نئی کارساز کمپنیوں کو درآمد پر ٹیکس چھوٹ ملنے کاامکان

نئی پانچ سالہ آٹوموٹو ڈیولپمنٹ پالیسی میں آٹوموٹو انڈسٹری میں سرمایہ کاری کی چار کٹیگریز متعارف کروائی ہیں

وفاقی حکومت نے نئی پانچ سالہ آٹوموٹو ڈیولپمنٹ پالیسی میں آٹوموٹو انڈسٹری میں سرمایہ کاری کی چار کٹیگریز متعارف کروائی ہیں۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں800 سی سی اور اس سے زائد کی مسافر گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کرنیوالی نئی کمپنیوں کو پلانٹس، مشینری و دیگر آلات کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی سو فیصد چھوٹ دیے جانیکا امکان ہے۔


جبکہ مقامی سطح پر تیارنہ ہونیوالے سی کے ڈی پارٹس چار سال تک 10 فیصد کسٹمزڈیوٹی اور مقامی سطح پر تیار ہونیوالے سی کے ڈی پارٹس تین سال کیلیے 25 فیصد کی کسٹمز ڈیوٹی پر درآمد کرنے کی اجازت دیے جانیکاا مکان ہے جبکہ 800 سی سی سے کم کی کاروں کیلیے تمام پارٹس تین سال تک دس فیصد کی رعایتی کسٹمز ڈیوٹی پر درآمد کرنے کی اجازت دیے جانیکا امکان ہے۔ البتہ موجودہ آٹومینوفیکچرنگ کمپنیوں نے موجودہ کاروباری یونٹس میں توسیع کیلیے نئی سرمایہ کاری پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں مراعات دینے کی مخالفت کردی ہے۔

اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے نئی پانچ سالہ آٹوموٹو ڈیولپمنٹ پالیسی 2015-20 کا مسودہ منظوری کیلیے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) کے آئندہ اجلاس میں منظوری کیلیے پیش کیا جائے گا۔ دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت نے نئی پانچ سالہ آٹوموٹو ڈیولپمنٹ پالیسی میں آٹوموٹو انڈسٹری میں سرمایہ کاری کی چار کٹیگریز متعارف کروائی ہیں جن میں سر فہرست آٹو سیکٹر میں گاڑیاں بنانے والی نئی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی اجازت دینے سے متعلق ہے جسے گرین فیلڈ انویسٹمنٹ کا نام دیا گیا ہے اور اسے کٹیگری اے قرار دیاگیا ہے۔
Load Next Story