بلوچستان میں مکالمہ کی زمینی حقیقت

دہشت گردوں کو دو ٹوک جواب ضرور ملنا چاہیے تاہم صوبہ میں امن کے قدرے امید افزا امکانات چونکہ سیاسی حقیقت بن رہے ہیں

وفاقی اور بلوچستان حکومت کے لیے لمحہ فکر یہ ہے کہ بلوچستان کا ’’سیاسی حل‘‘ طاقت اور شورش پر غالب آئے، امن کا قیام ناگزیر ہے۔ فوٹو : فائل

SUKKUR:
بلوچستان کے ضلع گوادر میں دہشت گردوں کے جیوانی ہوائی اڈے پر حملے میں 2 انجینئر شہید اور سب انجینئر شدید زخمی ہوگیا، فائرنگ سے ریڈار سسٹم کو بھی نقصان پہنچا، شہدا کی لاشیں اور زخمی کو کراچی منتقل کردیا گیا، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر مکران ڈویژن سے رپورٹ طلب کر لی اور حملہ آوروں کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا ۔

اس امر میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ بلوچستان ملکی سیاسی و سماجی صورتحال کا فلیش پوائنٹ ہے، یہی وقت ہے کہ دہکتے ہوئے بلوچستان کو ایک گریٹر ڈائیلاگ سے گلزار بنایا جائے ۔ دہشت گردوں کو دو ٹوک جواب ضرور ملنا چاہیے تاہم صوبہ میں امن کے قدرے امید افزا امکانات چونکہ سیاسی حقیقت بن رہے ہیں جب کہ آپریشن ضرب عضب کے دہشت گردوں کے خلاف عسکری و سماجی نتائج نے بھی بلوچستان میں مزاحمت کا زور توڑا ہے، اس لیے پھونک پھونک کر قدم اٹھانا شرط ہے۔

ڈاکٹر مالک کی حکومت نے سماجی اور تعلیمی شعبہ میں ٹھوس اقدامات کیے، ہزاروں بلوچ نوجوانوں کو فوج اور سرکاری محکموں میں ملازمتیں دیں جب کہ روزگار اور بحالی کے کئی اقدامات ہوئے، اسی طرح صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اور چیف آف جھالاوان سردار ثنااللہ زہری سمیت دیگر سیاسی عمائدین اور جرگہ کے بزرگ رہنماؤں نے میر سلیمان داؤد سے رابطہ کر کے انھیں وطن واپس آنے کی فراخدلانہ پیشکش کی، اسی عرصہ میں صوبہ میں کئی مزاحمت کار گروپوں اور قبائلی کمانڈروں نے ہتھیار ڈالے ، یہ پر امن بلوچستان کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

تاہم عسکریت پسندی کے حالیہ تناظر میں بر سرپیکار مزاحمت کار گروپ کی طرف سے اتوار کو علی الصبح ایئر پورٹ پر حملہ کا مقصد وفاقی حکومت کو اپنا فوری ردعمل دینا ہے، کیونکہ شورش ، مزاحمت اور سٹیبلشمنٹ سے قائم رقابتوں کی بلوچستانی کہانی کافی پرانی اور دلگداز ہے جس میں الجھے ہوئے ان سرمچاروں(جنگجوؤں) کا براہمدغ بگٹی کی وطن واپسی کے اشارہ کو مزاحمت کی بساط لپیٹے جانے کے بڑے خطرے کے طور پر دیکھنا غیر فطری نہیں، اس جانب سیاسی مبصرین اشارہ کرچکے ہیں کہ بعض قوتیں بلوچستان میں امن کی حامی نہیں، دوسری جانب حکام کو صوبہ میں سرگرم مذہبی ، فرقہ وارانہ اور باہمی قبائلی دشمنیوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

لیویز کے مطابق اتوار کو علی الصباح 10سے 15 مسلح افراد ایئرپورٹ کی حدود میں داخل ہوئے اور فائرنگ کرکے انجینئر خلیل احمد کو شہید اور اسسٹنٹ انجینئر الطاف حسین کو شدید زخمی کردیا، دہشتگرد ایئرپورٹ منیجر انجینئر محمود نیازی کو بھی اغوا کرکے لے گئے بعدازاں ان کی لاش زاران کے علاقے سے ملی، جیونی ایئرپورٹ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ عام پروازوں کے لیے کئی سال سے بند ہے اور ریڈار کے ذریعے بین الاقوامی پروازوں کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس ایئرپورٹ کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے ۔


سول ایوی ایشن کے ترجمان پرویز جارج کے مطابق جیوانی ایئر پورٹ پر نصب مواصلاتی نظام تقریباً تباہ ہو گیا ہے تاہم ادارہ کے پاس بیک اپ سسٹم موجود ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ ایئر پورٹ پروازوں کے لیے استعمال نہیں ہوتا تھا اور یہاں پر صرف نیوی گیشن سسٹم نصب تھا۔ میڈیا کی اطلاع کے مطابق حملہ کے وقت سیکیورٹی اہلکار وقوعہ پر موجود نہیں تھے، اگر ایئر پورٹ فنکشنل نہیں بھی تھا تب بھی عملہ کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایف سی اور لیویز کی موجودگی ضروری تھی۔

بہرکیف مزاحمت کاروں کے جیوانی میں شدید رد عمل سے حکام کو اندازہ ہونا چاہیے کہ حکومت مخالف جنگ ابھی جاری ہے ، بلوچ حالت جنگ میں بھی صلح یا مفاہمت میں اپنی جرگہ کی روایت سے جڑے رہتے ہیں، یہ آپشن کھلا ہوا ہے، براہمدغ کے انٹرویو پر شورش پسند گروپوں کی طرف سے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ وہ شاید طویل نظریاتی و عسکری جدوجہد سے تھک ہار گئے ہیں۔

لہٰذا زمینی حقیقت یہ ہے کہ مفاہمت اور مصالحت و امن کے لیے حکمراں نئے مائنڈ سیٹ کے ساتھ بلوچستان ایشو پر آگے بڑھیں، راستہ دشوار اور سنگلاخ ہے، مگر بندوق پر مکالمہ کی سبقت کا باب بند نہ ہو تو صائب ہے، اگر براہمدغ بگٹی زیتون کی شاخ لے کر سویٹزرلینڈ سے پاکستان آنا چاہتے ہیں تو ارباب اختیاربھی دل کشادہ رکھیں، ان کا صرف خیرمقدم کرنا کافی نہیں ، مخالف جنگجو خاموش نہیں ہیں، ان تک نتیجہ خیز رسائی یقینی بنائی جائے، بلکہ جنگی بنیادوں پر صلح وآشتی اور امن و مصالحت کا ایک مشترکہ فعال پلیٹ فارم تیار کیا جائے۔

امید کی جانی چاہیے کہ بلوچ نفسیات ، فتح و شکست ، جنگ و صلح ،اور دشمنی و دوستی کی ان تمام روایات کو جو ارض بلوچستان کی تاریخی اور رزمیہ شاعری کے توسط سے سیاسی اذہان میں موجود ہیں ان کی نزاکتوں کا خیال رکھا جائے گا اور بیرون ملک مقیم تمام عسکریت پسند ناراض بلوچ رہنماؤں ، پشتون و بلوچ دانشوروں، مین اسٹریم سیاسی جماعتوں سے بات چیت کا عمل تیز کرنے کی سمت کوششیں جاری رکھی جائیں۔جیوانی میں شہید ہونے والے دونوں انجینئر سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سینئر افسر تھے ۔

ان کی موت بلاجواز تھی، بلوچ لبریشن آرمی نے حملہ کی ذمے داری قبول کی ہے جس کے بعد سیکیورٹی فورسز سے زیادہ اب وفاقی اور بلوچستان حکومت کے لیے لمحہ فکر یہ ہے کہ بلوچستان کا ''سیاسی حل'' طاقت اور شورش پر غالب آئے، امن کا قیام ناگزیر ہے۔
Load Next Story