مسئلہ کشمیر پر بات چیت ناگزیر

پاکستان اور جرمنی نے دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرنے اور معاشی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا

پاکستان اور جرمنی نے دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرنے اور معاشی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ، فوٹو: فائل

پاکستان اور جرمنی نے دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرنے اور معاشی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے جب کہ جرمن وزیرخارجہ فرینک والٹرنے کہا ہے کہ پاک بھارت مذاکرات میں مسئلہ کشمیر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے، کشمیر سمیت تمام تنازعات کا حل مذاکرات میںہی ہے ۔ جرمن وزیر خارجہ نے در اصل ان ہی حقائق اور جذبات کا اظہار کیا جو عالمی برادری برس ہا برس سے بھارتی حکمرانوں کے سامنے پیش کرتی آئی ہے ، پاکستان کا اول روز سے یہ موقف رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے تاکہ خطے میں امن اور استحکام آئے، گزشتہ روز دفتر خارجہ میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے جرمن وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات کی۔

فرینک والٹر نے مسئلہ کشمیر کو ''ڈیپ ایشو'' قراردیا ہے، اس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں سرتاج عزیز ملکی صورتحال پر پاکستانی موقف کو کھل کر بیان کیا، ان کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں دہشت گردی کے خلاف بلاتفریق کارروائی کررہے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے اور اس کے مثبت نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔

دہشت گردوں کی کمرٹوٹ چکی ہے۔ سرتاج عزیز نے مزید کہا کہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھی کارروائیاں ہوئی ہیں اورنیٹ ورک کے لوگ افغانستان بھاگ گئے ہیں۔ جرمن مدبر کو یہ بات سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آئیگی کہ عالمی برادری کو پاکستان سے مل کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ اس لیے کہ دہشت گردی کسی خاص خطے یا ملک تک محدود نہیں، اس عالمگیر مسئلے کے انسداد کے لیے دنیا بھر کے ممالک کو مل کر دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کا مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ دہشت گردی کے عفریت کو جڑ سے اکھاڑا جاسکے۔


پاک جرمن بات چیت میں سب سے خوش آیند پہلو کشمیر مسئلہ پر جرمن وزیر خارجہ کا نیا موقف تھا ، اس سے قبل جرمن سفیر مقیم بھارت مائیکل سٹینر نے 10 جولائی2013 کو سری نگر کا دورہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر پر جرمنی کوئی پوزیشن نہیں لے سکتا، مگر آج وہ کہہ رہے ہیں کہ پاک بھارت بات چیت میں کشمیر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بھارتی حکمرانوں کو یاد ہوگا جب یورپی کنسورشیم کے مطالعاتی وفد نے سری نگر اور لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کا دورہ کرتے ہوئے کشمیر کو دنیا کا سب سے خوبصورت ''قید خانہ'' قراردیا تھا، اس پر بھارت میں کہرام برپا ہوا تھا، اسی بیان کے بعد کشمیر کو عالمی سطح پر غیر فوجی علاقہ قرار دینے کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا۔

مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کے کردار پر جامع رپورٹ مائیکل بی شیفر نے تیار کی،جو آج بھی اپنے قابل غور حقائق اور سفارشات وتجاویز کے ساتھ سامنے لائی جاسکتی ہے۔ اس رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارتی ضد اور خطے میں اجارہ داری اور بالا دستی کی ہوس کے باعث دنیا کی نظر میں بھارتی ساکھ گرچکی ہے چنانچہ اسے توسیع شدہ سلامتی کونسل کی مستقل نشست حاصل کرنے میں ناکامیوں اور مشکلات کا سامنا ہے۔ مگر بھارتی مائنڈ سیٹ شاید حقائق سے روگردانی کا عادی ہوچکا ہے،اور پاکستان دشمنی اس کا روگ بن گیا ہے۔

پاکستان کے مشیر خارجہ امور درست کہا کہ دہشت گردی کے دوران پاکستان کو غیرمعمولی حالات کا سامنا تھا جس پر قابو پانے کے لیے صرف 2سال کے لیے فو جی عدالتیں قائم کی گئی ہیں جب کہ پاکستان نے مخصوص حالات کی وجہ سے پھانسیوں کاسلسلہ شروع کیا اور اسے بھی حکومت 2سال تک جاری رکھے گی، جرمن مہمان کو باور کرایا گیا کہ پھانسیوں کا مشکل فیصلہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مفید ثابت ہو رہا ہے ۔ اپنی ملاقات میں فرینک والٹر نے توانائی کے شعبے میں پاکستان سے تعاون کرنے کا یقین دلایا اور کہا کہ خطے میں اس وقت تک امن نہیں آئے گا جب تک کشمیرکا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا۔

یہاں وہ اس حقیقت کا برملا اظہار کرگئے جسے مودی حکومت کے بزر جمہور سمجھنے کی کوشش کریں تو پاک بھارت مذاکرات میں کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کو کوئی سبیل نکل سکتی ہے۔ جرمن وزیرخارجہ کی وزیراعظم نوازشریف سے ملقات اچھا تاثر چھوڑے گی، نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بحال ہو رہی ہے، انھوں نے یورپی یونین کی طرف سے جی ایس پی پلس کے حصول کے لیے پاکستان کی حمایت پرجرمنی کاشکریہ اداکیا۔ دریں اثنا پاکستان کے دورے پر آئے جرمن وفد نے پیر کو قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کی۔ جرمن سیاستدانوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو مل بیٹھ کر مسائل کو حل کرنا چاہیے ۔

بلاشبہ پاک بھارت تنازعات کی شدت اور خطے میں مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور اس کے جائز اور آبرومندانہ حل کی ناگزیریت سے جرمن سیاسی رہنما یقیناً لا علم نہیں ہونگے،کیونکہ جرمنی سے زیادہ کون جنگی تباہ کاریوں ، معاہدوں سے انحراف یا قراردادوں کی پاسداری کے تجربات سے آشنا ہوگا جب کہ یورپی یونین کے وفد نے کچھ عرصہ قبل کشمیر سمیت لائن آف کنٹرول اور دیگر امور پر اپنا جو مثبت انداز نظر پیش کیا وہ برصغیر کی سیاسی و تزویراتی حرکیات سے ان کے گہرے مشاہدے کا مظہر ہے، بشرطیکہ بھارتیوں کو یقین آجائے۔
Load Next Story