این اے 154 میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم
تحریک انصاف نے 2013ء میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد چار حلقوں میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے
جب تک انتخابی اصلاحات نہیں ہوتیں انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگتے رہیں گے اور ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوتے رہیں گے۔ فوٹو: فائل
الیکشن ٹریبونل ملتان کے جج جسٹس (ر) رانا زاہد محمود نے این اے 154 لودھراں کے الیکشن میں دھاندلی اور دیگر باقاعدگیوں کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی دائر عذرداری منظور کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے ایم این اے صدیق خان بلوچ کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر تاحیات نااہل قرار دیتے ہوئے حلقہ میں دوبارہ انتخابات کا حکم دے دیا ہے۔
اس طرح خواجہ سعد رفیق' سردار ایاز صادق کے بعد صدیق بلوچ کے انتخاب کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔اس فیصلے کے بعد تحریک انصاف نے ن لیگ کے ارکان اسمبلی کو نااہل کرانے کی ہیٹرک مکمل کر لی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اکتوبر 2014ء میں نادرا نے این اے 154 میں ڈالے گئے ووٹوں کی تصدیق کے حوالے سے رپورٹ الیکشن ٹریبونل میں جمع کروائی تھی جس کے مطابق حلقے میں ڈالے گئے 2 لاکھ 18ہزار 56ووٹوں میں سے ایک لاکھ 22ہزار 113 ووٹوں کی تصدیق نہ ہو سکی۔
تحریک انصاف نے 2013ء میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد چار حلقوں میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے اور حکومت کے خلاف جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع کرنے کے بعد اسلام آباد میں دھرنا دے دیا جو 126 دن جاری رہا۔ اس طرح الیکشن ٹریبونل کے اس فیصلے کو تحریک انصاف اپنی بہت بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے۔
اس فیصلے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہمارے پولنگ کے نظام میں خامیاں موجود ہیں' ان خامیوں کے مستقل خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے انتخابی اصلاحات کی جائیں۔
انتخابی دھاندلی کے کسی بھی امکان کو ختم کرنے کے لیے بائیو میٹرک سسٹم اپنانے' الیکشن کمیشن کو مکمل بااختیار بنانے' انتخابی عملے کی تربیت کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن اورانتخابی عملے کے درمیان باہمی رابطے کے نظام کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانا چاہیے کیونکہ ان انتخابات کے حوالے سے جو بے ضابطگیاں منظرعام پر آئی ہیں ان کے مطابق انتخابی عملے کے بعض ارکان نے اپنے فرائض میں کوتاہی برتی۔ جب تک انتخابی اصلاحات نہیں ہوتیں انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگتے رہیں گے اور ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوتے رہیں گے۔
اس طرح خواجہ سعد رفیق' سردار ایاز صادق کے بعد صدیق بلوچ کے انتخاب کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔اس فیصلے کے بعد تحریک انصاف نے ن لیگ کے ارکان اسمبلی کو نااہل کرانے کی ہیٹرک مکمل کر لی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اکتوبر 2014ء میں نادرا نے این اے 154 میں ڈالے گئے ووٹوں کی تصدیق کے حوالے سے رپورٹ الیکشن ٹریبونل میں جمع کروائی تھی جس کے مطابق حلقے میں ڈالے گئے 2 لاکھ 18ہزار 56ووٹوں میں سے ایک لاکھ 22ہزار 113 ووٹوں کی تصدیق نہ ہو سکی۔
تحریک انصاف نے 2013ء میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد چار حلقوں میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے اور حکومت کے خلاف جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع کرنے کے بعد اسلام آباد میں دھرنا دے دیا جو 126 دن جاری رہا۔ اس طرح الیکشن ٹریبونل کے اس فیصلے کو تحریک انصاف اپنی بہت بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے۔
اس فیصلے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہمارے پولنگ کے نظام میں خامیاں موجود ہیں' ان خامیوں کے مستقل خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے انتخابی اصلاحات کی جائیں۔
انتخابی دھاندلی کے کسی بھی امکان کو ختم کرنے کے لیے بائیو میٹرک سسٹم اپنانے' الیکشن کمیشن کو مکمل بااختیار بنانے' انتخابی عملے کی تربیت کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن اورانتخابی عملے کے درمیان باہمی رابطے کے نظام کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانا چاہیے کیونکہ ان انتخابات کے حوالے سے جو بے ضابطگیاں منظرعام پر آئی ہیں ان کے مطابق انتخابی عملے کے بعض ارکان نے اپنے فرائض میں کوتاہی برتی۔ جب تک انتخابی اصلاحات نہیں ہوتیں انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگتے رہیں گے اور ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوتے رہیں گے۔