آسٹریلیا سے پاکستان تک 22 ہزار بھیڑوں کی موت کا سفر
بحرین سے سفینہ موت مسترد ہونے کے بعد پاکستانی بندرگاہ اترنے تک تعداد 11ہزار306رہ گئی
بھیڑوں کی گمشدگی کا معمہ حل نہیں ہوسکا، آسٹریلوی این جی اوز کا احتجاج۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل
آسٹریلیوی بندرگاہ Frementle سے بحری جہاز اوشین ڈروور میں شروع ہونے والا سفر 22ہزار بھیڑوں کیلیے ''موت کا سفر'' ثابت ہوا اور سفر کے 80سے زائد روز گزرجانے کے باوجود درآمدی پالیسی اور قرنطینہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درآمد کی جانے والی بھیڑوں کی صعوبتیں برقرار ہیں اور 11ہزار 306 بھیڑیں اب بھی اپنے انجام سے بے خبر ہیں۔
بحری جہاز 4اگست 2012ء کو آسٹریلیا سے روانہ ہوا اور مسقط کی پورٹ قابوس پر 6773بھیڑیں 15اگست کو آف لوڈ کی گئیں بعد ازاں بحری جہاز دوحا قطر کے لیے روانہ ہوگیا جہاں 18اگست کو 46ہزار 206 بھیڑیں آف لوڈ کی گئیں، بھیڑوں کا ''سفینہ موت'' بحرین سے مسترد کیے جانے کے بعد 3ستمبر کو پاکستانی بندرگاہ پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہوا اور بھیڑوں کی تعدادکم ہونا شروع ہوگئی۔ بحرین سے مسترد کیے جانے کے بعد پاکستان کی بندرگاہ پہنچنے تک بھیڑوں کی تعداد 22 ہزار سے کم ہوکر 20 ہزار 468 ہوگئی۔
صوبائی لیبارٹریز کی جانب سے بھیڑوں کو بیمار قرار دیے جانے کے بعد 7667بھیڑیں تلف کی گئیں جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر کی جانے والی گنتی میں 11ہزار 306بھیڑیں زندہ پائی گئیں اور 1495بھیڑیں لاپتہ قرار پائیں، اس طرح درآمد کیے جانے سے گنتی کے عمل تک مجموعی طور پر 3ہزار سے زائد بھیڑیں غائب ہوئیں جن کی گمشدگی کا معمہ ابھی تک حل نہیں ہوسکا۔ بعض حلقوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ بھیڑیں بیماری کے سبب اموات کا شکار ہوگئیں جنھیں دوران سفر اور متنازع قرنطینہ نگہداشت کے دوران ٹھکانے لگادیا گیا۔
آسٹریلیوی حکام اور جانوروں کے تحفظ کی آسٹریلیوی تنظیموں نے بھیڑوں کو بے رحمی سے تلف کیے جانے اور 3ہزار سے زائد بھیڑوں کی گمشدگی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے بھیڑیں برآمد کرنے والی کمپنی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ دریں اثنا درآمد کنندگان کی پٹیشن واپس لیے جانے کے بعد آسٹریلیا میں جانوروں کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم کی سربراہ نے پاکستان میں میڈیا سے رابطہ کرکے بھیڑوں کو تلف کیے جانے کی صورت میں مویشیوں کے حقوق کے عالمی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بحری جہاز 4اگست 2012ء کو آسٹریلیا سے روانہ ہوا اور مسقط کی پورٹ قابوس پر 6773بھیڑیں 15اگست کو آف لوڈ کی گئیں بعد ازاں بحری جہاز دوحا قطر کے لیے روانہ ہوگیا جہاں 18اگست کو 46ہزار 206 بھیڑیں آف لوڈ کی گئیں، بھیڑوں کا ''سفینہ موت'' بحرین سے مسترد کیے جانے کے بعد 3ستمبر کو پاکستانی بندرگاہ پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہوا اور بھیڑوں کی تعدادکم ہونا شروع ہوگئی۔ بحرین سے مسترد کیے جانے کے بعد پاکستان کی بندرگاہ پہنچنے تک بھیڑوں کی تعداد 22 ہزار سے کم ہوکر 20 ہزار 468 ہوگئی۔
صوبائی لیبارٹریز کی جانب سے بھیڑوں کو بیمار قرار دیے جانے کے بعد 7667بھیڑیں تلف کی گئیں جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر کی جانے والی گنتی میں 11ہزار 306بھیڑیں زندہ پائی گئیں اور 1495بھیڑیں لاپتہ قرار پائیں، اس طرح درآمد کیے جانے سے گنتی کے عمل تک مجموعی طور پر 3ہزار سے زائد بھیڑیں غائب ہوئیں جن کی گمشدگی کا معمہ ابھی تک حل نہیں ہوسکا۔ بعض حلقوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ بھیڑیں بیماری کے سبب اموات کا شکار ہوگئیں جنھیں دوران سفر اور متنازع قرنطینہ نگہداشت کے دوران ٹھکانے لگادیا گیا۔
آسٹریلیوی حکام اور جانوروں کے تحفظ کی آسٹریلیوی تنظیموں نے بھیڑوں کو بے رحمی سے تلف کیے جانے اور 3ہزار سے زائد بھیڑوں کی گمشدگی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے بھیڑیں برآمد کرنے والی کمپنی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ دریں اثنا درآمد کنندگان کی پٹیشن واپس لیے جانے کے بعد آسٹریلیا میں جانوروں کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم کی سربراہ نے پاکستان میں میڈیا سے رابطہ کرکے بھیڑوں کو تلف کیے جانے کی صورت میں مویشیوں کے حقوق کے عالمی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔