بھارت میں کئی شمالی وزیرستان بن جائیں گے
بھارت 68 سالوں سے بے مقصد بے معنی اور بددیانتانہ مذاکرات کا جو کھیل کھیل رہا ہے،
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
لاہور:
جنوبی ایشیا میں رہنے والے دو ارب کے لگ بھگ انسان بھوک، بیماری، تعلیم اور علاج سے محرومی کے ساتھ ایک انتہائی تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہیں اگرچہ ان عذابوں کی بڑی وجہ سرمایہ دارانہ نظام کی طبقاتی تقسیم ہے، لیکن اس کی دوسری بڑی وجہ بھارت کی پاکستان کے حوالے سے وہ شرمناک پالیسی ہے، جس میں برصغیر اور جنوبی ایشیا کے عوام کے مسائل کو دیکھنے کے بجائے صرف بھارتی حکمران بھارت کی اشرافیہ کے مفادات کو دیکھ رہے ہیں۔
دورحاضرکی جمہوریتوں کا سب سے بڑا فراڈ یہ ہے کہ اس پرفریب جمہوریت کے قابض ہر غلط اورغیر منصفانہ کام قومی مفادات کے نام پر کرتے ہیں۔حالانکہ ان پرخود غلط کاموں سے عوام کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بھارت کا حکمران طبقہ کشمیر کے حوالے سے جس جابرانہ پالیسی پرکاربند ہے، اس کی سزا بھارت پاکستان اور پورے جنوبی ایشیا کے عوام کو مل رہی ہے۔ بھارت جیسا غریب اور پسماندہ ملک اپنے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ دفاع پر خرچ کررہا ہے جو بھاری سرمایہ بھارت اپنے دفاع پر خرچ کر رہا ہے اگر وہ اپنے عوام پر خرچ کرے تو بھارت کی آبادی کا 53 فیصد حصہ جو غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے اس عذاب سے چھٹکارا پاسکتا ہے۔
بھارت کی اس احمقانہ پالیسی کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے غریب ملک کو جہاں کی آبادی کا 53 فیصد حصہ بھارت کی طرح غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے، دونوں ملکوں کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ کا وہ شرمناک سلسلہ جاری ہے جس پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں میزائلوں کی تیاری اور انھیں زیادہ سے زیادہ خطرناک بنانے کا مقابلہ اس احمقانہ طریقے سے جاری ہے کہ پرتھوی، غوری، ناگ اور حتف جیسے ناموں سے زیادہ سے زیادہ دور تک مارکرنے والے میزائل دونوں ملکوں میں تیارکیے جا رہے ہیں۔کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جو بھارت کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ پسماندہ ہے، اس خطے میں نہ قدرتی وسائل دریافت ہورہے ہیں نہ یہاں صنعتی ترقی کا کوئی وجود ہے۔
بھارت کی حکومت کو کشمیر میں دہرے خرچ کا سامنا ہے، ایک توکشمیر کی اقتصادی صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے اربوں روپے خرچ کرنے پڑرہے ہیں کیونکہ اگر بھوک، بیماری اور غربت کی شرح میں ناقابل برداشت اضافہ ہوتا ہے تو کشمیری عوام کو قابو میں رکھنا بھارتی حکمرانوں کے بس سے باہر ہوجاتا ہے۔ دوسرا سب سے بڑا خرچہ کشمیر میں متعین 7 لاکھ بھارتی فوج کا ہے جس کا واحد کام کشمیری عوام کی گردنوں پر سوار رہنا ہے اور یہ فوج اپنی غیر ذمے دارانہ ذمے داریوں کو پورا کرنے کے لیے کشمیریوں پر مظالم کے جو پہاڑ توڑ رہی ہے ،دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کی مذمت کر رہی ہیں اور دنیا کی اس سب سے بڑی جمہوریت کو اس رسوائی کا سامنا ہے کہ دنیا کی یہ سب سے بڑی جمہوریت کشمیریوں کو ان کا جمہوری اظہار رائے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔
بھارت 68 سالوں سے بے مقصد بے معنی اور بددیانتانہ مذاکرات کا جو کھیل کھیل رہا ہے، اس کا سلسلہ بھی ٹوٹ گیا ہے جس کا جواز یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ ممبئی حملوں میں پاکستان کے شدت پسند گروہ ملوث ہیں جب تک ان شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی مذاکرات شروع نہیں کیے جاسکتے۔
پچھلے دنوں روس کے شہر اوفا میں بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظموں کی جو ملاقات ہوئی تھی اس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ دونوں ملکوں کے اہلکاروں کے درمیان ملاقات ہوگی جس میں نان ایشوز پر گفتگو ہوگی۔ بھارت کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ مذاکرات کے اس کھیل میں کشمیر پر بات چیت نہ ہو اوفا میں تجویز کیے ہوئے مذاکرات بھی اس لیے منسوخ ہوگئے کہ بھارت ان مبینہ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو شامل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بھارت کی کالی دیوی سشما سوراج جو بھلے سے بھارت کی وزیر خارجہ بھی ہیں فرما رہی ہیں کہ ان مبینہ مذاکرات میں صرف دہشت گردی کے مسئلے پر بات ہوگی کشمیر کے مسئلے پر کوئی بات نہیں ہوگی۔ ان کو صرف ممبئی حملے یاد ہیں۔
ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اب تک سیکڑوں ممبئی حملوں سے گزر چکا ہے کیا بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستان میں ہونے والے ان دہشت گرد حملوں سے واقف نہیں؟ ابھی پچھلے دنوں پنجاب کے وزیر داخلہ اپنے 19 دوستوں کے ساتھ جن خودکش حملوں میں جاں بحق ہوئے کیا بھارتی وزیر خارجہ ان خودکش حملوں سے واقف نہیں۔ کراچی میں ایم کیو ایم کے ایک سینئر رہنما کے سینے میں دہشت گردوں نے پانچ گولیاں اتاردیں وہ کراچی کے ایک اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں گرفتار ہیں۔ صوبہ پختونخوا میں آئے دن ہماری فوجی چوکیوں پر دہشت گردانہ حملے ہوتے ہیں جن میں اب تک سیکڑوں فوجی جوان جان سے جاچکے ہیں۔ کیا بھارت کی وزیر خارجہ دہشت گردی کے ان سانحات سے بے خبر ہیں؟
بھارتی وزیر خارجہ مذاکرات میں صرف دہشت گردی کے مسئلے پر بات کرنا چاہتی ہیں۔ ضرور کریں لیکن اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کا اس خطے میں فروغ کشمیر کے حوالے سے بھارت کی بے شرمانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ سشما سوراج کو اندازہ نہیں کہ اگر کشمیر کے مسئلے پر بھارت اپنی ہٹ دھرمانہ پالیسیوں پر چلتا رہا تو ماضی قریب میں بھارت کو آئے دن ممبئی حملوں سے زیادہ بھیانک حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور ایک وقت آئے گا جب بھارت کہے گا کہ مذاکرات میں کشمیر کا مسئلہ سرفہرست ہوگا اور اس پر بامعنی مذاکرات ہوں گے۔
بھارتی حکمران اس وقت سے ڈریں جو آنے والا ہے پاکستان کی مسلح افواج جانوں کی قربانیاں دے کر شمالی وزیرستان میں جس دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں اگر بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کے کسی منصفانہ حل پر تیار نہیں ہوتی تو بھارت کے کئی علاقے شمالی وزیرستان میں بدل جائیں گے پھر بھارتی حکمرانوں کو ممبئی حملے یاد بھی نہیں رہیں گے۔
جنوبی ایشیا میں رہنے والے دو ارب کے لگ بھگ انسان بھوک، بیماری، تعلیم اور علاج سے محرومی کے ساتھ ایک انتہائی تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہیں اگرچہ ان عذابوں کی بڑی وجہ سرمایہ دارانہ نظام کی طبقاتی تقسیم ہے، لیکن اس کی دوسری بڑی وجہ بھارت کی پاکستان کے حوالے سے وہ شرمناک پالیسی ہے، جس میں برصغیر اور جنوبی ایشیا کے عوام کے مسائل کو دیکھنے کے بجائے صرف بھارتی حکمران بھارت کی اشرافیہ کے مفادات کو دیکھ رہے ہیں۔
دورحاضرکی جمہوریتوں کا سب سے بڑا فراڈ یہ ہے کہ اس پرفریب جمہوریت کے قابض ہر غلط اورغیر منصفانہ کام قومی مفادات کے نام پر کرتے ہیں۔حالانکہ ان پرخود غلط کاموں سے عوام کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بھارت کا حکمران طبقہ کشمیر کے حوالے سے جس جابرانہ پالیسی پرکاربند ہے، اس کی سزا بھارت پاکستان اور پورے جنوبی ایشیا کے عوام کو مل رہی ہے۔ بھارت جیسا غریب اور پسماندہ ملک اپنے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ دفاع پر خرچ کررہا ہے جو بھاری سرمایہ بھارت اپنے دفاع پر خرچ کر رہا ہے اگر وہ اپنے عوام پر خرچ کرے تو بھارت کی آبادی کا 53 فیصد حصہ جو غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے اس عذاب سے چھٹکارا پاسکتا ہے۔
بھارت کی اس احمقانہ پالیسی کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے غریب ملک کو جہاں کی آبادی کا 53 فیصد حصہ بھارت کی طرح غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے، دونوں ملکوں کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ کا وہ شرمناک سلسلہ جاری ہے جس پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں میزائلوں کی تیاری اور انھیں زیادہ سے زیادہ خطرناک بنانے کا مقابلہ اس احمقانہ طریقے سے جاری ہے کہ پرتھوی، غوری، ناگ اور حتف جیسے ناموں سے زیادہ سے زیادہ دور تک مارکرنے والے میزائل دونوں ملکوں میں تیارکیے جا رہے ہیں۔کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جو بھارت کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ پسماندہ ہے، اس خطے میں نہ قدرتی وسائل دریافت ہورہے ہیں نہ یہاں صنعتی ترقی کا کوئی وجود ہے۔
بھارت کی حکومت کو کشمیر میں دہرے خرچ کا سامنا ہے، ایک توکشمیر کی اقتصادی صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے اربوں روپے خرچ کرنے پڑرہے ہیں کیونکہ اگر بھوک، بیماری اور غربت کی شرح میں ناقابل برداشت اضافہ ہوتا ہے تو کشمیری عوام کو قابو میں رکھنا بھارتی حکمرانوں کے بس سے باہر ہوجاتا ہے۔ دوسرا سب سے بڑا خرچہ کشمیر میں متعین 7 لاکھ بھارتی فوج کا ہے جس کا واحد کام کشمیری عوام کی گردنوں پر سوار رہنا ہے اور یہ فوج اپنی غیر ذمے دارانہ ذمے داریوں کو پورا کرنے کے لیے کشمیریوں پر مظالم کے جو پہاڑ توڑ رہی ہے ،دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کی مذمت کر رہی ہیں اور دنیا کی اس سب سے بڑی جمہوریت کو اس رسوائی کا سامنا ہے کہ دنیا کی یہ سب سے بڑی جمہوریت کشمیریوں کو ان کا جمہوری اظہار رائے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔
بھارت 68 سالوں سے بے مقصد بے معنی اور بددیانتانہ مذاکرات کا جو کھیل کھیل رہا ہے، اس کا سلسلہ بھی ٹوٹ گیا ہے جس کا جواز یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ ممبئی حملوں میں پاکستان کے شدت پسند گروہ ملوث ہیں جب تک ان شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی مذاکرات شروع نہیں کیے جاسکتے۔
پچھلے دنوں روس کے شہر اوفا میں بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظموں کی جو ملاقات ہوئی تھی اس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ دونوں ملکوں کے اہلکاروں کے درمیان ملاقات ہوگی جس میں نان ایشوز پر گفتگو ہوگی۔ بھارت کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ مذاکرات کے اس کھیل میں کشمیر پر بات چیت نہ ہو اوفا میں تجویز کیے ہوئے مذاکرات بھی اس لیے منسوخ ہوگئے کہ بھارت ان مبینہ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو شامل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بھارت کی کالی دیوی سشما سوراج جو بھلے سے بھارت کی وزیر خارجہ بھی ہیں فرما رہی ہیں کہ ان مبینہ مذاکرات میں صرف دہشت گردی کے مسئلے پر بات ہوگی کشمیر کے مسئلے پر کوئی بات نہیں ہوگی۔ ان کو صرف ممبئی حملے یاد ہیں۔
ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اب تک سیکڑوں ممبئی حملوں سے گزر چکا ہے کیا بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستان میں ہونے والے ان دہشت گرد حملوں سے واقف نہیں؟ ابھی پچھلے دنوں پنجاب کے وزیر داخلہ اپنے 19 دوستوں کے ساتھ جن خودکش حملوں میں جاں بحق ہوئے کیا بھارتی وزیر خارجہ ان خودکش حملوں سے واقف نہیں۔ کراچی میں ایم کیو ایم کے ایک سینئر رہنما کے سینے میں دہشت گردوں نے پانچ گولیاں اتاردیں وہ کراچی کے ایک اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں گرفتار ہیں۔ صوبہ پختونخوا میں آئے دن ہماری فوجی چوکیوں پر دہشت گردانہ حملے ہوتے ہیں جن میں اب تک سیکڑوں فوجی جوان جان سے جاچکے ہیں۔ کیا بھارت کی وزیر خارجہ دہشت گردی کے ان سانحات سے بے خبر ہیں؟
بھارتی وزیر خارجہ مذاکرات میں صرف دہشت گردی کے مسئلے پر بات کرنا چاہتی ہیں۔ ضرور کریں لیکن اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کا اس خطے میں فروغ کشمیر کے حوالے سے بھارت کی بے شرمانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ سشما سوراج کو اندازہ نہیں کہ اگر کشمیر کے مسئلے پر بھارت اپنی ہٹ دھرمانہ پالیسیوں پر چلتا رہا تو ماضی قریب میں بھارت کو آئے دن ممبئی حملوں سے زیادہ بھیانک حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور ایک وقت آئے گا جب بھارت کہے گا کہ مذاکرات میں کشمیر کا مسئلہ سرفہرست ہوگا اور اس پر بامعنی مذاکرات ہوں گے۔
بھارتی حکمران اس وقت سے ڈریں جو آنے والا ہے پاکستان کی مسلح افواج جانوں کی قربانیاں دے کر شمالی وزیرستان میں جس دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں اگر بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کے کسی منصفانہ حل پر تیار نہیں ہوتی تو بھارت کے کئی علاقے شمالی وزیرستان میں بدل جائیں گے پھر بھارتی حکمرانوں کو ممبئی حملے یاد بھی نہیں رہیں گے۔