راج گیری بھی سٹّا ہے لگا تو واہ نہیں توآہ لاہور ایک جاگتا شہر ہے اسلام آباد شام ہی سے اونگھنے لگتا ہے
پڑے لکھوں کو فاقے کرتے دیکھتا ہوں تو تعلیم سے خوف آنے لگتا ہے، ہر حال مست معمار عدالت حسین کی دل چسپ باتیں۔
عدالت حسین۔ فوٹو: فائل
لاہور:
سینتالیس سالہ عدالت حسین وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقہ چک شہزاد کا رہنے والا ہے۔
گذشتہ 25 سال سے راج گیری کا کام کر رہا ہے، اب تک دو سو سے زیادہ گھر بنا چکا ہے اور مزید گھر بنانے کا خواہش مند ہے۔ عدالت حسین نے بتایا کہ راج گیری ہمارا آبائی پیشہ نہیں، والد صاحب گھوڑا ریڑھا چلاتے تھے، جب ساٹھ کی دہائی میں اسلام آباد شہر بسانے کا کام شروع ہوا تو میں اُس وقت نومولود تھا۔ سرکار نے ہماری زمینیں چھین لیں، گھر بار ختم ہو گیا، بڑی مشکل سے والد صاحب نے چک شہزاد میں چند مرلے زمین حاصل کی۔
جب گھر تعمیر کرنا شروع کیا تو میرے بڑے بھائی عاشق حسین نے اُسی دوران راج گیری کا کام سیکھ لیا اس کے بعد ان سے میں نے سیکھا اور بس پھر اس میں یوں غرق ہوے کہ اسکول جانے کا کبھی موقع ہی نہ مل سکا اسی لیے میں ''چٹا ان پڑھ'' انسان ہوں۔ عدالت حسین سے معاشی مسائل پوچھے تو کہنے لگاکہ میں اپنے اس کام سے بہت مطمئن ہوں، ہر ماہ میں پچیس سے تیس ہزار روپے تک کی اوسط نکل آتی ہے، مگر اس کام میں قباحت یہ ہے کہ یہ روزی ہوائی ہے۔ کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ اس ماہ کیا کما پاؤں گا، کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ یہ کام بھی سٹے کے کاروبار کی طرح ہے، لگ گیا تو واہ، نہ لگا تو آہ۔
عدالت حسین نو بچوں کا باپ ہے۔ پانچ بچے ابھی تک پرائمری کی سطح پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کو بڑا آدمی بنانے کی بجائے میں ان کو ہنر مند بنانا چاہتا ہوں تاکہ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھا سکیں۔ جب میں پڑھے لکھے لوگوں کو فاقے کی حالت میں دیکھتا ہوں تو بہت خوف آتا ہے، کوئی وقت تھا جب کہا جاتا تھا پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب، لیکن اللٰہ معاف کرے بھائی، پڑھے لکھوں کا تو حال ہی بڑا پتلا ہے۔
عدالت حسین نے راج گیری کا کام اُس وقت شروع کیا جب مزدور کی دہاڑی محض پندرہ روپے ہوتی تھی۔ یہ اس وقت صرف 8 سال کا تھا۔ عدالت کا زندگی کے بارے میں رویہ بہت ہی ''تشکر'' کا ہے، اس کی دانست میں زندگی اپنی گذر بسر کے راستے خود ہی بناتی رہتی ہے لہٰذا یہ جس طرح گزرے اُس کو چپ چاپ گزار لینا ہی دانش مندی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ میں نے آج تک کوئی دوسرا کام کرنے کا کبھی سوچا ہی نہیں۔ ''تو کیا اپنی زندگی سے مطمئن ہو؟'' میں اِس زندگی سے بہت ہی مطمئن ہوں، بابو جی! انسان ہوں کبھی کبھی مایوسی مجھ کو گھیرنی کی کوشش کرتی ہے لیکن میں اس فوری طور پر جان چھڑانے کا طریقہ جانتا ہوں۔
میں نے جب راج گیری کی تربیت لینا جب شروع کی تھی تو اُس دوران مجھے شہر شہر گھومنے کا چسکا پڑ گیا تھا، سو اس شوق میں کچھ نہیں تو پچاس مرتبہ تو ضرور ہی بھاگا ہو گا۔ ہر بار جب گھر سے بھاگتا تو ہوٹلوں پر برتن دھوتا، گرم انڈے فروخت کرتا، خان ساماں بننے کی کوشش بھی کی، بیرا بھی بنتا رہا ہوں، ریل کار میں باورچی کے فرائض بھی سرانجام دیے، غرض یہ کہ زندگی سے بہت کچھ سیکھا۔ میرے خیال میں زندگی ایک بہترین استاد ہے اور یہ ایک سفر بھی ہے، سفر میں دکھ اور تکلیفیں آتی ہی رہتی ہیں۔ جس دکھ تکلیف نے آنا ہی آنا ہے اس سے کوئی بھاگ کر کہاں جائے۔
عدالت نے اپنی شادی کو اپنی زندگی کا ایک بہت ہی اہم موڑ قرار دیتے ہوے کہا کہ شادی سے پہلے زندگی میں بڑی ہی بے چینی تھی، بھاگ، دوڑ، آج یہاں، کل وہاں، کہیں ''ٹک'' نہیں تھی، شادی کر لی تو جیسے زندگی میں ٹھہرائو اور سکون سا آگیا۔ بیوی میری سخت گیر ہے، دراصل یوں کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ وہ ذرا اصول پسند سی ہے اور کبھی کبھی ذرا شور شرابا کرتی ہے جب کہ میں اس کے بالکل برعکس ہوں، گھر میں لڑائی جھگڑا وہی کرتی ہے، میں تو بس چپ چاپ سن لیتا ہوں، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھر میں دنگے فساد کی کبھی نوبت نہیں آئی۔
اللٰہ بڑے بول سے محفوظ رکھے، میں نے بہت سے ایسے گھر دیکھے ہیں جہاں دنیا جہان کی ہر نعمت موجود ہوتی ہے اگر کسی چیز کی کمی ہے تو گھریلو سکون کی ہے۔ میرے گھر میں حالات مشکل ضرور ہیں مگر الحمد للٰہ مجھے جو بہت بڑی دولت میسر ہے وہ ہے دل کا سکون، گو کہ گھر بہت چھوٹا ہے مگر ہمارے دل بہت بڑے اور کھلے ہیں۔ گیارہ افراد کا گھرانا ہے، دکھ کے ساتھ سکھ بھی آتا ہے، جب سکھ آتا ہے تو دکھ بھول بھال جاتے ہیں۔
عدالت حسین کو پرانی فلمیں دیکھنے اور قوالیاں سننے کا بھی بہت شوق ہے۔ عزیز میاں، نصرت فتح علی خان اور بابا عبریا قوال ان کے من پسند ہیں، میں فرصت کے اوقات میں قوالی سننا پسند کرتا ہوں، یہ مجھے دنیا جہان سے کہیں بہت ہی دور لے جاتی ہے اور میں بالکل ہلکا پھلکا ہو جاتا ہوں، سکون آجاتا ہے۔
عدالت حسین کا اپنا شہر اسلام آباد ہی ہے مگر اُسے لاہور زیادہ پسند ہے۔ عدالت حسین کا کہنا ہے ''لاہور شہروں کا شہر ہے، ہر لحاظ سے مکمل، اِس شہر کا جواب نہیں، شہر ہر وقت جاگ رہا ہوتا ہے، جب ہی تو لاھوریے کہتے ہیں لہر لہر اے یا جس نے لاہور نہیں دیکھ وہ پیدا ہی نہیں ہوا اِدھر ہمارا اسلام آباد ہے کہ شام پڑی نہیں اور اس کو اونگھیں آنے لگتی ہیں۔''
اپنے بچوں سے متعلق اُس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دولت نہیں دی مگر نو بچوں سے نواز دیا ہے، یہ بھی تو ایک طرح کی دولت ہے، اس کی رحمت ہے کہ یہ دولت میری قسمت میں لکھ دی، میں اس دولت کو پا کر ہر وقت مالک کا شکر ادا کرتا رہتا ہوں، یہ زندگی کیا ہے پانی کا بلبلہ، کوئی کہتا ہے زندگی چار دن کی ہے، جب ہے ہی چار دن کی تو کیوں نہ اسے ہر حال میں صبر و شکر کے ساتھ ہنس کھیل کر گذارا جائے۔
اب میری دہاڑی آٹھ سو روپے ہے، رب کا شکر ہے لیکن یقین کریں اس سے گیارہ افراد کے کنبے کا گذر نہیں ہوتا، تو اب کیا میں سر پکڑ کر بیٹھ جاؤں اور رونا دھونا شروع کر دوں، خدا سے شکوے کرتا پھروں، ایسی صورت میں مجھے ان لوگوں کا خیال آجاتا ہے جن کا چولہا ہی بجھا رہتا ہے البتہ میری بچیاں جوان ہو رہی ہیں، ان کی شادی کی فکر کبھی لاحق ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ جس نے بیٹیاں دی ہیں وہ ہی ان کے بر بھی دے گا۔
عدالت نے بتایا کہ میں حکم رانوں کے شہر میں رہتا ہوں مگر مجھے آج تک حکم رانوں کے کام کاج سے کبھی بھی دل چسپی نہیں رہی البتہ میری خواہش ہے کہ ہمارے حکم راں اگر ہم جیسے دہاڑی دار طبقے کو انسان سمجھ کر ہماری فلاح و بہبود کے لیے کوئی فنڈ مقرر کر دیں تو اس سے ہمارا بھلا ہو جائے گا... کام کے دوران دو دفعہ عمارت سے گر کے میرا بازو ٹوٹ چکا ہے، ان حالات میں مالی امداد بہت کام آ سکتی ہے۔
عدالت حسین نے گھروں کی تعمیر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بہت بڑے بڑے گھروں کی تعمیر میں حصہ لیا لیکن آج تک مجھے یہ تمنا نہیں ہوئی کہ اپنے لیے بھی کوئی بڑا سا گھر بناؤں، معلوم نہیں کیوں لیکن یہ سچ ہے کہ مجھے ہمیشہ چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہنا اچھا لگتا ہے، چھوٹے گھروں کے لوگ آپس میں بہت قریب ہوتے ہیں جب کہ بڑے گھروں کے مکینوں کے بیچ میں دوریاں بہت ہوتی ہیں۔
عدالت نے کہا کہ میرے گھر میں آج بھی لکڑیوں کا چولہا چلتا ہے۔ گھر میں گیس ہیٹر جیسی کوئی سہولت نہیں ہے مگر میرے دل میں کبھی خواہش نہیں جاگی کہ سردیوں میں یہ سہولت بھی ہونی چاہیے۔ گھر بھر لکڑیوں سے دہکنے والے انگاروں پر ہاتھ تاپ کر سردی کی شدت کم کر لیتے ہیں۔ ''اگر تمہارے علاقے میں انتظامیہ گیس کی سہولت مہیا کر دے تو بھی کام ایسے ہی چلائو گے؟'' ''نہیں پھر تو گیس کنکشن کے لیے درخواست ضرور دوں گا''۔
عدالت حسین نے کہا کہ ہم جیسے عام لوگ خاص لوگوں کی نسبت زیادہ گہری اور اچھی نیند سو لیتے ہیں، ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھرپور قہقہے لگا لیتے ہیں، بخار ہو جائے تو کئی کئی دن اس کا بغیر دوائی کے مقابلہ کر لیتے ہیں، گھر میں جو دال ساگ ہو خوشی خوشی کھا لیتے ہیں۔
بجلی نہ بھی ہو تو لالٹین کی روشنی میں ہمیں ہر شے دکھائی دینے لگتی ہے جب کہ بڑے اور خاص لوگ ہر شے میں آسانی اور سہولت کے طلب گار ہوتے ہیں، وہ نمک کھانے سے ڈرتے ہیں، میٹھا زیادہ نہیں کھاتے، بیماریوں کا خوف ان کو لاحق ہوتا ہے، جب کہ مجھ جیسے آدمی کو نہ نمک ڈراتا ہے نہ میٹھا کیوں کہ میں محنت کرتا ہوں اور ہر شے کو با آسانی ہضم کر لیتا ہوں، میں سمجھتا ہوں ہم لوگ ان سے زیادہ مزے میں ہیں۔
سینتالیس سالہ عدالت حسین وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقہ چک شہزاد کا رہنے والا ہے۔
گذشتہ 25 سال سے راج گیری کا کام کر رہا ہے، اب تک دو سو سے زیادہ گھر بنا چکا ہے اور مزید گھر بنانے کا خواہش مند ہے۔ عدالت حسین نے بتایا کہ راج گیری ہمارا آبائی پیشہ نہیں، والد صاحب گھوڑا ریڑھا چلاتے تھے، جب ساٹھ کی دہائی میں اسلام آباد شہر بسانے کا کام شروع ہوا تو میں اُس وقت نومولود تھا۔ سرکار نے ہماری زمینیں چھین لیں، گھر بار ختم ہو گیا، بڑی مشکل سے والد صاحب نے چک شہزاد میں چند مرلے زمین حاصل کی۔
جب گھر تعمیر کرنا شروع کیا تو میرے بڑے بھائی عاشق حسین نے اُسی دوران راج گیری کا کام سیکھ لیا اس کے بعد ان سے میں نے سیکھا اور بس پھر اس میں یوں غرق ہوے کہ اسکول جانے کا کبھی موقع ہی نہ مل سکا اسی لیے میں ''چٹا ان پڑھ'' انسان ہوں۔ عدالت حسین سے معاشی مسائل پوچھے تو کہنے لگاکہ میں اپنے اس کام سے بہت مطمئن ہوں، ہر ماہ میں پچیس سے تیس ہزار روپے تک کی اوسط نکل آتی ہے، مگر اس کام میں قباحت یہ ہے کہ یہ روزی ہوائی ہے۔ کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ اس ماہ کیا کما پاؤں گا، کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ یہ کام بھی سٹے کے کاروبار کی طرح ہے، لگ گیا تو واہ، نہ لگا تو آہ۔
عدالت حسین نو بچوں کا باپ ہے۔ پانچ بچے ابھی تک پرائمری کی سطح پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کو بڑا آدمی بنانے کی بجائے میں ان کو ہنر مند بنانا چاہتا ہوں تاکہ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھا سکیں۔ جب میں پڑھے لکھے لوگوں کو فاقے کی حالت میں دیکھتا ہوں تو بہت خوف آتا ہے، کوئی وقت تھا جب کہا جاتا تھا پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب، لیکن اللٰہ معاف کرے بھائی، پڑھے لکھوں کا تو حال ہی بڑا پتلا ہے۔
عدالت حسین نے راج گیری کا کام اُس وقت شروع کیا جب مزدور کی دہاڑی محض پندرہ روپے ہوتی تھی۔ یہ اس وقت صرف 8 سال کا تھا۔ عدالت کا زندگی کے بارے میں رویہ بہت ہی ''تشکر'' کا ہے، اس کی دانست میں زندگی اپنی گذر بسر کے راستے خود ہی بناتی رہتی ہے لہٰذا یہ جس طرح گزرے اُس کو چپ چاپ گزار لینا ہی دانش مندی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ میں نے آج تک کوئی دوسرا کام کرنے کا کبھی سوچا ہی نہیں۔ ''تو کیا اپنی زندگی سے مطمئن ہو؟'' میں اِس زندگی سے بہت ہی مطمئن ہوں، بابو جی! انسان ہوں کبھی کبھی مایوسی مجھ کو گھیرنی کی کوشش کرتی ہے لیکن میں اس فوری طور پر جان چھڑانے کا طریقہ جانتا ہوں۔
میں نے جب راج گیری کی تربیت لینا جب شروع کی تھی تو اُس دوران مجھے شہر شہر گھومنے کا چسکا پڑ گیا تھا، سو اس شوق میں کچھ نہیں تو پچاس مرتبہ تو ضرور ہی بھاگا ہو گا۔ ہر بار جب گھر سے بھاگتا تو ہوٹلوں پر برتن دھوتا، گرم انڈے فروخت کرتا، خان ساماں بننے کی کوشش بھی کی، بیرا بھی بنتا رہا ہوں، ریل کار میں باورچی کے فرائض بھی سرانجام دیے، غرض یہ کہ زندگی سے بہت کچھ سیکھا۔ میرے خیال میں زندگی ایک بہترین استاد ہے اور یہ ایک سفر بھی ہے، سفر میں دکھ اور تکلیفیں آتی ہی رہتی ہیں۔ جس دکھ تکلیف نے آنا ہی آنا ہے اس سے کوئی بھاگ کر کہاں جائے۔
عدالت نے اپنی شادی کو اپنی زندگی کا ایک بہت ہی اہم موڑ قرار دیتے ہوے کہا کہ شادی سے پہلے زندگی میں بڑی ہی بے چینی تھی، بھاگ، دوڑ، آج یہاں، کل وہاں، کہیں ''ٹک'' نہیں تھی، شادی کر لی تو جیسے زندگی میں ٹھہرائو اور سکون سا آگیا۔ بیوی میری سخت گیر ہے، دراصل یوں کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ وہ ذرا اصول پسند سی ہے اور کبھی کبھی ذرا شور شرابا کرتی ہے جب کہ میں اس کے بالکل برعکس ہوں، گھر میں لڑائی جھگڑا وہی کرتی ہے، میں تو بس چپ چاپ سن لیتا ہوں، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھر میں دنگے فساد کی کبھی نوبت نہیں آئی۔
اللٰہ بڑے بول سے محفوظ رکھے، میں نے بہت سے ایسے گھر دیکھے ہیں جہاں دنیا جہان کی ہر نعمت موجود ہوتی ہے اگر کسی چیز کی کمی ہے تو گھریلو سکون کی ہے۔ میرے گھر میں حالات مشکل ضرور ہیں مگر الحمد للٰہ مجھے جو بہت بڑی دولت میسر ہے وہ ہے دل کا سکون، گو کہ گھر بہت چھوٹا ہے مگر ہمارے دل بہت بڑے اور کھلے ہیں۔ گیارہ افراد کا گھرانا ہے، دکھ کے ساتھ سکھ بھی آتا ہے، جب سکھ آتا ہے تو دکھ بھول بھال جاتے ہیں۔
عدالت حسین کو پرانی فلمیں دیکھنے اور قوالیاں سننے کا بھی بہت شوق ہے۔ عزیز میاں، نصرت فتح علی خان اور بابا عبریا قوال ان کے من پسند ہیں، میں فرصت کے اوقات میں قوالی سننا پسند کرتا ہوں، یہ مجھے دنیا جہان سے کہیں بہت ہی دور لے جاتی ہے اور میں بالکل ہلکا پھلکا ہو جاتا ہوں، سکون آجاتا ہے۔
عدالت حسین کا اپنا شہر اسلام آباد ہی ہے مگر اُسے لاہور زیادہ پسند ہے۔ عدالت حسین کا کہنا ہے ''لاہور شہروں کا شہر ہے، ہر لحاظ سے مکمل، اِس شہر کا جواب نہیں، شہر ہر وقت جاگ رہا ہوتا ہے، جب ہی تو لاھوریے کہتے ہیں لہر لہر اے یا جس نے لاہور نہیں دیکھ وہ پیدا ہی نہیں ہوا اِدھر ہمارا اسلام آباد ہے کہ شام پڑی نہیں اور اس کو اونگھیں آنے لگتی ہیں۔''
اپنے بچوں سے متعلق اُس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دولت نہیں دی مگر نو بچوں سے نواز دیا ہے، یہ بھی تو ایک طرح کی دولت ہے، اس کی رحمت ہے کہ یہ دولت میری قسمت میں لکھ دی، میں اس دولت کو پا کر ہر وقت مالک کا شکر ادا کرتا رہتا ہوں، یہ زندگی کیا ہے پانی کا بلبلہ، کوئی کہتا ہے زندگی چار دن کی ہے، جب ہے ہی چار دن کی تو کیوں نہ اسے ہر حال میں صبر و شکر کے ساتھ ہنس کھیل کر گذارا جائے۔
اب میری دہاڑی آٹھ سو روپے ہے، رب کا شکر ہے لیکن یقین کریں اس سے گیارہ افراد کے کنبے کا گذر نہیں ہوتا، تو اب کیا میں سر پکڑ کر بیٹھ جاؤں اور رونا دھونا شروع کر دوں، خدا سے شکوے کرتا پھروں، ایسی صورت میں مجھے ان لوگوں کا خیال آجاتا ہے جن کا چولہا ہی بجھا رہتا ہے البتہ میری بچیاں جوان ہو رہی ہیں، ان کی شادی کی فکر کبھی لاحق ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ جس نے بیٹیاں دی ہیں وہ ہی ان کے بر بھی دے گا۔
عدالت نے بتایا کہ میں حکم رانوں کے شہر میں رہتا ہوں مگر مجھے آج تک حکم رانوں کے کام کاج سے کبھی بھی دل چسپی نہیں رہی البتہ میری خواہش ہے کہ ہمارے حکم راں اگر ہم جیسے دہاڑی دار طبقے کو انسان سمجھ کر ہماری فلاح و بہبود کے لیے کوئی فنڈ مقرر کر دیں تو اس سے ہمارا بھلا ہو جائے گا... کام کے دوران دو دفعہ عمارت سے گر کے میرا بازو ٹوٹ چکا ہے، ان حالات میں مالی امداد بہت کام آ سکتی ہے۔
عدالت حسین نے گھروں کی تعمیر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بہت بڑے بڑے گھروں کی تعمیر میں حصہ لیا لیکن آج تک مجھے یہ تمنا نہیں ہوئی کہ اپنے لیے بھی کوئی بڑا سا گھر بناؤں، معلوم نہیں کیوں لیکن یہ سچ ہے کہ مجھے ہمیشہ چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہنا اچھا لگتا ہے، چھوٹے گھروں کے لوگ آپس میں بہت قریب ہوتے ہیں جب کہ بڑے گھروں کے مکینوں کے بیچ میں دوریاں بہت ہوتی ہیں۔
عدالت نے کہا کہ میرے گھر میں آج بھی لکڑیوں کا چولہا چلتا ہے۔ گھر میں گیس ہیٹر جیسی کوئی سہولت نہیں ہے مگر میرے دل میں کبھی خواہش نہیں جاگی کہ سردیوں میں یہ سہولت بھی ہونی چاہیے۔ گھر بھر لکڑیوں سے دہکنے والے انگاروں پر ہاتھ تاپ کر سردی کی شدت کم کر لیتے ہیں۔ ''اگر تمہارے علاقے میں انتظامیہ گیس کی سہولت مہیا کر دے تو بھی کام ایسے ہی چلائو گے؟'' ''نہیں پھر تو گیس کنکشن کے لیے درخواست ضرور دوں گا''۔
عدالت حسین نے کہا کہ ہم جیسے عام لوگ خاص لوگوں کی نسبت زیادہ گہری اور اچھی نیند سو لیتے ہیں، ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھرپور قہقہے لگا لیتے ہیں، بخار ہو جائے تو کئی کئی دن اس کا بغیر دوائی کے مقابلہ کر لیتے ہیں، گھر میں جو دال ساگ ہو خوشی خوشی کھا لیتے ہیں۔
بجلی نہ بھی ہو تو لالٹین کی روشنی میں ہمیں ہر شے دکھائی دینے لگتی ہے جب کہ بڑے اور خاص لوگ ہر شے میں آسانی اور سہولت کے طلب گار ہوتے ہیں، وہ نمک کھانے سے ڈرتے ہیں، میٹھا زیادہ نہیں کھاتے، بیماریوں کا خوف ان کو لاحق ہوتا ہے، جب کہ مجھ جیسے آدمی کو نہ نمک ڈراتا ہے نہ میٹھا کیوں کہ میں محنت کرتا ہوں اور ہر شے کو با آسانی ہضم کر لیتا ہوں، میں سمجھتا ہوں ہم لوگ ان سے زیادہ مزے میں ہیں۔