سانپ کا اپنے ’’پیروں‘‘ پر کھڑا ہونا

جب کہ یہ حقیقت ساری دنیا کو معلوم ہے کہ پیر اگر ایک مرتبہ گئے تو گئے پھر ان پر نہ کبھی کوئی کھڑا ہوا ہے اور نہ ہو گا

barq@email.com

بات ''شروع'' کہاں سے ہوتی ہے اس سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں ہے کیوں کہ ہم آخری تمت بالخیر یا دی اینڈ پر کھڑے ہیں اس لیے کوئی بھی چیز ہو بات ہو، پہنچتی تو ہم تک ہے لیکن شروع کہاں سے ہوتی ہے اس کے بارے میں ہم کچھ بھی نہیں کہہ سکتے جیسے بارش کہیں بھی ہو پتھر کہیں سے بھی لڑھکے اور بلا کہیں سے بھی آئے اس کا آخری اسٹیشن نشیب کی آخری تہہ میں ہوتا ہے اور یہ تو طے ہے کہ بات جب نکلتی ہے تو پھر ''دور تلک'' جاتی ہے حتیٰ کہ ''جوانی'' سے شروع ہو کر ''قیامت'' تک بھی پہنچ جاتی ہے۔

اب کے جس بات پر ہم بات کرنا چاہتے ہیں وہ مشہور فلمی اداکار شفقت چیمہ کے منہ سے نکلی ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری ترقی کر کے بہت جلد اپنے ''پیروں'' پر کھڑی ہو جائے گی کیوں کہ باقی ہر طرف سے تو اللہ کا فضل ہے پاکستان ہر ہر راستے پر ترقی کر چکا ہے صرف آنکھوں کی یہ آخری ''سوئی'' یعنی فلم انڈسٹری بھی اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے گی اور چونکہ وہ ہم سے زیادہ فلم انڈسٹری کے ''پیروں'' کے بارے میں جان کاری رکھتے ہیں تو یقیناً انھوں نے کچھ ایسا محسوس کیا ہو گا مطلب یہ کہ فلم انڈسٹری کے پیروں کی ''مالش'' جو ایک عرصے سے چل رہی تھی شاید اس سے کچھ افاقہ ہونے لگا ہو اور انھوں نے اس پیر تسمہ پا کے پیروں میں کچھ جان آتی ہوئی محسوس کی ہو گی اور شاید اس نے پڑوسی ملک کے ان مشہور ''تیلوں'' میں سے کوئی تیل ٹرائی کرنا شروع کیا ہو گا جن کے بارے میں بڑے بڑے اداکار مسلسل ٹی وی پر بتا رہے ہیں کہ اس کی مالش سے ... باقی تو آپ کو ہم سے زیادہ علم ہے۔

یہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے یا کھڑا کرنے کا سلسلہ کافی قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے، یہ محاورہ یا قول شاید اس زمانے سے شروع ہوا ہو گا جب انسان کے اجداد نے ''چاروں پیروں'' میں سے دو کو ''ہاتھ'' بنا کر سیدھا ''دو پیروں'' پر چلنا شروع کیا ہو گا، کسی اور ملک یا خطے کے بارے میں تو ہم آپ کو کچھ بھی جان کاری نہیں دے سکتے کہ وہاں اپنے ''پیروں'' یا ''دو'' پیروں پر کھڑا ہونے یا کھڑا کرنے کا یہ سلسلہ کب سے ہے کہاں کہاں تک ہے اور کس کس چیز کو ابھی تک اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں کامیابی ہوئی ہے لیکن اپنے ملک کے بارے میں تو ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ چوں کہ پورے ملک کو یہی ''پیروں'' کا مسئلہ درپیش ہے یعنی اسے پورے ستر سال سے ''اپنے'' پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش چل رہی ہے دنیا بھر کے آزمودہ کار اور جدی پشتی مالشیئے طرح طرح کے تیل اور روغن مل مل کر اس کی ''مالش'' میں لگے ہوئے ہیں اس لیے ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں کے مصداق یہاں تقریباً ہر چیز کے ''پیروں'' کو یہی مسئلہ لاحق ہے، یہ پیروں کا روگ بھی چونکہ ایک خاندانی روگ ہے اور والدین سے چل کر یہ روگ اداروں میں بھی چلتا رہا ہے۔


دراصل یہ ''پیروں'' اور پھر خاص طور پر ''دو پیروں'' اور پھر ان پر ''کھڑا'' ہونے کا سلسلہ ہمیشہ سے ہی انسان کے لیے سر درد اور درد سر رہا ہے حالاں کہ ''سر'' اور ''پیروں'' کا آپس میں کوئی قریبی یا جائز رشتہ بھی نہیں ہے لیکن جس طرح ''عشق'' اول در دل معشوق پیدا می شود... اسی طرح اپنے پیروں یا دو پیروں پر کھڑا ہونے کا خناس پہلے ''سر'' میں پیدا ہوتا ہے اور پھر ساری عمر انسان اس فکر میں ہلکان رہتا ہے کہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے آخر اپنے پیروں میں کیا ایسی جنت رکھی ہے کہ ضروری ان پر کھڑا ہوا جائے اب کتنا زمانہ بیت گیا ہے ستر بہاریں آئیں اور خزان میں بدل کر چلی گئیں اور پاکستان بدستور اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی سعی کر رہا ہے آخر کیوں؟ جب ''پرائے پیروں'' سے کام چل ہی رہا ہے تو خواہ مخواہ اپنے پیر پیدا کرنے اور ان پر کھڑا ہونے میں کتنے نفلوں کا ثواب ہے۔

جب کہ یہ حقیقت ساری دنیا کو معلوم ہے کہ پیر اگر ایک مرتبہ گئے تو گئے پھر ان پر نہ کبھی کوئی کھڑا ہوا ہے اور نہ ہو گا، پھر وہ سندباد جہازی کے پیر تسمہ پا کی طرح کسی اور کو ڈھونڈتا رہتا ہے کہ آئے اور اسے اٹھائے کیوں کہ اس کے ''پیر'' تسمہ کی طرح لاغر اور بے جان ہو کر کھڑے ہونے کی سکت ہی کھو بیٹھتے ہیں اس میں ایک بڑا زبردست فائدہ اور پلس پوائنٹ یہ ہے کہ پیروں والے جب کسی پیر تسمہ پا کو دیکھتے ہیں تو فوراً ہی پسیج کر اسے اپنی پیٹھ پر اٹھا لیتے ہیں۔

سندباد جہازی کو جس پیر تسمہ پا سے پالا پڑا تھا وہ بھی پاکستان کی طرح اچھے خاصے پیر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن مسلسل اپنے پیروں سے کام نہ لینے اور دوسروں پر سواری کرنے کا چسکا کچھ ایسے پڑا کہ بیکار ہوتے ہوتے اس کے پیر تسمہ بن گئے کیوں کہ یہ تو دنیا جانتی ہے کہ جس عضو سے کام نہ لیا جائے وہ بیکار ہوتے ہوتے معدوم ہو جاتا ہے اس کا سب سے بڑا ثبوت ہمارے سامنے سانپ کا ہے کہ دوسروں کے تیار شدہ ''بلوں اور سوراخوں'' میں مفت میں قابض ہو کر رہنے کی وجہ سے اس کے پیر کم زور ہوتے ہوئے جھڑ ہی گئے۔

کچھ ایسے ہی آثار پاکستان اور اس کے وارثوں میں بھی دکھائی دے رہے ہیں کہ ایک پیر تو پہلے ہی جان چھڑا چکا ہے جب کہ دوسرے میں جان ہی باقی نہیں رہی اور رہ بھی کیسے سکتی ہے اتنی جونکیں اتنے ویمپائر اس سے چمٹے ہوئے ہیں اور اتنا سارا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے کہ ... آگے کچھ اور کہنے سے کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔
Load Next Story