پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3 روپے کمی جب کہ گیس کی قیمتوں میں 13 سے 63 فیصد تک اضافہ کر دیا

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3 روپے کمی جب کہ گیس کی قیمتوں میں 13 سے 63 فیصد تک اضافہ کر دیا ، فوٹو:فائل

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3 روپے کمی جب کہ گیس کی قیمتوں میں 13 سے 63 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔ حکومتی فیصلے کے اعلان سے پہلے جو پیش گوئیاں کی جا رہی تھیں کہ چونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل رو بہ زوال ہیں اس لیے اس مرتبہ حکومت قیمتوں میں نمایاں کمی کر ے گی مگر ایسا نہ ہوا یعنی اے بسا آرزو کہ خاک شدہ، گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ پٹرول تین روپے فی لیٹر کی کمی کے بعد 73.76 روپے میں فروخت ہو گا۔


ویسے جتنی کنجوسی سے قیمت میں کمی کی گئی ہے وہ نہ بھی کی جاتی تب بھی کوئی فرق نہ پڑتا البتہ حکومت کا ریونیو ضرور بڑھ جاتا تاہم پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں کمی کو گیس کی قیمتیں بڑھا کر پورا کر لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ کر دیا ہے۔ نیز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ہی مختلف شہروں میں پٹرول کی قلت پیدا ہو گئی۔ یہ قلت آئل ٹینکرز کی ہڑتال کی وجہ سے ہوئی۔ گزشتہ روز حکومت کی طرف سے سیلز ٹیکس میں اضافے کے خلاف آئل ٹینکرز نے ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل بند کر دی اور احتجاجی طور پر ٹینکرز کھڑے کر دیے۔

جس کی وجہ سے پٹرول کی ترسیل میں کمی آ گئی اور پٹرول پمپوں پر موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کا رش رہا تاہم منگل کو یہ ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین انٹرنیشنل مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی بیشی کو مد نظر رکھ کرکیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں خاصی کمی آئی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت تیل کی قیمتوں میں 3 روپے کے بجائے سات سے آٹھ روپے فی لٹر کمی کرتی تا کہ عوام کو ریلیف ملتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ گویا جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔
Load Next Story