شام جھڑپوں اور بمباری میں141افراد ہلاک باغیوں کا وادی الدائف چھاؤنی پر حملہ

44افرادصرف معرات النعمان پر بمباری میں جاں بحق ہوئے،شام میں سربرنیکا جیسا المیہ ہوسکتاہے،اقوام متحدہ

44افرادصرف معرات النعمان پر بمباری میں جاں بحق ہوئے،شام میں سربرنیکا جیسا المیہ ہوسکتاہے،اقوام متحدہ. فوٹو : اے اہف پی فائل

شام میں جمعرات کوسرکاری فوج کی بمباری اورجھڑپوں میں کم ازکم 141افرادہلاک ہوگئے۔


جن میں 53 شہری،57 فوجی اور21 باغی فوجی شامل ہیں۔ سرکاری فضائیہ نے معرات النعمان کے قصبے پرشدیدبمباری کی جس میں عورتوں اوربچوں سمیت 44 افرادہلاک ہو گئے۔ اس بمباری میں دوگھروں اورایک مسجدکونشانہ بنایاگیاجہاں یہ لوگ پناہ لیے ہوئے تھے۔ بشارالاسدکے مخالف فوجیوں نے معرات النعمان کی نواحی چھاؤنی وادی دائف کا محاصرہ کر لیا ہے جس پرقبضہ کیلیے رات گئے تک شدیدلڑائی جاری تھی، رات کی لڑائی میں تین ٹینکوںکوتباہ کردیاگیاجبکہ چھ فوجی ہتھیار ڈال چکے تھے۔یہ چھاؤنی سرکاری فوج کے ٹینکوں کیلیے ایندھن اوردوسری اشیاء کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہے۔

بشارالاسد کی وفادارفوج کے ڈھائی سوفوجی اس چھاؤنی میں پھنسے ہوئے ہیں۔معرات النعمان دمشق کوحلب سے ملانے والی سڑک پر واقع ہے ۔اس پرقبضہ کے بعدملک کے دارالحکومت کے شمالی علاقوں سے رابطہ کٹ گیاہے۔ادھردمشق میں وزارت داخلہ کے قریب ایک خودکش حملہ ہوا ہے تاہم حکام کے بقول اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔شام میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد34ہزارسے بڑھ گئی ہے۔کم ازکم 28 ہزارافرادلاپتہ ہیں۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی سربراہ نوی پلے نے شام کی صورتحال کوانتہائی سنگین قراردیتے ہوئے کہاہے کہ یہاں ایک اورسربرنیکا کے المیہ ہوسکتاہے۔شام پراقوام متحدہ کے ایلچی لخدارابراہیمی آج (جمعہ) دمشق پہنچ رہے ہیں ۔
Load Next Story