9فیصد ٹرن اوور ٹیکس بیرونی تجارت میں سہولت دینے والوں کا آج سے ہڑتال کا اعلان

دوران ہڑتال کسی بھی برآمد یا درآمدکنندہ کو نہ کنٹینرز فراہم کیے جائیں گے

دوران ہڑتال کسی بھی برآمد یا درآمدکنندہ کو نہ کنٹینرز فراہم کیے جائیں گے اور نہ ہی بکنگ اور ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ فوٹو: فائل

PESHAWAR:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی سال2009سے ٹرن اوور پر 8 فیصد شرح ٹیکس کے خلاف منگل یکم ستمبر سے فریٹ فارورڈرز اور ایئر کارگو ایجنٹس کی غیرمعینہ مدت کی ہڑتال کے باعث پاکستان سے ٹیکسٹائل سیکٹر کی یومیہ 4کروڑ ڈالر کی برآمدات خطرے میں پڑگئی ہیں۔

مذکورہ شعبوں کا کہنا ہے کہ وہ صرف2 تا 3 فیصد شرح منافع پرخدمات فراہم کرتے ہیں جبکہ حکومت نے ان پر یکدم8 فیصد ٹرن اوور ٹیکس عائد کردیا ہے جو کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت فریٹ فارورڈرز اور ایئرکارگوایجنٹس کو کاروبار بند کرنے پر مجبور کررہی ہے لہٰذا وہ حکومت کی اس خواہش پر عمل کرتے ہوئے یکم ستمبر سے غیرمعینہ مدت کے لیے اپنا کاروبار بند کررہے ہیں۔


ذرائع نے بتایا کہ فریٹ فارورڈرز اور ایئرکارگوایجنٹس نے اپنے تمام کسٹمرز کو خطوط جاری کیے ہیں جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ یکم ستمبر سے نہ ڈلیوری آرڈرز کا اجرا کریں گے اور نہ ہی کسی قسم کے کارگویا شپنگ، ایئربل، بل آف لیڈنگ کا اجرا کریں گے۔

دوران ہڑتال کسی بھی برآمد یا درآمدکنندہ کو نہ کنٹینرز فراہم کیے جائیں گے اور نہ ہی بکنگ اور ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی، ساتھ ہی محکمہ کسٹمز سے ہر قسم کے کارگو کی کلیئرنس روک دی جائے گی۔
Load Next Story