ڈبلیو ٹی او کا تجارتی معاہدہ اور پاکستان
پاکستان ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کے تجارتی سہولت کے معاہدے((TFAپر دستخط کرنے کے لیے سوچ رہا ہے
دور جدید کا تقاضہ ہے کہ تجارت پر تمام پابندیاں ختم کی جانی چاہئیں تا کہ تمام اشیا تمام انسانوں کو میسر آ سکیں ۔ فوٹو: فائل
پاکستان ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کے تجارتی سہولت کے معاہدے((TFAپر دستخط کرنے کے لیے سوچ رہا ہے۔اس معاہدے کے ذریعے پاکستان کو اپنے برآمدی مال کی تیز تر ترسیل کی سہولتیں حاصل ہو جائیں گی اور اس مال کی کلیئرنس بھی بسرعت ہو گی جب کہ ٹرانزٹ پر بھی مال کے تحفظ کی ضمانت حاصل ہو جائے گی ۔اگر پاکستان ٹی ایف اے(Trade Facilitation Agreement)کی منظوری دے دیتا ہے تو وہ اس معاہدے پر دستخط کرنے والا ڈبلیو ٹی او کا 13واں جب کہ جنوبی ایشیاء کا پہلا ملک ہے۔ اس معاہدے کی وجہ سے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر قدرے زیادہ پذیرائی ملے گی اور عالمی تجارتی منڈیوں تک رسائی ممکن ہوسکے گی۔
ڈبلیو ٹی او کے اراکین کی تعداد دسمبر2013 میں 161 تھی جن کا انڈونیشیا کے جزائر بالی میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں ایک ''بالی پیکیج'' منظور کیا گیا۔ اس کا اطلاق کم از کم 108 اراکین کی طرف سے توثیق پر ہو گا۔ اس صورت میں TFA عمل میں آ جائے گا ۔اس وقت تک جو اراکین معاہدے کی توثیق کر چکے ہیں ان میں نائیجیر، نکاراگوا، کوریا، ہانگ کانگ، سنگا پور، چین، امریکا، ماریشس، ملائیشیا، جاپان، آسٹریلیا اور بوسٹا وانا شامل ہیں۔ دور جدید کا تقاضہ ہے کہ تجارت پر تمام پابندیاں ختم کی جانی چاہئیں تا کہ تمام اشیا تمام انسانوں کو میسر آ سکیں ۔
ڈبلیو ٹی او کے اراکین کی تعداد دسمبر2013 میں 161 تھی جن کا انڈونیشیا کے جزائر بالی میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں ایک ''بالی پیکیج'' منظور کیا گیا۔ اس کا اطلاق کم از کم 108 اراکین کی طرف سے توثیق پر ہو گا۔ اس صورت میں TFA عمل میں آ جائے گا ۔اس وقت تک جو اراکین معاہدے کی توثیق کر چکے ہیں ان میں نائیجیر، نکاراگوا، کوریا، ہانگ کانگ، سنگا پور، چین، امریکا، ماریشس، ملائیشیا، جاپان، آسٹریلیا اور بوسٹا وانا شامل ہیں۔ دور جدید کا تقاضہ ہے کہ تجارت پر تمام پابندیاں ختم کی جانی چاہئیں تا کہ تمام اشیا تمام انسانوں کو میسر آ سکیں ۔