پاک قازقستان تعاون معاہدے
پاکستان اور قازقستان کےدرمیان تجارت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے
چین بلاشبہ پاکستان کا ایک ایسا عظیم دوست ہے جس نے ہر مشکل مرحلے میں پاکستان کی بھرپور مدد کی ہے، وہ بھی بغیر کسی غرض اور ایجنڈے کے۔ فوٹو : پی آئی ڈی
دنیا میں کسی بھی ترقی پذیرملک کی معاشی واقتصادی ترقی اس وقت تک مستحکم اور مضبوط نہیں ہوپاتی جب تک بیرونی سرمایہ کاری کے سازگار مواقعے میسر نہ ہوں، ماضی کی ناقص پالیسیوں کے باعث پاکستان نہ صرف دہشتگردی کی لپیٹ میں رہا، بیرونی سرمایہ کاری رک گئی متعدد بحرانوں نے جنم لیا۔ملک توانائی کے شدید ترین بحران کا شکار ہوا۔الغرض مسائل کی ایک طویل فہرست ہے، موجودہ حکومت نہ صرف دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑ رہی ہے بلکہ وزیراعظم پاکستان نوازشریف ملک کو اقتصادی ومعاشی طور پر مستحکم بنانے کے لیے انتہائی پرعزم ہیں۔
اسی سلسلے میں انھوں نے متعدد ممالک کے انتہائی کامیاب دورے کیے ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں کثیر سرمایہ کاری کی راہیں ہموار ہوئی ہیں، اسی ضمن میں وسطی ایشیائی ملک قازقستان کا دو روزہ دورہ خاص اہمیت کا حامل رہا جس میں پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے اور سب سے بڑا ' بریک تھرو' اس دورے کا یہ تھا کہ قازقستان کے وزیراعظم نے پاکستان چین اقتصادی راہداری کے تحت منصوبوں کا حصہ بننے میں گہری دلچسپی کا اظہارکیا۔ پاکستان کی خطے میں جغرافیائی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔
ریل، سڑک اور فضائی روابط سے سمندر تک وسط ایشیائی ممالک کی رسائی سمندر تک آسان ہوجائے گی ، اقتصادی راہداری کا منصوبہ تکمیل تک پہنچنے سے یقینا وزیراعظم نوازشریف کا ملک کو ایشین ٹائیگر بنانے کا جو خواب ادھورا رہ گیا تھا وہ پورا ہوجائے گا ۔ دونوں ملکوں کے درمیان ٹیکسٹائل،انجینئرنگ اور تعمیرات کے شعبے میں تعاون کے وسیع مواقعے موجود ہیں۔ ویزا پالیسی پر نظر ثانی کرکے ہم قازقستان کے ساتھ تجارتی حجم کو بڑھا سکتے ہیں ۔ قازقستان میں درجہ حرارت منفی پندرہ تک گر جاتا ہے تو ایسے سرد ملک میں پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات کے بہترین مواقعے موجود ہیں ۔
تجارتی وفود کے تبادلے اور معاہدوں پر دستخط کے بعد یہ باآسانی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ پاکستانی عوام نے جو مصائب والم برداشت کیے، اب ان میں نہ صرف کمی واقع ہوگی اور ان کے لیے روزگار وترقی کے مواقعے پیدا ہونگے ، توانائی کے بحران کے حل میں مدد دینے کا عندیہ قازقستان کا ہم پر احسان ہوگا ۔دوسری جانب چین کے نائب وزیراعظم ژانگ ہاؤلی نے بیجنگ کے گریٹ ہال میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سے ملاقات کے دوران کہا کہ پاک چین اقتصادی شاہراہ کی تکمیل سے صرف چین سے ہی نہیں بلکہ دنیا کے 60 دیگر ملکوں سے بھی پاکستان کا اقتصادی، تجارتی اور معاشی رابطہ ممکن ہو سکے گا۔
چین بلاشبہ پاکستان کا ایک ایسا عظیم دوست ہے جس نے ہر مشکل مرحلے میں پاکستان کی بھرپور مدد کی ہے، وہ بھی بغیر کسی غرض اور ایجنڈے کے ۔ حال میں چین نے اربوں ڈالر کا اقتصادی پیکیج دے کر ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور اقوام عالم میں سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ دیا ہے اب یہ پاکستان کی قیادت کا فرض ہے کہ وہ اس اعتماد پر پورا اتر کر عوام کی زندگیوں میں خوشحالی لائے ۔
اسی سلسلے میں انھوں نے متعدد ممالک کے انتہائی کامیاب دورے کیے ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں کثیر سرمایہ کاری کی راہیں ہموار ہوئی ہیں، اسی ضمن میں وسطی ایشیائی ملک قازقستان کا دو روزہ دورہ خاص اہمیت کا حامل رہا جس میں پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے اور سب سے بڑا ' بریک تھرو' اس دورے کا یہ تھا کہ قازقستان کے وزیراعظم نے پاکستان چین اقتصادی راہداری کے تحت منصوبوں کا حصہ بننے میں گہری دلچسپی کا اظہارکیا۔ پاکستان کی خطے میں جغرافیائی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔
ریل، سڑک اور فضائی روابط سے سمندر تک وسط ایشیائی ممالک کی رسائی سمندر تک آسان ہوجائے گی ، اقتصادی راہداری کا منصوبہ تکمیل تک پہنچنے سے یقینا وزیراعظم نوازشریف کا ملک کو ایشین ٹائیگر بنانے کا جو خواب ادھورا رہ گیا تھا وہ پورا ہوجائے گا ۔ دونوں ملکوں کے درمیان ٹیکسٹائل،انجینئرنگ اور تعمیرات کے شعبے میں تعاون کے وسیع مواقعے موجود ہیں۔ ویزا پالیسی پر نظر ثانی کرکے ہم قازقستان کے ساتھ تجارتی حجم کو بڑھا سکتے ہیں ۔ قازقستان میں درجہ حرارت منفی پندرہ تک گر جاتا ہے تو ایسے سرد ملک میں پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات کے بہترین مواقعے موجود ہیں ۔
تجارتی وفود کے تبادلے اور معاہدوں پر دستخط کے بعد یہ باآسانی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ پاکستانی عوام نے جو مصائب والم برداشت کیے، اب ان میں نہ صرف کمی واقع ہوگی اور ان کے لیے روزگار وترقی کے مواقعے پیدا ہونگے ، توانائی کے بحران کے حل میں مدد دینے کا عندیہ قازقستان کا ہم پر احسان ہوگا ۔دوسری جانب چین کے نائب وزیراعظم ژانگ ہاؤلی نے بیجنگ کے گریٹ ہال میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سے ملاقات کے دوران کہا کہ پاک چین اقتصادی شاہراہ کی تکمیل سے صرف چین سے ہی نہیں بلکہ دنیا کے 60 دیگر ملکوں سے بھی پاکستان کا اقتصادی، تجارتی اور معاشی رابطہ ممکن ہو سکے گا۔
چین بلاشبہ پاکستان کا ایک ایسا عظیم دوست ہے جس نے ہر مشکل مرحلے میں پاکستان کی بھرپور مدد کی ہے، وہ بھی بغیر کسی غرض اور ایجنڈے کے ۔ حال میں چین نے اربوں ڈالر کا اقتصادی پیکیج دے کر ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور اقوام عالم میں سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ دیا ہے اب یہ پاکستان کی قیادت کا فرض ہے کہ وہ اس اعتماد پر پورا اتر کر عوام کی زندگیوں میں خوشحالی لائے ۔