اسٹاک مارکیٹس کا بحران
چینی معیشت میں سست روی سے ملکی و ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں کریش ہوگئیں
چینی معیشت میں سست روی سے ملکی و ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں کریش ہوگئیں، فوٹو:فائل
لاہور:
چینی معیشت میں سست روی سے ملکی و ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں کریش ہوگئیں جب کہ کئی عالمی ماکیٹیں بھی اس بحران سے شدید متاثر ہوئیں۔گزشتہ روز کراچی اسٹاک ایکسچینج بھی بدترین مندی کا شکار رہی۔اس صورت حال سے گھبرا کر انویسٹرز نے دھڑادھڑ اپنے حصص فروخت کرنے شروع کر دیے' جس سے مندی کی رفتار میں تیزی آ گئی' گزشتہ روزپاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ایک روزہ مندی رہی تاہم منگل کو اسٹاک مارکیٹ میں بہتری کا رجحان دیکھنے میں آیا ۔
اسٹاک مارکیٹس کا حالیہ بحران چین سے شروع ہوا ہے جس کا اثر ساری دنیا خصوصاً ایشیائی مارکیٹوں پر پڑا ہے' بعض ماہرین کا خیال ہے کہ چین کی معیشت بحران کا شکار ہو رہی ہے اور اس بحران کا اثر پوری دنیا پر پڑے گا' ادھر آئی ایم ایف کی چینی معیشت کے بارے میں سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نئے قسم کے استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے لہٰذا چین کی معیشت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
بہرحال پاکستان کے اکنامک مینجرز کو چین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کے اشاریوں پر نظر رکھنی چاہیے اور کسی بھی ملک سے کوئی بڑا اقتصادی یا تجارتی معاہدہ کرنے سے پہلے معاشی اشاریوں کا پوری احتیاط سے تجزیہ کرنا چاہیے۔ دوسرا پاکستان میں اسٹاک مارکیٹس میں سرمایہ کاری کو زیادہ محفوظ بنانے اور رسک فیکٹر کو کم کرنے کے لیے بھی قانون سازی ہونی چاہیے۔
چینی معیشت میں سست روی سے ملکی و ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں کریش ہوگئیں جب کہ کئی عالمی ماکیٹیں بھی اس بحران سے شدید متاثر ہوئیں۔گزشتہ روز کراچی اسٹاک ایکسچینج بھی بدترین مندی کا شکار رہی۔اس صورت حال سے گھبرا کر انویسٹرز نے دھڑادھڑ اپنے حصص فروخت کرنے شروع کر دیے' جس سے مندی کی رفتار میں تیزی آ گئی' گزشتہ روزپاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ایک روزہ مندی رہی تاہم منگل کو اسٹاک مارکیٹ میں بہتری کا رجحان دیکھنے میں آیا ۔
اسٹاک مارکیٹس کا حالیہ بحران چین سے شروع ہوا ہے جس کا اثر ساری دنیا خصوصاً ایشیائی مارکیٹوں پر پڑا ہے' بعض ماہرین کا خیال ہے کہ چین کی معیشت بحران کا شکار ہو رہی ہے اور اس بحران کا اثر پوری دنیا پر پڑے گا' ادھر آئی ایم ایف کی چینی معیشت کے بارے میں سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نئے قسم کے استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے لہٰذا چین کی معیشت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
بہرحال پاکستان کے اکنامک مینجرز کو چین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کے اشاریوں پر نظر رکھنی چاہیے اور کسی بھی ملک سے کوئی بڑا اقتصادی یا تجارتی معاہدہ کرنے سے پہلے معاشی اشاریوں کا پوری احتیاط سے تجزیہ کرنا چاہیے۔ دوسرا پاکستان میں اسٹاک مارکیٹس میں سرمایہ کاری کو زیادہ محفوظ بنانے اور رسک فیکٹر کو کم کرنے کے لیے بھی قانون سازی ہونی چاہیے۔