ایف سی کی25 پلاٹون کابغیراسلحہ کام کرنے کاانکشاف
سینیٹ کمیٹی کا شہداکے ورثا و زخمیوںکا پیکیج دیگر فورسز کے برابرکرنے کی سفارش
سینیٹ کمیٹی کا شہداکے ورثا و زخمیوں کا پیکیج دیگر فورسز کے برابرکرنے کی سفارش ، فوٹو : فائل
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میںکمانڈنٹ فرنٹیئرکانسٹیبلری نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی25 پلاٹون بغیراسلحہ کے کام کررہی ہیں، شہداء کے ورثا کو 10 لاکھ روپے اور پنشن کے علاوہ کسی قسم کی مراعات نہیں دی جاتیں۔
کمیٹی نے وزارت داخلہ کو سفارش کی کہ فرنٹیئرکانسٹیبلری کی تمام جائزضروریات پوری کی جائیں اورشہداء کا پیکیج دیگر صوبوں اور فورسزکے برابر کیا جائے۔ کمیٹی نے ایف سی کوفنڈزکی فراہمی سے متعلق وزارت خزانہ اور داخلہ کے حکام کو آئندہ ا جلاس میں طلب کر لیا۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو چیئرمین سینیٹر طلحہ محمودکی زیرصدارت ہوا جس میں ایف سی کی کارکردگی کا جائزہ لیاگیا۔ چیئرمین کمیٹی نے وفاقی وزیرداخلہ کی اجلاس میں عدم شرکت پربرہمی کا اظہار کیا۔ کمانڈنٹ ایف سی نے کمیٹی کوبتایاکہ شورش والے علاقوں میں بغیراسلحہ کام کرنا آسان نہیں، ایف سی میں 2011ء سے بھرتیوں پر پابندی عائدہے۔
اسوقت 64 پلاٹون میں 1942 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔سیکریٹری داخلہ نے جواب میں کہا کہ ایف سی کو تمام ضروریات پوری کرنے کیلیے ساڑھے 4 ارب روپے درکار ہیں مگر وزارت خزانہ پیسے فراہم نہیں کررہی۔ قبل ازیں چیئرمین کمیٹی نے رکن سردارفتح محمدحسنی کی طرف سے ارکان پارلیمنٹ کو دفعہ 144 سے مستثنیٰ قرار دینے کے مطالبے کوذاتی نوعیت کا قرار دیکراس پرکوئی ایکشن نہ لیا اور کہاکہ کمیٹی میں قومی ایشوز پر بات کی جائے جس پرسینیٹر فتح محمدحسنی ناراض ہوکر احتجاجاً اجلاس سے واک آئوٹ کرگئے۔ آئی این پی کے مطابق ارکان کمیٹی نے کہا کہ اگردہشتگردوں کیخلاف جنگ لڑنی ہے تو ایف سی سمیت ملک کی دیگر فورسز کو درپیش مالی مشکلات کا خاتمہ کرتے ہوئے انھیں جدید ہتھیاروں سے لیس کرناہوگا۔
کمیٹی نے وزارت داخلہ کو سفارش کی کہ فرنٹیئرکانسٹیبلری کی تمام جائزضروریات پوری کی جائیں اورشہداء کا پیکیج دیگر صوبوں اور فورسزکے برابر کیا جائے۔ کمیٹی نے ایف سی کوفنڈزکی فراہمی سے متعلق وزارت خزانہ اور داخلہ کے حکام کو آئندہ ا جلاس میں طلب کر لیا۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو چیئرمین سینیٹر طلحہ محمودکی زیرصدارت ہوا جس میں ایف سی کی کارکردگی کا جائزہ لیاگیا۔ چیئرمین کمیٹی نے وفاقی وزیرداخلہ کی اجلاس میں عدم شرکت پربرہمی کا اظہار کیا۔ کمانڈنٹ ایف سی نے کمیٹی کوبتایاکہ شورش والے علاقوں میں بغیراسلحہ کام کرنا آسان نہیں، ایف سی میں 2011ء سے بھرتیوں پر پابندی عائدہے۔
اسوقت 64 پلاٹون میں 1942 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔سیکریٹری داخلہ نے جواب میں کہا کہ ایف سی کو تمام ضروریات پوری کرنے کیلیے ساڑھے 4 ارب روپے درکار ہیں مگر وزارت خزانہ پیسے فراہم نہیں کررہی۔ قبل ازیں چیئرمین کمیٹی نے رکن سردارفتح محمدحسنی کی طرف سے ارکان پارلیمنٹ کو دفعہ 144 سے مستثنیٰ قرار دینے کے مطالبے کوذاتی نوعیت کا قرار دیکراس پرکوئی ایکشن نہ لیا اور کہاکہ کمیٹی میں قومی ایشوز پر بات کی جائے جس پرسینیٹر فتح محمدحسنی ناراض ہوکر احتجاجاً اجلاس سے واک آئوٹ کرگئے۔ آئی این پی کے مطابق ارکان کمیٹی نے کہا کہ اگردہشتگردوں کیخلاف جنگ لڑنی ہے تو ایف سی سمیت ملک کی دیگر فورسز کو درپیش مالی مشکلات کا خاتمہ کرتے ہوئے انھیں جدید ہتھیاروں سے لیس کرناہوگا۔