غیرقانونی تارکین وطن کی پے در پے ہلاکتیں

سال کے شروع سےاب تک تقریباً ڈھائی ہزار تارکین وطن ہلاکت کا شکار ہو چکےہیں یہ سب یورپ جانےکے لیے گھر سے نکلے ہوئے تھے۔

حکومت پاکستان کی انسانی اسمگلروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ فوٹو : فائل

جنگ عظیم اول کے آغاز کا جواز بننے والے یورپی ملک آسٹریا کے ایک ویران مقام پر پارک شدہ ایک ٹرک میں50 پناہ گزینوں کی لاشیں ملی ہیں۔ جب کہ لیبیا کے ساحل کے قریب پناہ گزینوں کا ایک اور بحری جہاز ڈوب گیا ہے جس پر سیکڑوں افراد سوار تھے جو دنیا کے غریب اور خانہ جنگی کا شکار ممالک سے نکل کر یورپ کے پرامن اور امیر ممالک تک جانا چاہتے تھے مگر موت نے ان کی آرزو کا خون کر دیا۔

ان اتنے بڑے حادثات کا کچھ اثر یورپی ملکوں تک بھی پہنچا ہے جہاں پر پہنچنے کی آرزو میں یہ سیکڑوں پناہ گزین موت کی وادی میں اتر گئے۔ جس متروکہ ٹرک میں 50 پناہ گزینوں کی لاشیں ملی ہیں وہ ائرکنڈیشنڈ تھا لیکن اس کا کولنگ سسٹم خراب ہو چکا تھا۔ یہ ٹرک ہنگری کی سرحد کے قریب کھڑا پایا گیا جسے گشتی پولیس نے دیکھا۔ ٹرک کے پچھلے دروازے کو کھولنے پر لاشیں نظر آئیں جو مسخ ہو چکی تھیں جس سے لگتا تھا کہ ان کی موت ہوئے چند دن گزر چکے تھے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سرحد عبور کرنے سے پہلے ہی وہ مر چکے تھے۔ جب کہ ان کو اسمگل کرنے والے پہلے ہی فرار ہو چکے ہیں۔


جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے جو ویانا میں مغربی بالقان ریاستوں کی سربراہ کانفرنس میں شریک تھیں، اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ عالمی میڈیا نے لیبیا کے سیکیورٹی افسر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سمندر میں غرق ہونے والے پناہ گزینوں کے جہاز پر سیکڑوں کی تعداد میں مسافر سوار تھے۔ ایک سو کے لگ بھگ غیر قانونی پناہ گزین بچا بھی لیے گئے ہیں جب کہ دیگر افراد کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ مسافروں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان میں پاکستانیوں کے علاوہ صحارا افریقہ' شام' مراکش اور بنگلہ دیش کے شہری شامل تھے۔

واضح رہے قبل ازیں ایک بین الاقوامی تنظیم نے پناہ گزینوں پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اس سال کے شروع سے اب تک تقریباً ڈھائی ہزار تارکین وطن ہلاکت کا شکار ہو چکے ہیں یہ سب یورپ جانے کے لیے گھر سے نکلے ہوئے تھے۔ غربت اور بدحالی سے تنگ آ کر پاکستانیوں کی بھی بڑی تعداد ترقی یافتہ ممالک کی طرف غیر قانونی ذرایع سے سفر کرتی ہے' پاکستان کی حکومت کو انسانی اسمگلروں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنی چاہیے۔

قانونی دستاویز کے ذریعے یورپ یا امریکا جانے میں کوئی برائی نہیں لیکن غیر قانونی طریقے سے جانا انتہائی خطرناک ہے اور اس میں جان جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں افریقی اور ایشیائی ممالک کے سیکڑوں باشندے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوئے' کچھ سرحد عبور کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن گئے' ان میں پاکستانی بھی شامل ہیں' یہ سب کچھ انسانی اسمگلروں کے باعث ہو رہا ہے۔ حکومت پاکستان کی انسانی اسمگلروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
Load Next Story