کشن گنگا مذاکرات کی بھارتی پیشکش مسترد
پاکستان کواپنےموقف پرزیادہ سختی سےڈٹارہنا چاہیےتاکہ نادان پڑوسی کویہ پیغام جاسکےکہ امن کی خواہش پاکستان کی کمزوری نہیں
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اور بھارت جلد مذاکرات بحال کریں گے۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
بھارت کی مستقل نادانیوں اور بہتر تعلقات کی راہ میں حائل ہونے والے ہٹ دھرم رویے کے باعث کئی بار پاکستان کی جانب سے خلوص نیت سے شروع کیے جانے والے مذاکرات سبوتاژ ہوچکے ہیں۔
گزشتہ دنوں بھی بھارت کی جانب سے کشمیری رہنماؤں سے ملاقات نہ کرنے کی شرط نے پاکستانی وزیر خارجہ کا دورہ بھارت شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کردیا۔ یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت نے امن مذاکرات کی راہ سے پہلو تہی کی ہو لیکن موجودہ مودی سرکار پاکستان مخالفت میں کچھ زیادہ ہی سرگرم نظر آتی ہے۔ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر مقبوضہ کشمیر میں تعمیر کیے جانے والے پاور پراجیکٹس کے ڈیزائن تبدیل کرنے اور پانی کے بہاؤ کو کم کرنے کا معاملہ عالمی عدالت میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تو بھارت نے جگ ہنسائی کے پیش نظر قومی سلامتی مشیروں کی ملاقات منسوخ ہونے کے بعد پاکستان کو کشن گنگا سمیت دریائے چناب پر زیر تعمیر ہائیڈل پاور پراجیکٹس پر مذاکرات شروع کرنے کی پیش کش کی تاہم پاکستان نے پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے بغیر بھارت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات شروع کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اور بھارت جلد مذاکرات بحال کریں گے لیکن پاکستان کی جانب سے ہر بار امن مذاکرات کی ابتدا ہوتی ہے جسے بھارت اپنے ہٹ دھرم اور ''میں نہ مانوں'' رویے کے باعث ناکام بنا دیتا ہے۔
بھارت کا بڑے مسائل سے پہلوتہی کرکے دیگر ایشوز پر مذاکرات کی پیشکش کا رویہ درست قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ پاک بھارت اختلافات میں مسئلہ کشمیر بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے، نیز بھارت کی جانب سے پاکستانی دریاؤں پر بند باندھنے کا سلسلہ بھی عرصہ سے جاری ہے جو بھارت پاکستانی سرزمین کو بنجر کرنے کی سازش کے تحت کررہا ہے۔ پاکستان کو اپنے موقف پر زیادہ سختی سے ڈٹا رہنا چاہیے تاکہ نادان پڑوسی کو یہ پیغام جاسکے کہ امن کی خواہش پاکستان کی کمزوری نہیں۔
بھارت کی مستقل نادانیوں اور بہتر تعلقات کی راہ میں حائل ہونے والے ہٹ دھرم رویے کے باعث کئی بار پاکستان کی جانب سے خلوص نیت سے شروع کیے جانے والے مذاکرات سبوتاژ ہوچکے ہیں۔
گزشتہ دنوں بھی بھارت کی جانب سے کشمیری رہنماؤں سے ملاقات نہ کرنے کی شرط نے پاکستانی وزیر خارجہ کا دورہ بھارت شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کردیا۔ یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت نے امن مذاکرات کی راہ سے پہلو تہی کی ہو لیکن موجودہ مودی سرکار پاکستان مخالفت میں کچھ زیادہ ہی سرگرم نظر آتی ہے۔ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر مقبوضہ کشمیر میں تعمیر کیے جانے والے پاور پراجیکٹس کے ڈیزائن تبدیل کرنے اور پانی کے بہاؤ کو کم کرنے کا معاملہ عالمی عدالت میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تو بھارت نے جگ ہنسائی کے پیش نظر قومی سلامتی مشیروں کی ملاقات منسوخ ہونے کے بعد پاکستان کو کشن گنگا سمیت دریائے چناب پر زیر تعمیر ہائیڈل پاور پراجیکٹس پر مذاکرات شروع کرنے کی پیش کش کی تاہم پاکستان نے پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے بغیر بھارت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات شروع کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اور بھارت جلد مذاکرات بحال کریں گے لیکن پاکستان کی جانب سے ہر بار امن مذاکرات کی ابتدا ہوتی ہے جسے بھارت اپنے ہٹ دھرم اور ''میں نہ مانوں'' رویے کے باعث ناکام بنا دیتا ہے۔
بھارت کا بڑے مسائل سے پہلوتہی کرکے دیگر ایشوز پر مذاکرات کی پیشکش کا رویہ درست قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ پاک بھارت اختلافات میں مسئلہ کشمیر بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے، نیز بھارت کی جانب سے پاکستانی دریاؤں پر بند باندھنے کا سلسلہ بھی عرصہ سے جاری ہے جو بھارت پاکستانی سرزمین کو بنجر کرنے کی سازش کے تحت کررہا ہے۔ پاکستان کو اپنے موقف پر زیادہ سختی سے ڈٹا رہنا چاہیے تاکہ نادان پڑوسی کو یہ پیغام جاسکے کہ امن کی خواہش پاکستان کی کمزوری نہیں۔