پلان بی خطرے میں پڑ گیا بنگلہ دیش بھی پاکستان کو نازنخرے دکھانے لگا

بی پی ایل بھی اسی دوران شیڈول ہونے کی وجہ سے پیشکش قبول نہیں کرسکتے،نعیم الرحمان

ویمنزاسکواڈ کوسیریز کیلیے بھیجنے کا معاملہ زیرغور ہے،حکومت سے اجازت ملنے پر وفد حالات کا جائزہ لے گا،بورڈ آفیشل فوٹو: اے ایف پی

ممکنہ بھارتی انکار کے بعد یواے ای میں سیریز کا ''پلان بی'' ابتدا میں ہی خطرے میں پڑگیا، بنگلہ دیش بھی پاکستان کوناز نخرے دکھانے لگا ہے.

بی سی بی کے کرکٹ آپریشنزچیف نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ پی سی بی کی تجویز قابل عمل نظرنہیں آتی، بی پی ایل بھی اسی دوران شیڈول ہونے کی وجہ سے پیشکش قبول نہیں کرسکتے، ویمنز ٹیم کو پاکستان بھیجنے کا معاملہ زیرغور ہے، حکومت سے اجازت ملنے پرسیکیورٹی کنسلٹنٹ میجر(ر) حسین امام 4 رکنی وفد کے ہمراہ حالات کا جائزہ لیں گے، معاملات تسلی بخش پائے گئے توٹیم 27 ستمبرسے دورہ کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق ایم او یوکے تحت پاکستان کو دسمبرمیں بھارت کی میزبانی کرنا ہے، یو اے ای میں 2 ٹیسٹ، 5 ون ڈے اور3 ٹی ٹوئٹی مقابلوں سے پی سی بی کو بھاری آمدنی کی توقع تھی، مگر بی سی سی آئی نے الزام تراشی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے سیریز کی امیدوں پر پانی پھیرنا شروع کردیا،بھارتی پنجاب کے شہر گورداس پور میں پولیس اسٹیشن پر حملے کے بعد پڑوسی ممالک کی کشیدگی میں اضافہ ہوتا گیا،بی سی سی آئی کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر بار بار پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرتے ہوئے باہمی مقابلوں کے امکانات مسترد کرتے رہے ہیں۔


گذشتہ ماہ سلامتی امور کے سیکریٹریز کی سطح پر مذاکرات میں سیریز پر بھی کسی مثبت پیش رفت کی توقع ہو رہی تھی لیکن بھارت نے عین موقع پر ایک بار پھر ایجنڈے پر اعتراض کرتے ہوئے بات چیت سے ہی انکار کردیا، موہوم سی امید بھی باقی نہ رہنے پر پی سی بی نے بی پلان پر غور شروع کردیا تھا تاہم یہ بیل بھی منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی، بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں نے تصدیق کی کہ انھیں پاکستان کی جانب سے یو اے ای میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کی پیشکش ہوئی ہے، مگر اپنی پریمیئر ٹی ٹوئنٹی لیگ دسمبر میں شیڈول ہونے کی وجہ سے سیریز کیلیے وقت نکالنا ممکن نظر نہیں آتا، بی سی بی کے چیف کرکٹ آپریشنز نعیم الرحمان نے بتایا کہ پی سی بی کی جانب سے تجویز موصول ہوئی جو حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے قابل عمل نظر نہیں آتی،انھوں نے کہا کہ بی پی ایل بھی اسی دوران شیڈول ہونے کی وجہ سے پاکستانی پیشکش کو قبول نہیں کرسکتے۔

بی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر نظام الدین چوہدری نے کہا کہ پی سی بی کی تجویز غیر رسمی ذرائع سے ہم تک پہنچی،فی الحال معاملہ انتہائی ابتدائی مرحلے میں ہے، اس کے بارے میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جس پر بات کی جاسکے۔ بورڈ کے عہدیداروں نے کہا کہ ویمنز ٹیم کو پاکستان بھیجنے کا معاملہ اب بھی زیر غور تاہم دورہ سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط ہوگا۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیشی خواتین کرکٹرز کو میزبان ٹیم کیخلاف 31اگست سے 11ستمبر تک 3ون ڈے اور اتنے ہی ٹوئنٹی کھیلنے کیلیے آنا تھا، مگر پنجاب کے وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کی خود کش حملے میں شہادت کے بعد معاملہ تعطل کا شکار ہے، بی سی بی کے سیکیورٹی کنسلٹنٹ میجر(ر) حسین امام کو4رکنی وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کرکے حالات کا جائزہ لینا ہے،وہ اپنی حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے منتظر ہیں،بنگلہ دیشی بورڈ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر سیکیورٹی معاملات تسلی بخش پائے گئے تو ویمنز ٹیم 27 ستمبر سے پاکستان کا دورہ کریگی۔
Load Next Story