آزاد بلوچستان کے مطالبہ سے دستبرداری

ناراض بلوچ رہنماؤں کی وطن واپسی ارباب حکومت اور قوم کے ہر جمہوریت پسند کے لیے ایک تحفہ ہو گا

یہ ممکنہ پیش رفت ہر اعتبارسے ملکی سیاست اور ملک گیر امن کے لیے دور رس نتائج کی حامل ہو گی۔ فوٹو: فائل

بلوچ ری پبلکن پارٹی کے سربراہ اور جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے بلوچ رہنما براہمداغ بگٹی نے بلوچستان کے مسئلے پر مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بلوچ عوام چاہتے ہیں تو وہ آزاد بلوچستان کے مطالبے سے دستبرداری کے لیے تیار ہیں۔ بدھ کو بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے معاملے میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو تسلیم کرنا ہو گا کہ ان کا طریقہ غلط تھا اور پر امن بات چیت کے لیے آگے آنا ہو گا۔

بلوچستان کی موجودہ گمبھیر صورتحال میں، جب کہ نواب اکبر بگٹی کی برسی پر بلوچستان میں شٹر ڈاؤن ہڑتال تھی، براہمداغ بگٹی کا بیان ایک ''سرپرائز'' کے طور پر منظر عام پر آیا ہے جو اسلام آباد سمیت عالمی سطح پر سفارتی و سیاسی حلقوں کے نزدیک ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا ہے۔

تاہم ابھی اس انٹرویو سے جڑے ہوئے حقائق اور مضمرات کی تصدیق ہونا باقی ہے اور یہ بھی دیکھنا ہے کہ بی ایل اے، دیگر شورش پسند تنظیمیں اور دنیا کے مختلف شہروں میں خود ساختہ جلاوطن بلوچ قوم پرست رہنما اس بیان کو کس انداز نظر سے شرف قبولیت بخشتے ہیں، جنگجوؤں میں تقسیم بڑی گہری ہے، بگٹی خانوادہ کے ایک فرزند کی طرف سے آنے والے بیان پر مری خاندان کے چشم و چراغ حیر بیار مری کا رد عمل بھی پیش نظر رکھنا ہو گا، نیشنل پارٹی کے مدبریں اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔

مگر یہ حقیقت سب کو قبول کر لینی چاہیے کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک جلاوطن بلوچ قیادت تک رسائی کے لیے جس فری ہینڈ کے طلبگار تھے وہ وفاقی حکومت اور عسکری قیادت کی طرف سے انھیں نہ صرف ملنے کی امید روشن ہوئی ہے بلکہ خاموش ڈپلومیسی اور بلوچ رہنماؤں سے رابطہ کے موثر سفارتی طریقے بھی استعمال میں لائے جانے کے شواہد بھی ملے ہیں، اس حوالہ سے سیاسی مین اسٹریم جماعتوں کے قائدین، سمیت سیاسی جماعتوں اور جرگہ عمائدین کی مشترکہ کوششوں سے بات چیت کے امکانات روشن ہیں، چیف آف جھالاوان میر ثنا اللہ زہری اور دیگر سیاست دانوں کی مساعی قابل تعریف ہے۔

ڈاکٹر مالک سے معجزہ کی توقع رکھنے والوں نے بجا طور پر کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ کو کئی طرح کے سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے، انھیں ایک طرف علیحدگی پسندوں اور ناراض بلوچوں کو قومی دارے میں لانے کا ''کوہ ہمالیہ'' سر کرنا ہے تو دوسری طرف صوبہ کو پسماندگی، غربت اور بدامنی، کے گرداب سے نکالنا ہے ۔

مگر جب تک وفاقی حکومت اور عسکری قیادت مسائل کے درست تجزیے کے ساتھ ان سے قدم سے قدم ملا کر نہیں چلے گی کوئی معجزہ ظہور پزیر نہیں ہو گا، لیکن آج براہمداغ کے حوالے سے بلوچستان کے عوام کو ایک دل افروز پیغام ملا ہے، ان کی تبدیل شدہ سوچ بلوچستان کی زمینی حقیقتوں سے جڑی ہوئی ہے،اس لیے توقع کرنی چاہیے کہ میر داؤد سلیمان، ڈاکٹر اللہ نذر سمیت دیگر 'سرمچار' اور جنگجو عناصر پاکستان کے آئینی، قانونی، سیاسی اور جغرافیائی دائرہ کار میں رہتے ہوئے حقوق پر مفاہمانہ ڈیکلیریشن کی منزل تک ضرور پہنچیں گے۔


یہ ایک عظیم بریک تھرو ہو گا۔ بلوچستان کے عوام کو بھی جینے کا حق ملنا چاہیے، جہاں غربت آسمان کو چھو رہی ہے، ناراض بلوچ رہنماؤں کی وطن واپسی ارباب حکومت اور قوم کے ہر جمہوریت پسند کے لیے ایک تحفہ ہو گا، براہمداغ ہارڈ لائنر تھے، ان کی طرف سے آزادی کے مطالبہ سے دستبرداری اور اسٹیبلشمنٹ سے نتیجہ خیز بات چیت پر آمادگی اس سمت میں باقی ماندہ سفر کو آسان بنا سکتی ہے، براہمداغ کی میڈیا گفتگو وقت کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔

نظریاتی سیاست کرنے والوں کو ادراک ہو گا کہ کہ بلوچستان میں پنجابی اور دیگر نوآبادکاروں کو نظریاتی جدوجہد کے نام پر کس افسوسناک طریقے سے قتل کیا گیا۔ آج پاکستان بلوچستان کے حوالہ سے پر امن، پائیدار اور باوقار بات چیت کے ذریعے نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔ کل بلوچستان ''میک یا بریک'' کی صورتحال سے دوچار تھا جب کہ شورش کے خاتمہ کے لیے سدرن کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ نے بے مثال کام کیا، انھوں نے مفاہمت کے لیے بھی کوششیں جاری رکھیں۔

اس میں کوئی شک نہیں عالمی میڈیا نے بلوچستان کو ایک طلسم ہوشربا کا درجہ دیا، سلیگ ہیریسن اور فریڈرک کرارے سمیت دیگر دانشوروں اور ماہرین نے بلوچستان میں شورش، بغاوت، آزادی اور حقوق کی مزاحمانہ تحریک پر عالمانہ تجزیے پیش کیے، بلاشبہ ماضی کا بلوچستان ملکی سیاست کا ایک اعصاب شکن دورانیہ ہے جس میں آمریت کی مخالفت، جمہوریت کی بحالی اور صوبائی خود مختاری کے حوالہ سے بلوچ عوام نے بڑی قربانیاں دیں، لیکن دو طرفہ بدگمانی نے بلوچستان کو امن سے دور رکھا۔

براہمداغ بگٹی نے لندن میں موجود پاکستانی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے تو کسی رابطے سے انکار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام معاملات سیاسی اور پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ ہم سے ملنا چاہیں تو ہم اس کے لیے تیار ہیں کیونکہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور مسائل کا سیاسی حل چاہتے ہیں۔

دریں اثنا وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے قوم پرست رہنما نوابزادہ براہمداغ بگٹی کے حکومت سے مذاکرات کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت خون بہہ چکا اب بلوچستان کے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت آ چکا ہے۔

ایک اطلاع کے مطابق وفاقی حکومت نے ناراض بلوچ رہنماؤں سے باضابطہ مذاکرات کے لیے ایجنڈا تیار کرنے پر مشاورت شروع کر دی ہے، ذرایع کا کہنا ہے کہ خان آف قلات میر سلمان داؤد اور براہمداغ بگٹی سمیت دیگر رہنماؤں سے رابطوں کے دور بتدریج آگے بڑھائے جائیں گے اور ان رہنماؤں کی جانب سے باضابطہ مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ دینے کے بعد گرینڈ جرگہ یاپارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ یہ ممکنہ پیش رفت ہر اعتبارسے ملکی سیاست اور ملک گیر امن کے لیے دور رس نتائج کی حامل ہو گی۔
Load Next Story