پاکستان پر قبضے کی امریکی سازشوں پر 2ہفتے میں جواب طلب

نیٹو سپلائی، ڈرون حملوں اور اسامہ کی لاش برآمد کرنے سے متعلق دو آئینی درخواستوں کی سماعت

نیٹو سپلائی، ڈرون حملوں اور اسامہ کی لاش برآمد کرنے سے متعلق دو آئینی درخواستوں کی سماعت۔ فوٹو: فائل

انجمن اسلامی اصلاح برائے معاشرہ کے امیر حاجی گل احمدکی عدالت عالیہ سندھ میں گستاخانہ خاکوں، توہین رسالت پرمبنی امریکی فلم، پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت اور پاکستان کو توڑنے اور پاکستان پر قبضے کی امریکی سازشوں، ڈرون حملے روکنے۔

نیٹو سپلائی پر پابندی عائد کرنے اور اسامہ بن لادن کی لاش برآمد کرنے سے متعلق 2 آئینی درخواستوں کی سماعت عدالت عالیہ کے جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس فاروق علی چنہ کے بینچ میں ہوئی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ تاحال 7 جواب دہندگان کے علاوہ دیگر نے جواب داخل نہیں کیا جس پر اسٹینڈنگ کونسل دلاو رنے کہا کہ تمام محکموں کو خط لکھ دیا ہے تاہم جواب موصول نہیں ہوا، مزید وقت دیا جائے جس پر عدالت نے مزید وقت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت سے قبل کمنٹس فائل کردیے جائیں۔ درخواست گزار نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الطاف حسین اور ذوالفقار مرزا کو بذریعہ ڈاک نوٹس پہنچادیے گئے۔


تاہم ان کی طرف سے کوئی بھی پیش نہیں ہوا اور عدالت کو بتایا کہ امریکی قونصلیٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے 35 ہزار جنگجو ہمارے ساتھی ہیں جس پر متحدہ قومی موومنٹ یا حکومت نے کوئی تردید نہیں کی جبکہ ذوالفقارمرزا نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں ملک کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہونے سے متعلق اہم انکشافات کیے تھے۔

اس لیے دونوں فریقین کا عدالت میں پیش ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ امریکا کی ملک توڑنے کی پلاننگ، ڈرون حملوں، نیٹو سپلائی وغیرہ سے متعلق حکومت نے کوئی کارورائی نہیں کی جس پر عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت جاری کی کہ کہ ان سانحات سے متعلق جو بھی معلومات ہیں چاہے وہ پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ہو یا کسی اور ذرائع سے ہو عدالت میں دو ہفتوں میں جمع کروادیں کہ حکومت نے سانحہ مہران بیس اور دیگر واقعات پر کیا کارروائی کی ہے اور کیا کارروائی ہونی چاہیے۔ نیز گستاخانہ فلم سے متعلق بھی جو مواد ہو وہ عدالت میں جمع کروادیں۔
Load Next Story