مختلف انتخابی عذرداریوں کے فیصلے کیے ہیں اور کئی قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں دوبارہ پولنگ ہوئی ہے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ مظاہروں یا دھرنوں کے بجائے قانونی راستہ اختیار کیا جائے البتہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کا یہ کہنا درست ہے کہ الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ تقریباً ڈھائی سال بعد آیا اور اس پر ان کے 26 لاکھ روپے خرچ ہوئے' ابھی اس معاملے کا حتمی حل سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہو گا۔

اس پر کتنا وقت لگتا ہے کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ انتخابی عذرداریوں کے حوالے سے الیکشن ٹربیونلز کو پابند کیا جائے کہ وہ زیادہ سے زیادہ 30 یوم میں عذرداریوں کا فیصلہ سنائے۔ سپریم کورٹ میں اپیل کی بھی کم سے کم مدت مقرر ہونی چاہیے تا کہ الیکشن میں دھاندلی یا بے ضابطگی کا فیصلہ جلد ہو سکے تاکہ فریقین مطمئن ہو سکیں اور کسی انتہائی قدم اٹھانے کی طرف نہ جائیں۔ اگر انتخابی ٹربیونل میں دائر عذر داریوں کے فیصلے جلد ہوتے اور جلد ضمنی الیکشن ہوتے تو شاید عمران خان کو اسلام آباد میں طویل دھرنے نہ دینے پڑتے۔
Load Next Story