مجلس عمل کی بحالی
مولانا فضل الرحمان نے ملک میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ مذاکرات سے مسائل حل کیے جائیں۔
مولانا فضل الرحمان نے ملک میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ مذاکرات سے مسائل حل کیے جائیں۔ فوٹو: پی پی آئی
پانچ مذہبی جماعتوں نے جمعرات کو ایک اجلاس میں متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے۔
بحالی کا باضابطہ اعلان عیدالاضحی کے بعد ہونیوالے اجلاس میں کیا جائے گا۔ بحال کی گئی متحدہ مجلس عمل میں جماعت اسلامی اور جے یو آئی(س) شامل نہیں ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کا قیام جنرل مشرف کے دور میں عمل میں آیا تھا۔ اس اتحاد نے اکتوبر2002ء میں ہونے والے قومی الیکشن میں خیبر پختون خوا میں 99 میں سے 52 صوبائی سیٹیں جیتیں اور صوبے میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔بعد میں یہ اتحاد باہمی اختلافات کا شکار ہو کر غیر فعال ہو گیا۔اب متحدہ کی بحالی کے فیصلے پر جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں متحدہ مجلس عمل کے فعال ہونے پر کوئی گلہ شکوہ نہیں' شمولیت کے بارے میں ان سے کوئی بات نہیں کی گئی ۔ جو صورتحال سامنے آئی ہے' اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو جماعتیں مجلس عمل میں شامل نہیں ہیں، ان کے درمیان کچھ تحفظات اور گلے شکوے موجود ہیں۔
بہرحال جمہوریت میں ہر سیاسی جماعت کو حق حاصل ہے کہ وہ جس سے چاہے اتحاد کرے اور جس سے چاہے نہ کرے۔ متحدہ مجلس عمل کی بحالی سے یہ لگتا ہے کہ ملک کی دینی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد نہیں کریں اور وہ 2002ء کے الیکشن کی تاریخ دہرانے کی کوشش کریں گی تاہم جماعت اسلامی اور جے یو آئی' (س) کی شمولیت کے بغیر یہ اتحاد زیادہ موثر ثابت نہ ہو سکے گا۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ جب بھی کوئی نیا سیاسی اتحاد تشکیل پاتا ہے تو وہ اپنے قیام کا جواز یہ کہہ کر پیش کرتا ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیاں ناکام ہو چکیں، عوام مایوس اور پریشان ہیں' وہ عوامی مفاد کی خاطر ملک بچانے کے لیے آیا ہے اور وہ ہی اصل قوت ہے جو عوام کے تمام مسائل حل کر سکتا ہے۔ کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار مولانا فضل الرحمن نے بھی متحدہ کی بحالی کے موقع پر کیا ہے۔
انھوں نے ملک میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ مذاکرات سے مسائل حل کیے جائیں۔ جب الیکشن قریب آتے ہیں تو مذہبی سیاسی جماعتیں بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح متحد ہو جاتیں اور انتخابی میدان میں کود پڑتی ہیں۔ لیکن جب الیکشن گزر جاتے ہیں تو یہ اتحاد ایک بار پھر سے غیر فعال ہو جاتا ہے اور اتحاد کے وقت کیے گئے ان کے وعدے ایفا نہیں ہو پاتے۔ سیاسی مفادات کے اس کھیل میں مذہبی سیاسی جماعتیں آج تک مرکز میں حکومت نہیں بنا پائیں اور اپوزیشن کا کردار ہی ادا کرتی چلی آرہی ہیں۔ مذہبی جماعتیں انتخابات میں کامیابی چاہتی ہیں تو انھیں آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہو کر میدان عمل میں اترنا ہو گا۔ خوش کن امر یہ ہے کہ تمام مذہبی سیاسی جماعتیں جمہوری طریقے سے سیاست میں اپنی کامیابی کے لیے راہ ہموار کر رہی ہیں ' وہ تشدد کی سیاست اور غیر جمہوری رویوں سے گریزاں دکھائی دیتی ہیں۔
بحالی کا باضابطہ اعلان عیدالاضحی کے بعد ہونیوالے اجلاس میں کیا جائے گا۔ بحال کی گئی متحدہ مجلس عمل میں جماعت اسلامی اور جے یو آئی(س) شامل نہیں ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کا قیام جنرل مشرف کے دور میں عمل میں آیا تھا۔ اس اتحاد نے اکتوبر2002ء میں ہونے والے قومی الیکشن میں خیبر پختون خوا میں 99 میں سے 52 صوبائی سیٹیں جیتیں اور صوبے میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔بعد میں یہ اتحاد باہمی اختلافات کا شکار ہو کر غیر فعال ہو گیا۔اب متحدہ کی بحالی کے فیصلے پر جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں متحدہ مجلس عمل کے فعال ہونے پر کوئی گلہ شکوہ نہیں' شمولیت کے بارے میں ان سے کوئی بات نہیں کی گئی ۔ جو صورتحال سامنے آئی ہے' اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو جماعتیں مجلس عمل میں شامل نہیں ہیں، ان کے درمیان کچھ تحفظات اور گلے شکوے موجود ہیں۔
بہرحال جمہوریت میں ہر سیاسی جماعت کو حق حاصل ہے کہ وہ جس سے چاہے اتحاد کرے اور جس سے چاہے نہ کرے۔ متحدہ مجلس عمل کی بحالی سے یہ لگتا ہے کہ ملک کی دینی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد نہیں کریں اور وہ 2002ء کے الیکشن کی تاریخ دہرانے کی کوشش کریں گی تاہم جماعت اسلامی اور جے یو آئی' (س) کی شمولیت کے بغیر یہ اتحاد زیادہ موثر ثابت نہ ہو سکے گا۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ جب بھی کوئی نیا سیاسی اتحاد تشکیل پاتا ہے تو وہ اپنے قیام کا جواز یہ کہہ کر پیش کرتا ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیاں ناکام ہو چکیں، عوام مایوس اور پریشان ہیں' وہ عوامی مفاد کی خاطر ملک بچانے کے لیے آیا ہے اور وہ ہی اصل قوت ہے جو عوام کے تمام مسائل حل کر سکتا ہے۔ کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار مولانا فضل الرحمن نے بھی متحدہ کی بحالی کے موقع پر کیا ہے۔
انھوں نے ملک میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ مذاکرات سے مسائل حل کیے جائیں۔ جب الیکشن قریب آتے ہیں تو مذہبی سیاسی جماعتیں بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح متحد ہو جاتیں اور انتخابی میدان میں کود پڑتی ہیں۔ لیکن جب الیکشن گزر جاتے ہیں تو یہ اتحاد ایک بار پھر سے غیر فعال ہو جاتا ہے اور اتحاد کے وقت کیے گئے ان کے وعدے ایفا نہیں ہو پاتے۔ سیاسی مفادات کے اس کھیل میں مذہبی سیاسی جماعتیں آج تک مرکز میں حکومت نہیں بنا پائیں اور اپوزیشن کا کردار ہی ادا کرتی چلی آرہی ہیں۔ مذہبی جماعتیں انتخابات میں کامیابی چاہتی ہیں تو انھیں آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہو کر میدان عمل میں اترنا ہو گا۔ خوش کن امر یہ ہے کہ تمام مذہبی سیاسی جماعتیں جمہوری طریقے سے سیاست میں اپنی کامیابی کے لیے راہ ہموار کر رہی ہیں ' وہ تشدد کی سیاست اور غیر جمہوری رویوں سے گریزاں دکھائی دیتی ہیں۔