سیاسی گرما گرمی

ملک کی سیاست میں ایک بار پھر گرما گرمی کے آثار پیدا ہو گئے ہیں

ملک کی سیاست میں ایک بار پھر گرما گرمی کے آثار پیدا ہو گئے ہیں، فوٹو: فائل

ملک کی سیاست میں ایک بار پھر گرما گرمی کے آثار پیدا ہو گئے ہیں۔لاہور کے حلقہ NA122اور لودھراں کے حلقہ این اے 154 کے انتخاب کالعدم قرار دیے جانے کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے خاصے جوشیلے بیانات جاری کیے ہیں۔ انھوں نے ان حلقوں میں ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان تو کیا ہے لیکن ساتھ ہی دھرنا دینے کی باتیں بھی کر رہے ہیں۔

ادھر گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ 1990 کی دہائی کی سیاست دہرا رہے ہیں۔انھوں نے حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متحدہ مسلم لیگ کے قیام کے لیے بھی سرگرمیاں ہو رہی ہیں۔اس صورت حال سے لگتا ہے کہ حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کو اپنی بات کرنے کا پورا حق حاصل ہوتا ہے۔

اپوزیشن کی تنقید دراصل حکومت کو صحیح راہ دکھانے کے لیے ہوتی ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے مطالبات کو منوانے کے لیے جلسے منعقد کرتی ہیں اور جلوس نکالتی ہیں لیکن یہ سب کچھ پرامن انداز میں اور آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جاناچاہیے۔ اگر حکومت کی مخالف سیاسی جماعتوں کو کسی معاملے پر اعتراض یا تحفظات ہیں تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا جائے۔ اگر کسی پر کوئی مقدمہ ہے تو اسے بھی قانون میں درج طریقے کو اختیار کرنا چاہیے۔میڈیا کے ذریعے بے گناہی ثابت نہیں کی جا سکتی۔فیصلہ بلا آخر عدالتوں میں ہی ہونا ہوتا ہے۔


اگر کہیں کوئی ادارہ اختیارات سے تجاوزکر رہا ہے تو اس کے لیے بھی آئین کا راستہ موجود ہے اور اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جانا چاہیے تاکہ اختیارات سے تجاوز کے معاملے کو آئین کے مطابق حل کیا جا سکے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں خواہ وہ حزب اقتدار ہو یا حزب مخالف کو چاہیے کہ وہ ملک میں کرپشن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنا رہنما کردار ادا کریں۔ وطن عزیر میں بدعنوانی کے کلچر نے معاشرتی بگاڑ کو بڑھایا ہے۔ملک میں دہشت گردی اور جرائم میں اضافے کی ایک وجہ کرپشن کلچر بھی ہے۔

سرکاری اداروں کے زوال کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ سرکاری عمال کرپشن کا شکار ہوئے' ملک کے سیاستدانوں پر بھی بدعنوانی کے الزامات لگے ہیں۔بدعنوانی اور کرپشن کے ساتھ ساتھ پاکستان دہشت گردی کے خلاف بھی جنگ لڑ رہا ہے۔

یہ وہ معاملات ہیں جن کا سب کو ادراک ہونا چاہیے۔ملک اور جمہوریت کی بقاء اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ادارے آئینی ادارہ کار میں رہ کر کام کریں جب کہ سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت بھی آئینی دائرہ کار میں رہے اور جمہوری اقدار کا تحفظ کرے۔ملک اس وقت کسی گھیراؤ جلاؤ کا متحمل نہیں ہو سکتا لہٰذا سیاسی جماعتوں اور اداروں کو چاہیے کہ وہ کرپشن اور دہشت گردی کے بارے میں کسی مصلحت کا شکار نہ ہوں اور قانون کو اپنا راستہ بنانے دیا جائے۔
Load Next Story