اسٹاک مارکیٹس کی یکجہتی
پاکستان کی تین اسٹاک ایکس چینجز کراچی، لاہور اور اسلام آباد کو یکجا کرتے ہوئے قومی اسٹاک ایکسچینج تشکیل دیدی گئی
اسٹاک ایکسچینج سرمایہ کاروں کے موڈ کا اندازہ لگانے کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے۔ فوٹو: آئی این پی/فائل
پاکستان کی تین اسٹاک ایکس چینجز کراچی، لاہور اور اسلام آباد کو یکجا کرتے ہوئے قومی اسٹاک ایکسچینج تشکیل دیدی گئی، اس سلسلے میں جمعرات کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں باقاعدہ سمجھوتے پر دستخط کیے گئے۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تو پاکستان کی اسٹاک ایکسچینجوں کو یکجا کرنے کو ''وِن وِن سچویشن'' قرار دیا ہے یعنی جیت ہی جیت یا منافع ہی منافع والی صورت حال جس سے ہماری مالیاتی حیثیت میں بین الاقوامی طور پر اضافہ ہو گا۔ گزشتہ روز کراچی' لاہور' اسلام آباد اسٹاک ایکسچینج کو متحد کرنے کی تقریب میں جس ایم او یو پر دستخط ہوئے اس کے تحت ان تینوں ایکسچینجوں کو ''سنگل اینٹٹی'' قرار دیدیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ ڈار صاحب نے کہا حکومت اسٹاک ایکسچینج کی شکل کو بہتر بنانا چاہتی ہے تا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کشش پیدا ہو۔ یہاں یہ امر بطور خاص قابل ذکر ہے کہ متذکرہ تینوں اسٹاک ایکسچینجوں کو حتمی طور پر ایک قالب میں ڈھالنے کا کام جو 15 سال کے طویل عرصہ میں بھی نہیں کیا جا سکتا تھا اب یکدم کر لیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ حکومت اقتصادی میدان میں انقلابی اصلاحات کرنا چاہتی ہے۔ وزیر خزانہ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ قومی اسٹاک ایکسچینج کے قیام سے پاکستان کو سرمائے کی عالمی منڈیوں میں نیا مقام حاصل ہو گا اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں فعال اور مسابقتی بنایا جائے گا۔ بلاشبہ پاکستان میں مضبوط، مستحکم اور معاشی لحاظ سے خود مختار ملک بننے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کی معیشت میں استحکام کا اعتراف کر رہے ہیں۔ اسٹاک ایکسچینج سرمایہ کاروں کے موڈ کا اندازہ لگانے کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے۔ یہاں ہونے والے اتار چڑھاؤ سے حکومت کی مالیاتی و اقتصادی پالیسی کا اندازہ لگایا جاتا ہے لہٰذا اسٹاک مارکیٹ کو جتنا متوازن اور منظم بنایا جائے گا' ملکی معیشت کے لیے بہتر ہو گا۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تو پاکستان کی اسٹاک ایکسچینجوں کو یکجا کرنے کو ''وِن وِن سچویشن'' قرار دیا ہے یعنی جیت ہی جیت یا منافع ہی منافع والی صورت حال جس سے ہماری مالیاتی حیثیت میں بین الاقوامی طور پر اضافہ ہو گا۔ گزشتہ روز کراچی' لاہور' اسلام آباد اسٹاک ایکسچینج کو متحد کرنے کی تقریب میں جس ایم او یو پر دستخط ہوئے اس کے تحت ان تینوں ایکسچینجوں کو ''سنگل اینٹٹی'' قرار دیدیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ ڈار صاحب نے کہا حکومت اسٹاک ایکسچینج کی شکل کو بہتر بنانا چاہتی ہے تا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کشش پیدا ہو۔ یہاں یہ امر بطور خاص قابل ذکر ہے کہ متذکرہ تینوں اسٹاک ایکسچینجوں کو حتمی طور پر ایک قالب میں ڈھالنے کا کام جو 15 سال کے طویل عرصہ میں بھی نہیں کیا جا سکتا تھا اب یکدم کر لیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ حکومت اقتصادی میدان میں انقلابی اصلاحات کرنا چاہتی ہے۔ وزیر خزانہ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ قومی اسٹاک ایکسچینج کے قیام سے پاکستان کو سرمائے کی عالمی منڈیوں میں نیا مقام حاصل ہو گا اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں فعال اور مسابقتی بنایا جائے گا۔ بلاشبہ پاکستان میں مضبوط، مستحکم اور معاشی لحاظ سے خود مختار ملک بننے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کی معیشت میں استحکام کا اعتراف کر رہے ہیں۔ اسٹاک ایکسچینج سرمایہ کاروں کے موڈ کا اندازہ لگانے کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے۔ یہاں ہونے والے اتار چڑھاؤ سے حکومت کی مالیاتی و اقتصادی پالیسی کا اندازہ لگایا جاتا ہے لہٰذا اسٹاک مارکیٹ کو جتنا متوازن اور منظم بنایا جائے گا' ملکی معیشت کے لیے بہتر ہو گا۔