گھر میں جب کچھ گم ہوجائے

چپلوں کی گمشدگی میں قصور کام والی مائی کا ہوتا ہے جو چپل کو صحیح جگہ پر رکھ دیتی ہے جس کی ہمیں بالکل عادت نہیں۔

چھٹی اور سب سے اہم چیز جو اب گم ہوگئی ہے، وہ ہے ہمارا ملکر بیٹھنا ہمارا ملکر دسترخوان پر کھانا.

لاہور:
گھر میں ہر دن کچھ چیزوں کے نہ ملنے کا نعرہ لگتا ہے۔ جن میں سہرِ فہرست ہے ناخن کاٹنے والا آلہ، ایک آواز اٹھتی ہے ''یہ نیل کٹر کہاں رکھا ہے؟ کسی نے دیکھا ہے''؟ یقین کریں جس نے ایک گھنٹے پہلے بھی ناخن کاٹے ہوں وہ بھی ایسا بن جائے گا جیسے اس نے ناخن اپنے دانتوں سے کاٹے ہوں، اور بقیہ لوگ ایک ہی بات کرتے ہیں۔ یہاں ہی تھا، ریک پر دیکھو، فریج پر ہوگا۔

ایک تو یہ فریج بھی کیا چیز ہے۔ اپنے اندر باسی کھانوں کا بوجھ بھی اٹھاتا ہے اور اپنے اوپر ردی اور فالتو اشیاء بھی اٹھائے گھرررر گھررر چلتا رہتا ہے۔ خیر بات ہورہی تھی ناخن تراش کی، چار چار ہونگے مگر وقت پر ایک بھی نہیں ملے گا۔ پھر اچانک ملے گا بھی تو اس وقت جب ڈھونڈنے والا ڈھوںڈ ڈھونڈ کر تھک جائے اور عین کہیں جانے کی جلدی ہو۔ پھر مجال ہے کہ کوئی یہ ماننے کو تیار ہو کہ کس نے رکھا تھا؟

دوسری چیز ہے ازاربند ڈالنے کی سلائی، یہ بھی بہت جلدی غائب ہوتی ہے ۔ بالکل بے وقعت کوڑیوں کے دام ملتی ہے مگر جب ضرورت ہو تب نہیں ملے گی۔ آپ چیخ چیخ کر تھک جائیں، پاجامہ، شلوار اور ازاربند ہاتھ میں لئے گھر کا چپہ چپہ چھان ماریں۔ آپ کو وہ ہر چیز ملے گی جس کی آپ کو ضرورت نہیں مگر اگر کچھ نہیں ملے گا تو یہ نوابی شے ازاربند کی سلائی۔ بس پھر کیا ہے۔ اِس بار بھی کام آئے گا تو وہی بال پوائنٹ، توتھ برش یا پنسل۔

تیسری چیز ہے چابی۔ اگر یقین نہیں آرہا تو تجربہ کرلیجیے۔ کہیں جانے کے لیے آپ موٹرسائیکل پر تشریف آور ہوجائیں یا پھر گاڑی میں سوار ہونے کے لیے دروازے تک پہنچیں اور چابی نکالنے کی نیت سے جیب میں ہاتھ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کم بخت تو اِدھر اُدھر ہوگئی ہے۔ بس پھر کیا ہے۔ جلدی جلدی واپس گھر جانا پڑتا ہے، پھر گھر چھاننا پڑا ہے اور اگر غلطی سے خواتین سے پوچھ لیا جائے کہ کیا آپ نے چابی دیکھی ہے تو وہ اِس طرح مکر جاتی ہیں کہ کبھی اُنہوں نے چابی دیکھی ہی نہیں۔ آپ چابی ڈھونڈنے سے زیادہ چڑچڑانے پر زور دیں گے اور آپ کو چابی ملے گی تو بچوں کے کھلونوں کے قریب یا کسی بچے کی تین پہیوں کی سائیکل سے، جسے وہ انہی چابیوں سے اسٹارٹ کرنے کی کوشش کررہا ہوگا۔


چوتھی چیز، جس کی تلاش پر ہم اور آپ اکثر پریشان رہتے ہیں اور وہ ہے چپل۔ یا تو کبھی بائیں پیر کا چپل غائب ہوجاتا ہے یا پھر دائیں پیر کا۔ مگر اس کی تلاش کا دورانیہ تھوڑا کم ہوتا ہے کیونکہ یہ کبھی صوفے کے نیچے سے مل جاتی ہے یا سفر کرتے کرتے نامعلوم لوگوں کی ٹھوکروں کی وجہ سے سیڑھیوں سے نیچے گر جاتی ہے۔ اور جب بھی ایسا ہوتا ہےتو ہم کسی اور کی چپل پہن کر نکل پڑتے ہیں، اب ڈھونڈنے والا اپنی چپ ڈھونڈتا رہے۔ ان چپلوں کی گمشدگی کی بڑی وجوہات میں بڑا کردار کام والی مائی کا ہوتا ہے جو صفائی کرتے ہوئے چپل کو صحیح جگہ پر رکھ دیتی ہے، اور ہم عادی نہیں چیزوں کو صحیح جگہ پر رکھا جائے۔

پانچویں چیز ہے ٹی وی کا ریموٹ۔ اس کی تلاش سے پہلے بھی نعرہ لگتا ہے جو کبھی تکیہ کے نیچے ملتا ہے یا زیادہ تر اس کی پسندیدہ چھپنے کی جگہ صوفے کی دراڑ ہی ہوتی ہے اور یہ فرار اختیار کرتے کرتے صوفے کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے۔ ویسے گھر کے کچھ افراد کو اسے ہاتھ میں لیے گھومنے کا بھی شوق ہوتا ہے اور جن کا لاؤنج کچن سے جڑا ہو تو کچن سے بھی مل جاتا ہے اور اگر ٹی وی بیڈ روم میں ہے تو اس ریموٹ کی آرام کی جگہ بستر کے نیچے بھی ہوسکتی ہے۔

چھٹی اور سب سے اہم چیز جو اب گم ہوگئی ہے، وہ ہے ہمارا ملکر بیٹھنا ہمارا ملکر دسترخوان پر کھانا
''اب ہم اپنے اپنے کمروں میں کھاتے ہیں اور الگ الگ بیٹھ کر ٹی وی پروگرام دیکھتے ہیں''۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس
Load Next Story