عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی

بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل 6 سال کی کم ترین سطح 40 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔

ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا تعین ہونا چاہیے تاکہ عوام کو زیادہ ریلیف مل سکے۔ فوٹو:فائل

بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل 6 سال کی کم ترین سطح 40 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے قیمتوں میں کمی کی وجہ تیل کی زیادہ سپلائی ہے۔ پاکستان میں بھی آیندہ ماہ سے پٹرول کے فی لیٹر نرخ میں 6 روپے 15 پیسے کمی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

ویسے تو حکومت کی اس مہربانی کی قوم احسان مند ہوگی اگر چہ کمی اتنی نہیں جتنی کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم کے نرخ میں کہیں زیادہ کمی ہوئی ہے۔ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی کمی ہو سکتی ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا اس کمی کا فائدہ عوام کو بھی ملے گا یا صرف بالا بالا ہی رہے گا۔ ویسے عقل کی بات تو یہ ہو گی کہ بار بار قیمتوں میں اضافہ یا کمی سے منڈی میں اتھل پتھل رہتی ہے جس سے ایک مخصوص حلقہ تو یقینا فائدہ اٹھا لے گا مگر اکثریت ہاتھ ملتی رہ جاتی ہے۔


زیادہ بہتر ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین سالانہ میزانیہ میں کیا جائے اور یہ قیمتیں پورا سال برقرار رہیں، اس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ مزید برآں ڈومیسٹک قیمتوں میں روپوں کے ساتھ پیسوں کا ذکر اس اعتبار سے بلا جواز ہے کہ بازار میں پیسے چلتے ہی نہیں بلکہ سرے سے ہی نا پید ہیں۔ کیا نرخ مقرر کرنے والے بزرجمہروں کو اس کا علم نہیں؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی مد میں عوام کو کتنا ریلیف دیتی ہے؟

اصولی طور پر عالمی منڈی میں ہونے والی کمی کے تناسب سے ہی ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا تعین ہونا چاہیے تاکہ عوام کو زیادہ ریلیف مل سکے۔ عموماً ہوتا یہ ہے کہ حکومت اپنے مالی مسائل پر قابو پانے کے لیے تیل کی قیمتوں میں ردوبدل کے نام پر معمولی کمی بیشی کر دیتی ہے جس کا حکومت کو تو فائدہ ہوتا ہے لیکن عوام کو ریلیف نہیں ملتا۔
Load Next Story