استعفوں کا کھیل اور انیس بیس
اگر معاملہ صرف ’’استعفاؤں‘‘ کا ہوتا تھا تو کوئی بات نہ تھی کسی نے استعفیٰ دیا کسی نے لیا اور منظور کیا
barq@email.com
ISLAMABAD:
ایک مرتبہ پھر ہمارے سامنے ''تحقیق'' کا ایک مشکل ٹاسک پڑا ہوا ہے وہ کوئی شخص پیشہ ور گواہ تھا کئی کئی بار جب وہ ایک جج کے سامنے ''چشم دید گواہ'' کے طور پر پیش ہوا تو جج نے پوچھا عجیب بات ہے جب بھی کہیں کوئی واردات ہوتی ہے تو تم وہاں موجود ہوتے ہو، اس پر تجربہ کار گواہ نے کہا حضور کیا کروں، خدا ایسے مواقعے پر مجھے کسی نہ کسی طرح وہاں لے ہی جاتا ہے، ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ تحقیق کا کوئی نہ کوئی مسئلہ ہمارے سامنے آ ہی جاتا ہے اب یہ استعفاؤں کا معاملہ لے لیجیے جن کی پیداوار بڑھوتری کاشت و برداشت اور رسد و کھپت پاکستان میں کچھ زیادہ ہی ہونے لگی ہے۔
اگر معاملہ صرف ''استعفاؤں'' کا ہوتا تھا تو کوئی بات نہ تھی کسی نے استعفیٰ دیا کسی نے لیا اور منظور کیا، نہ رہا استعفیٰ اور نہ بجنے لگے ڈھول اور وہ بھی اتنے بڑے بڑے ۔۔۔ لیکن یہاں پیچیدہ بات یہ آن پڑی ہے کہ استعفیٰ دیے بھی جاتے ہیں اور وہی استعفے نہیں بھی دیے جاتے بقول شخصے یہ سیڑھیاں اوپر جاتی ہیں اور یہی سیڑھیاں اوپر سے نیچے بھی آتی ہیں ۔۔۔ جو استعفے دیے جاتے ہیں وہی استعفے نہیں بھی دیے جاتے ہیں
جو نہیں ہوتا وہی ہوتا بھی ہے
جو تھا نہیں ہے جو ہے نہ ہو گا
اور ایسے پیچیدہ مسئلے پر سوائے ہمارے اور کون تحقیق کی ہمت کر سکتا ہے سو لیجیے ہم نے اپنی تحقیق کا ٹٹو اسٹارٹ کر لیا، استعفاؤں کا پہلا سراغ ہمیں تاریخ میں میاں قیس عامری عرف مجنون آف صحرائے نجد کے مشہور و معروف استعفے سے ملتا ہے جس کا ذکر اکبر الہ آبادی نامی محقق نے یوں کیا ہے کہ جب مجنون نے لیلیٰ کی ممی سے لیلیٰ کا ہاتھ مانگا یعنی اسے پروپوز کیا اور اس کی اطلاع لیلیٰ نے مجنوں کو بدیں الفاظ دی کہ
شاید میری شادی کا خیال دل میں آیا ہے
اسی لیے ممی نے میری تمہیں چائے پر بلایا ہے
بہرحال مجنوں نے صحرا کے غزالاؤں، شمالاؤں اور جمالاؤں سے آدھے دن کی رخصت چاہی اور در لیلیٰ پر جا دستک دی، سگ لیلیٰ نے اس کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور پائنچے کا وہ آخری ٹکڑا بھی اپنی تحویل میں لے لیا جو ایڑی میں اٹکا ہوا تھا، مجنون نے جب لیلیٰ کی ممی کو اپنا ارائیول دیا اور اپنی زبانی درخواست پیش کی تو بات اس کے حلق میں اٹک گئی اور لیلیٰ کی ماں کچھ اور سمجھ کر لجائی شرمائی ۔۔ یس آئی ایم ریڈی ۔۔۔ لیکن مجنوں کا گلا صاف ہو گیا اور اس نے اپنا پہلے والا جملہ مکل کیا تو لیلیٰ کی ماں بھڑک اٹھی اور جو لڈو اس کے دل میں پھوٹے تھے وہ چور چور ہو گئے، محقق اکبر الہ آبادی نے اس ڈائیلاگ کو یوں منظوم کیا ہے
کہا مجنوں سے یہ لیلیٰ کی ماں نے
کہ میاں تم اگر کر لو بی اے پاس
تو میں لیلیٰ کو تم سے بیاہ دوں گی
خوشی سے بن جاؤں گی میں تری ساس
میاں مجنوں انگوٹھا چھاپ نے یہ ''بمپر آفر'' سنی تو اس کے چراغوں میں روشنی تو کیا بتی تک نہیں تھی، بولا ...مائی سویٹ مدر ان لا اینڈ لیلیٰ ... اب میں اتنا گیا گزرا بھی نہیں کہ تمہاری شاعری کا اینٹ کا جواب پتھر سے دوں اس لیے عرض ہے کہ
کہا مجنوں نے یہ لیلیٰ کی ماں سے
''سنو میری نہ ہونے والی ساس''
یہی ٹھہری ہے شرط وصل لیلیٰ
تو استعفا مرا باحسرت و یاس
نہ بی اے چاہیے ہے اور نہ بی وی
کجا عاشق کجا کالج کی بکواس
اب یہ پتہ لگانا تو خاصا مشکل کام ہے کہ صحرائے نجد سے یہ ''استعفاؤں'' کی وبا پاکستان کیسے پہنچی، لیکن یہ ہے کہ ساری دنیا میں صرف پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جہاں بقول کے ڈی پاٹک ۔۔۔ ''جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں اور جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں'' چنانچہ بات بات پر استعفے دیے جاتے ہیں اور نہیں بھی دیے جاتے، اس سلسلے میں ہم نے علامہ بریانی سے رجوع کیا تو انھوں نے فرمایا کہ دراصل استعفا کی اصل قرات ''غ'' کے ساتھ ''استغفا'' کیا جائے اس لیے سب سے پہلے یہ دیکھنا پڑے گا کہ مذکورہ اور مروجہ ''استعفا'' کی صحیح قرآت کیا ہے۔
قرائن یہ بتاتے ہیں کہ یہ ''استغفے'' ہیں استعفے نہیں، دریا کے ''کمبلوں'' اور سر کی ''جوؤں'' سے اتنی آسان چھٹکارا پا سکیں اور یقیناً یہ ''عین غین'' کا فرق نکالنے کے لیے حضرت مولانا ''ف'' کی خدمات حاصل کر لی گئی جو ویسے تو عالم بے بدل اور علامہ بے مثل ہیں ہی لیکن ساتھ ساتھ سارے پاکستان کے سارے لیڈروں اور علماء و فصلا میں وہ واحد شخصیت ہیں جو ماہر ''عین غین'' بھی ہیں اور ماہر ''تحفظات'' بھی ہیں چنانچہ جیسے ہی وہ اس مقام پر پہنچے جہاں سے یہ سارا دھواں اٹھ رہا ہے تو فوراً ہی ایک کم بیس یعنی انیس ''تحفظات'' برآمد ہوئے حالانکہ اب تک بہت سارے ماہرین مذاکرات اس کام میں ہاتھ ڈال چکے تھے لیکن کچھ بھی برآمد نہیں کر پائے کیوں کہ ماہرین مذاکرات کی نظر الگ اور ماہرین تحفظات کی نگاہ الگ ہوتی ہے۔
''ولی را ولی می شناسد'' کے مصداق تحفظات کی شناخت کوئی ماہر تحفظات ہی کر سکتا تھا اور وہ انھوں نے کر لی، ہاتھ لگاتے ہی انیس عدد تحفظات برآمد ہو گئے، اب مسئلہ صرف اتنا سا رہ گیا ہے کہ انیس کی یہ تعداد کچھ زیادہ پرکشش نہیں ہے اگر چیز راؤنڈ فگر میں ہوں تو ہر لحاظ سے مستحسن ہوتی ہے چنانچہ تلاش تو جاری ہے کہ انیس کی یہ تعداد بیس کر کے راؤنڈ فگر میں ڈال دی جائے لیکن ایم کیو ایم کے پاس شاید یہ انیس ہی تحفظات موجود تھے اب صرف ایک ہی سبیل رہ جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا خیال ہے اس موقعے پر ایک چھوٹا حقیقہ نہ ہو جائے میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ بچت کرنا چاہیے۔
میاں بے چارا اپنے اخراجات میں کٹوتیاں کر کر کے بچت کو انیس کے عدد تک لے گیا لیکن کافی عرصے تک کوشش کے باوجود انیس کے بیس نہیں ہو رہے تھے اور جس کام کے لیے یہ بچت ہو رہی تھی اس کے لیے بیس روپے درکار تھے شوہر بے چارا روز وہ انیس روپے گنتا اور مایوس ہو کر پھر گولک میں ڈال دیتا، جب کسی طرح بھی انیس کے بیس نہیں ہوئے تو ایک دن بیوی نے ترس کھا کر (شاید تاریخ میں پہلی بار) اپنی پوٹلی سے ایک روپیہ برآمد کر کے ڈال دیا، شوہر خوش ہو کر ناچنے لگا کہ بیس پورے ہو گئے بیس روپے پورے ہو گئے۔
میں نے کر دکھایا میں نے کر دکھایا ۔۔۔ بیوی ناک بھوں چڑھا کر بولی زیادہ اچھلو مت میری مدد کے بغیر تم کبھی بیس نہیں کر پا سکتے تھے، یہاں بھی عین ممکن ہے اور ثالثین ایسا کرتے بھی رہے ہیں کہ کسی فریق سے پورا نہ ہو پا رہا ہو تو ثالثین اپنے پلے سے کچھ نہ کچھ ڈال کر پورا کر دیتے ہیں اور یہاں تو صرف ایک ہی ''تحفظ'' کا سوال ہے اس لیے توقع ہے کہ جناب مدظلہ العالی اپنے پلے سے یہ کمی پوری کر لیں گے ویسے بھی یہ استعفوں کا کھیل تو ہمارے ہاں اب اچھا خاصا اسٹیبلش ہو چکا ہے آج ہم کل تمہاری باری ہے
تنہا نہ کٹ سکیں گے سیاست کے راستے
پیش آئے گی کسی کی ضرورت کبھی کبھی
ایک مرتبہ پھر ہمارے سامنے ''تحقیق'' کا ایک مشکل ٹاسک پڑا ہوا ہے وہ کوئی شخص پیشہ ور گواہ تھا کئی کئی بار جب وہ ایک جج کے سامنے ''چشم دید گواہ'' کے طور پر پیش ہوا تو جج نے پوچھا عجیب بات ہے جب بھی کہیں کوئی واردات ہوتی ہے تو تم وہاں موجود ہوتے ہو، اس پر تجربہ کار گواہ نے کہا حضور کیا کروں، خدا ایسے مواقعے پر مجھے کسی نہ کسی طرح وہاں لے ہی جاتا ہے، ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ تحقیق کا کوئی نہ کوئی مسئلہ ہمارے سامنے آ ہی جاتا ہے اب یہ استعفاؤں کا معاملہ لے لیجیے جن کی پیداوار بڑھوتری کاشت و برداشت اور رسد و کھپت پاکستان میں کچھ زیادہ ہی ہونے لگی ہے۔
اگر معاملہ صرف ''استعفاؤں'' کا ہوتا تھا تو کوئی بات نہ تھی کسی نے استعفیٰ دیا کسی نے لیا اور منظور کیا، نہ رہا استعفیٰ اور نہ بجنے لگے ڈھول اور وہ بھی اتنے بڑے بڑے ۔۔۔ لیکن یہاں پیچیدہ بات یہ آن پڑی ہے کہ استعفیٰ دیے بھی جاتے ہیں اور وہی استعفے نہیں بھی دیے جاتے بقول شخصے یہ سیڑھیاں اوپر جاتی ہیں اور یہی سیڑھیاں اوپر سے نیچے بھی آتی ہیں ۔۔۔ جو استعفے دیے جاتے ہیں وہی استعفے نہیں بھی دیے جاتے ہیں
جو نہیں ہوتا وہی ہوتا بھی ہے
جو تھا نہیں ہے جو ہے نہ ہو گا
اور ایسے پیچیدہ مسئلے پر سوائے ہمارے اور کون تحقیق کی ہمت کر سکتا ہے سو لیجیے ہم نے اپنی تحقیق کا ٹٹو اسٹارٹ کر لیا، استعفاؤں کا پہلا سراغ ہمیں تاریخ میں میاں قیس عامری عرف مجنون آف صحرائے نجد کے مشہور و معروف استعفے سے ملتا ہے جس کا ذکر اکبر الہ آبادی نامی محقق نے یوں کیا ہے کہ جب مجنون نے لیلیٰ کی ممی سے لیلیٰ کا ہاتھ مانگا یعنی اسے پروپوز کیا اور اس کی اطلاع لیلیٰ نے مجنوں کو بدیں الفاظ دی کہ
شاید میری شادی کا خیال دل میں آیا ہے
اسی لیے ممی نے میری تمہیں چائے پر بلایا ہے
بہرحال مجنوں نے صحرا کے غزالاؤں، شمالاؤں اور جمالاؤں سے آدھے دن کی رخصت چاہی اور در لیلیٰ پر جا دستک دی، سگ لیلیٰ نے اس کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور پائنچے کا وہ آخری ٹکڑا بھی اپنی تحویل میں لے لیا جو ایڑی میں اٹکا ہوا تھا، مجنون نے جب لیلیٰ کی ممی کو اپنا ارائیول دیا اور اپنی زبانی درخواست پیش کی تو بات اس کے حلق میں اٹک گئی اور لیلیٰ کی ماں کچھ اور سمجھ کر لجائی شرمائی ۔۔ یس آئی ایم ریڈی ۔۔۔ لیکن مجنوں کا گلا صاف ہو گیا اور اس نے اپنا پہلے والا جملہ مکل کیا تو لیلیٰ کی ماں بھڑک اٹھی اور جو لڈو اس کے دل میں پھوٹے تھے وہ چور چور ہو گئے، محقق اکبر الہ آبادی نے اس ڈائیلاگ کو یوں منظوم کیا ہے
کہا مجنوں سے یہ لیلیٰ کی ماں نے
کہ میاں تم اگر کر لو بی اے پاس
تو میں لیلیٰ کو تم سے بیاہ دوں گی
خوشی سے بن جاؤں گی میں تری ساس
میاں مجنوں انگوٹھا چھاپ نے یہ ''بمپر آفر'' سنی تو اس کے چراغوں میں روشنی تو کیا بتی تک نہیں تھی، بولا ...مائی سویٹ مدر ان لا اینڈ لیلیٰ ... اب میں اتنا گیا گزرا بھی نہیں کہ تمہاری شاعری کا اینٹ کا جواب پتھر سے دوں اس لیے عرض ہے کہ
کہا مجنوں نے یہ لیلیٰ کی ماں سے
''سنو میری نہ ہونے والی ساس''
یہی ٹھہری ہے شرط وصل لیلیٰ
تو استعفا مرا باحسرت و یاس
نہ بی اے چاہیے ہے اور نہ بی وی
کجا عاشق کجا کالج کی بکواس
اب یہ پتہ لگانا تو خاصا مشکل کام ہے کہ صحرائے نجد سے یہ ''استعفاؤں'' کی وبا پاکستان کیسے پہنچی، لیکن یہ ہے کہ ساری دنیا میں صرف پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جہاں بقول کے ڈی پاٹک ۔۔۔ ''جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں اور جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں'' چنانچہ بات بات پر استعفے دیے جاتے ہیں اور نہیں بھی دیے جاتے، اس سلسلے میں ہم نے علامہ بریانی سے رجوع کیا تو انھوں نے فرمایا کہ دراصل استعفا کی اصل قرات ''غ'' کے ساتھ ''استغفا'' کیا جائے اس لیے سب سے پہلے یہ دیکھنا پڑے گا کہ مذکورہ اور مروجہ ''استعفا'' کی صحیح قرآت کیا ہے۔
قرائن یہ بتاتے ہیں کہ یہ ''استغفے'' ہیں استعفے نہیں، دریا کے ''کمبلوں'' اور سر کی ''جوؤں'' سے اتنی آسان چھٹکارا پا سکیں اور یقیناً یہ ''عین غین'' کا فرق نکالنے کے لیے حضرت مولانا ''ف'' کی خدمات حاصل کر لی گئی جو ویسے تو عالم بے بدل اور علامہ بے مثل ہیں ہی لیکن ساتھ ساتھ سارے پاکستان کے سارے لیڈروں اور علماء و فصلا میں وہ واحد شخصیت ہیں جو ماہر ''عین غین'' بھی ہیں اور ماہر ''تحفظات'' بھی ہیں چنانچہ جیسے ہی وہ اس مقام پر پہنچے جہاں سے یہ سارا دھواں اٹھ رہا ہے تو فوراً ہی ایک کم بیس یعنی انیس ''تحفظات'' برآمد ہوئے حالانکہ اب تک بہت سارے ماہرین مذاکرات اس کام میں ہاتھ ڈال چکے تھے لیکن کچھ بھی برآمد نہیں کر پائے کیوں کہ ماہرین مذاکرات کی نظر الگ اور ماہرین تحفظات کی نگاہ الگ ہوتی ہے۔
''ولی را ولی می شناسد'' کے مصداق تحفظات کی شناخت کوئی ماہر تحفظات ہی کر سکتا تھا اور وہ انھوں نے کر لی، ہاتھ لگاتے ہی انیس عدد تحفظات برآمد ہو گئے، اب مسئلہ صرف اتنا سا رہ گیا ہے کہ انیس کی یہ تعداد کچھ زیادہ پرکشش نہیں ہے اگر چیز راؤنڈ فگر میں ہوں تو ہر لحاظ سے مستحسن ہوتی ہے چنانچہ تلاش تو جاری ہے کہ انیس کی یہ تعداد بیس کر کے راؤنڈ فگر میں ڈال دی جائے لیکن ایم کیو ایم کے پاس شاید یہ انیس ہی تحفظات موجود تھے اب صرف ایک ہی سبیل رہ جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا خیال ہے اس موقعے پر ایک چھوٹا حقیقہ نہ ہو جائے میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ بچت کرنا چاہیے۔
میاں بے چارا اپنے اخراجات میں کٹوتیاں کر کر کے بچت کو انیس کے عدد تک لے گیا لیکن کافی عرصے تک کوشش کے باوجود انیس کے بیس نہیں ہو رہے تھے اور جس کام کے لیے یہ بچت ہو رہی تھی اس کے لیے بیس روپے درکار تھے شوہر بے چارا روز وہ انیس روپے گنتا اور مایوس ہو کر پھر گولک میں ڈال دیتا، جب کسی طرح بھی انیس کے بیس نہیں ہوئے تو ایک دن بیوی نے ترس کھا کر (شاید تاریخ میں پہلی بار) اپنی پوٹلی سے ایک روپیہ برآمد کر کے ڈال دیا، شوہر خوش ہو کر ناچنے لگا کہ بیس پورے ہو گئے بیس روپے پورے ہو گئے۔
میں نے کر دکھایا میں نے کر دکھایا ۔۔۔ بیوی ناک بھوں چڑھا کر بولی زیادہ اچھلو مت میری مدد کے بغیر تم کبھی بیس نہیں کر پا سکتے تھے، یہاں بھی عین ممکن ہے اور ثالثین ایسا کرتے بھی رہے ہیں کہ کسی فریق سے پورا نہ ہو پا رہا ہو تو ثالثین اپنے پلے سے کچھ نہ کچھ ڈال کر پورا کر دیتے ہیں اور یہاں تو صرف ایک ہی ''تحفظ'' کا سوال ہے اس لیے توقع ہے کہ جناب مدظلہ العالی اپنے پلے سے یہ کمی پوری کر لیں گے ویسے بھی یہ استعفوں کا کھیل تو ہمارے ہاں اب اچھا خاصا اسٹیبلش ہو چکا ہے آج ہم کل تمہاری باری ہے
تنہا نہ کٹ سکیں گے سیاست کے راستے
پیش آئے گی کسی کی ضرورت کبھی کبھی