اشتعال انگیزی نہیں تنازعات کے حل پر توجہ دی جائے
بھارتی فوج نے 15جون سے لے کر اب تک 140مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی ہے
بھارت کی اسٹیبلشمنٹ کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اگر وہ پاکستان کے ساتھ تمام تنازعات کو خوش اسلوبی سے طے کر لیتی ہے تو اس کا فائدہ بلا آخر بھارت کو ہی ہو گا۔ فوٹو: فائل
بھارتی سیکیورٹی فورسز ورکنگ باونڈری اور کنٹرول لائن پر کافی عرصے سے گولہ باری کر کے متعدد پاکستانی شہریوں کی ہلاکتوں کا باعث بن رہی ہیں مگر اس جمعہ پر تو حد ہی ہو گئی جب مسلسل فائرنگ اور گولاباری سے بچوں اور خواتین سمیت 9 افراد شہید اور 50 کے لگ بھگ زخمی ہو گئے، پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کر کے شدید احتجاج کیا ہے جب کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی ورکنگ باونڈری کے معائنہ کے لیے سیالکوٹ پہنچ گئے ۔
جہاں انھوں نے بھارتی جارحیت سے زخمی ہونے والے افراد کی عیادت بھی کی۔ سیالکوٹ کے سجیت گڑھ سیکٹر پر فائرنگ اور بڑے ہتھیاروں کے ساتھ گولہ باری آدھی رات کو شروع ہوئی جس کے بعد چارواہ سیکٹر اور چپراڑ سیکٹر پر بھی فائرنگ شروع کر دی گئی۔ بھارتی فورسز نے دیہاتوں اور رینجرز کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔
ہمارے دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستانی فورسز نے بھارتی فوجیوں کو ایس او پیز کو نظر انداز کرنے اور ورکنگ باؤنڈری کے قریب کھدائی سے روکنے کی کوشش کی جس پر بھارتی فوجیوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ سیکریٹری خارجہ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ ترک کرے تا کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ بھارتی فوج نے 15جون سے لے کر اب تک 140مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی ہے اور اب تک پاکستانی علاقوں میں 25 افراد شہید اور 107 زخمی ہو چکے ہیں۔چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی اور سرحد پر جارحیت میں تعلق نظر آتا ہے، وزیر اعظم نواز شریف نے بھارتی گولہ باری کی مذمت کرتے ہوئے وزارت دفاع و خارجہ سے کہا ہے کہ وہ معاملہ بھارتی ہم منصبوں کے ساتھ اٹھائیں اور سخت پیغام پہنچا دیا جائے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت غلط فہمی میں نہ رہے جنگ اب مختصر نہیں ہو گی۔
کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر جو کچھ ہو رہا ہے' اگر اس سلسلے کو بند نہ کیا گیا تو اس خطے میں کسی نئی جنگ کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا' غیر ملکی میڈیا بھی ایسی اطلاعات دے رہا ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتی ہے اور وہ جنگ کا آپشن بھی اختیار کر سکتی ہے۔ بھارتی میڈیا بھی مسلسل جنگی جنون پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ ادھر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا لب و لہجہ بھی ہمیشہ تلخ اور سخت رہا ہے' بھارت میں بی جے پی کا اقتدار ہے اور بی جے پی کے سیاسی نظریات کیا ہیں' یہ اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔
بی جے پی ہمیشہ جنگ کی باتیں کرتی رہی ہے' یوں دیکھا جائے تو اس وقت سرحدوں کی صورت حال خاصی سنگین ہے' بھارت کی اسٹیبلشمنٹ یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے اور پاک فوج کی توجہ شمال مغربی سرحد پر ہے' بھارتی پالیسی سازوں کا یہ خیال بھی ہے کہ پاکستان شاید عالمی تنہائی کا شکار ہے۔ اس لیے بھارت میں جنگ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کا ردعمل صبر و تحمل پر مبنی چلا آ رہا ہے۔ پاکستان نے بھارتی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے جو ایک مہذب اور مناسب طریقہ کار ہے۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ بھارت کے پالیسی ساز حالات کا غلط اندازہ لگا رہے ہیں۔جہاں تک پاک فوج کا شمال مغربی سرحد پر مصروف ہونے کا معاملہ ہے'تو یہ ایک معمول کی بات ہے۔ پاک فوج شمال مغرب میں برسوں سے مختلف نوعیت کے چیلنجز کا مقابلہ کرتی آ رہی ہے اور اس کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ پاک فوج میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ شمال مغرب کے ساتھ ساتھ مشرقی سرحدوں کا دفاع کر سکتی ہے۔
بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے ذہن میں جو خیالات پیدا ہو رہے ہیں' ان کا تعلق بھارت کے اندر جاری مختلف قسم کی تحریکوں سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانا بھی ہے۔ بھارت کی اسٹیبلشمنٹ کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیزی کر کے بھارت میں یہ پروپیگنڈا کر رہی ہے کہ پاکستان بھارت کے خلاف جارحیت کر رہا ہے ۔بھارت کی اسٹیبلشمنٹ بھی ابھی تک سرد جنگ کے ماحول سے باہر نہیں آئی۔اسے اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ سرحدوں پر ماحول کو گرما کر وہ بھارت کے اندرونی تضادات کو چھپا نہیں سکتی۔ اس خطے میں امن قائم کرنے کے لیے یہاں موجود تنازعات کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان کے ساتھ بھارت کا تنازعہ کیا ہے' اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔
بھارتی قیادت کو بھی پتہ ہے اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کو بھی۔ بھارت کی اسٹیبلشمنٹ کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اگر وہ پاکستان کے ساتھ تمام تنازعات کو خوش اسلوبی سے طے کر لیتی ہے تو اس کا فائدہ بلا آخر بھارت کو ہی ہو گالہٰذا وقت کا تقاضا یہ ہے کہ بھارت سرحدوں پر ماحول گرمانے کی بجائے باہمی تنازعات کے حل پر توجہ دے۔
جہاں انھوں نے بھارتی جارحیت سے زخمی ہونے والے افراد کی عیادت بھی کی۔ سیالکوٹ کے سجیت گڑھ سیکٹر پر فائرنگ اور بڑے ہتھیاروں کے ساتھ گولہ باری آدھی رات کو شروع ہوئی جس کے بعد چارواہ سیکٹر اور چپراڑ سیکٹر پر بھی فائرنگ شروع کر دی گئی۔ بھارتی فورسز نے دیہاتوں اور رینجرز کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔
ہمارے دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستانی فورسز نے بھارتی فوجیوں کو ایس او پیز کو نظر انداز کرنے اور ورکنگ باؤنڈری کے قریب کھدائی سے روکنے کی کوشش کی جس پر بھارتی فوجیوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ سیکریٹری خارجہ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ ترک کرے تا کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ بھارتی فوج نے 15جون سے لے کر اب تک 140مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی ہے اور اب تک پاکستانی علاقوں میں 25 افراد شہید اور 107 زخمی ہو چکے ہیں۔چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی اور سرحد پر جارحیت میں تعلق نظر آتا ہے، وزیر اعظم نواز شریف نے بھارتی گولہ باری کی مذمت کرتے ہوئے وزارت دفاع و خارجہ سے کہا ہے کہ وہ معاملہ بھارتی ہم منصبوں کے ساتھ اٹھائیں اور سخت پیغام پہنچا دیا جائے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت غلط فہمی میں نہ رہے جنگ اب مختصر نہیں ہو گی۔
کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر جو کچھ ہو رہا ہے' اگر اس سلسلے کو بند نہ کیا گیا تو اس خطے میں کسی نئی جنگ کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا' غیر ملکی میڈیا بھی ایسی اطلاعات دے رہا ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتی ہے اور وہ جنگ کا آپشن بھی اختیار کر سکتی ہے۔ بھارتی میڈیا بھی مسلسل جنگی جنون پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ ادھر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا لب و لہجہ بھی ہمیشہ تلخ اور سخت رہا ہے' بھارت میں بی جے پی کا اقتدار ہے اور بی جے پی کے سیاسی نظریات کیا ہیں' یہ اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔
بی جے پی ہمیشہ جنگ کی باتیں کرتی رہی ہے' یوں دیکھا جائے تو اس وقت سرحدوں کی صورت حال خاصی سنگین ہے' بھارت کی اسٹیبلشمنٹ یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے اور پاک فوج کی توجہ شمال مغربی سرحد پر ہے' بھارتی پالیسی سازوں کا یہ خیال بھی ہے کہ پاکستان شاید عالمی تنہائی کا شکار ہے۔ اس لیے بھارت میں جنگ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کا ردعمل صبر و تحمل پر مبنی چلا آ رہا ہے۔ پاکستان نے بھارتی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے جو ایک مہذب اور مناسب طریقہ کار ہے۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ بھارت کے پالیسی ساز حالات کا غلط اندازہ لگا رہے ہیں۔جہاں تک پاک فوج کا شمال مغربی سرحد پر مصروف ہونے کا معاملہ ہے'تو یہ ایک معمول کی بات ہے۔ پاک فوج شمال مغرب میں برسوں سے مختلف نوعیت کے چیلنجز کا مقابلہ کرتی آ رہی ہے اور اس کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ پاک فوج میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ شمال مغرب کے ساتھ ساتھ مشرقی سرحدوں کا دفاع کر سکتی ہے۔
بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے ذہن میں جو خیالات پیدا ہو رہے ہیں' ان کا تعلق بھارت کے اندر جاری مختلف قسم کی تحریکوں سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانا بھی ہے۔ بھارت کی اسٹیبلشمنٹ کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیزی کر کے بھارت میں یہ پروپیگنڈا کر رہی ہے کہ پاکستان بھارت کے خلاف جارحیت کر رہا ہے ۔بھارت کی اسٹیبلشمنٹ بھی ابھی تک سرد جنگ کے ماحول سے باہر نہیں آئی۔اسے اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ سرحدوں پر ماحول کو گرما کر وہ بھارت کے اندرونی تضادات کو چھپا نہیں سکتی۔ اس خطے میں امن قائم کرنے کے لیے یہاں موجود تنازعات کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان کے ساتھ بھارت کا تنازعہ کیا ہے' اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔
بھارتی قیادت کو بھی پتہ ہے اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کو بھی۔ بھارت کی اسٹیبلشمنٹ کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اگر وہ پاکستان کے ساتھ تمام تنازعات کو خوش اسلوبی سے طے کر لیتی ہے تو اس کا فائدہ بلا آخر بھارت کو ہی ہو گالہٰذا وقت کا تقاضا یہ ہے کہ بھارت سرحدوں پر ماحول گرمانے کی بجائے باہمی تنازعات کے حل پر توجہ دے۔