وسط ایشیاء سے تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کی ضرورت
وسط ایشیاء کی آزادریاستوں قازقستان،کرغیزستان،ازبکستان،ترکمانستان اورتاجکستان میں پاکستان کےلیےتجارت کےوسیع مواقع ہیں
پاکستان چین، قازقستان اور کرغیزستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے سے اقتصادی تعاون کو فروغ حاصل ہو گا۔ فوٹو : فائل
MUMBAI:
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے قازقستان کے دو روزہ دورے کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تجارت، معیشت، توانائی، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم کے شعبوں میں وسیع تر تعاون اور فضائی روابط کے ذریعے دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا ہے جب کہ فوجی افسروں کی تربیت کا معاہدہ بھی کیا گیا ہے۔ قازق صدر نور سلطان نذر بایوف سے ملاقات کے موقع پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کو تیل اور گیس کے شعبے میں تعاون بڑھانا چاہیے۔
وسط ایشیاء کی آزاد ریاستوں قازقستان، کرغیزستان، ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان میں پاکستان کے لیے تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں۔قدرتی وسائل، جنگلات، برف پوش پہاڑوں اور دریائی میدانوں سے مالا مال قازقستان دنیا کا نواں سب سے بڑا ملک ہے جس کا رقبہ 27 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے جو کہ مغربی یورپ کے کل رقبے سے بھی زیادہ ہے۔
دسمبر 1991ء میں سوویت یونین سے آزادی حاصل کرنے کے بعد قازقستان اپنی معیشت کی بہتری خصوصاً معدنی تیل اور اس سے متعلقہ صنعتوں کی ترقی پر توجہ دے رہا ہے جس سے پاکستان خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان تیل اور گیس کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی اور توانائی راہداری قائم کرنے کا عزم رکھتا ہے، پاکستان چین، قازقستان اور کرغیزستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے سے اقتصادی تعاون کو فروغ حاصل ہو گا۔
معاشی ماہرین کے مطابق قازقستان کا ٹیکسٹائل کا شعبہ بہت سے مسائل کا شکار ہے پاکستان کے لیے اس شعبے سے فائدہ اٹھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں جس کے لیے اسے فوری طور پر آگے بڑھنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ادویہ سازی، غذائی اجناس، انجینئرنگ کے آلات، مشینری، زرعی تحقیق اور تعمیراتی شعبوں میں بھی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
ایران اور بھارت وسط ایشیا میں بڑے پیمانے پر تجارت کررہے ہیں جب کہ وسط ایشیا کے راستے مشرقی یورپ تک وسیع تجارتی میدان موجود ہونے کے باوجود پاکستان ابھی اس سلسلے میں بہت پیچھے ہے۔ اگر وہ ان ممالک کے ساتھ اقتصادی راہداری قائم کر لیتا ہے تو اس کے لیے ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے قازقستان کے دو روزہ دورے کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تجارت، معیشت، توانائی، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم کے شعبوں میں وسیع تر تعاون اور فضائی روابط کے ذریعے دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا ہے جب کہ فوجی افسروں کی تربیت کا معاہدہ بھی کیا گیا ہے۔ قازق صدر نور سلطان نذر بایوف سے ملاقات کے موقع پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کو تیل اور گیس کے شعبے میں تعاون بڑھانا چاہیے۔
وسط ایشیاء کی آزاد ریاستوں قازقستان، کرغیزستان، ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان میں پاکستان کے لیے تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں۔قدرتی وسائل، جنگلات، برف پوش پہاڑوں اور دریائی میدانوں سے مالا مال قازقستان دنیا کا نواں سب سے بڑا ملک ہے جس کا رقبہ 27 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے جو کہ مغربی یورپ کے کل رقبے سے بھی زیادہ ہے۔
دسمبر 1991ء میں سوویت یونین سے آزادی حاصل کرنے کے بعد قازقستان اپنی معیشت کی بہتری خصوصاً معدنی تیل اور اس سے متعلقہ صنعتوں کی ترقی پر توجہ دے رہا ہے جس سے پاکستان خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان تیل اور گیس کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی اور توانائی راہداری قائم کرنے کا عزم رکھتا ہے، پاکستان چین، قازقستان اور کرغیزستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے سے اقتصادی تعاون کو فروغ حاصل ہو گا۔
معاشی ماہرین کے مطابق قازقستان کا ٹیکسٹائل کا شعبہ بہت سے مسائل کا شکار ہے پاکستان کے لیے اس شعبے سے فائدہ اٹھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں جس کے لیے اسے فوری طور پر آگے بڑھنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ادویہ سازی، غذائی اجناس، انجینئرنگ کے آلات، مشینری، زرعی تحقیق اور تعمیراتی شعبوں میں بھی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
ایران اور بھارت وسط ایشیا میں بڑے پیمانے پر تجارت کررہے ہیں جب کہ وسط ایشیا کے راستے مشرقی یورپ تک وسیع تجارتی میدان موجود ہونے کے باوجود پاکستان ابھی اس سلسلے میں بہت پیچھے ہے۔ اگر وہ ان ممالک کے ساتھ اقتصادی راہداری قائم کر لیتا ہے تو اس کے لیے ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔