دہشتگردی کے خلاف عزم میں پیش رفت
دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا یہ عزم در حقیقت نیشنل ایکشن پلان اور زمینی صورتحال کی سنگینی سے ہے
پاکستان نے شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اپنی علاقائی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ فوٹو: فائل
آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی عدالتوں نے مزید5 خطرناک دہشتگردوں کو سزائے موت اور ایک مجرم کو عمر قید کی سزا سنا دی، سزا پانے والے تمام دہشتگرد سویلینز ہیں اور لاہور میں وکیل کے قتل، کوئٹہ میں فرقہ وارانہ قتل و غارت ، کراچی میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں، بنوں جیل توڑنے، خیبر ایجنسی میں گرلز اسکول اور پولیو ٹیم پر حملوں میں ملوث تھے، تمام افراد نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے5 دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی۔ دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا یہ عزم در حقیقت نیشنل ایکشن پلان اور زمینی صورتحال کی سنگینی سے ہے، ملک میں عمومی رویہ یہ تھا کہ دہشتگردوں اور کریمنلز سے نمٹنا مشکل اور ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے چنانچہ شمالی وزیرستان کو دہشتگرد اپنا ناقابل تسخیر قلعہ سمجھتے تھے جب کہ سابقہ حکومتیں بھی قومی سلامتی اور دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث تحریک طالبان پاکستان اور دیگر گروپوں سے بات چیت اور مفاہمت میں وقت ضایع کرتی رہیں جس سے دہشتگردوں۔
انتہاپسند و فرقہ ورانہ گروہوں اور کالعدم تنظیموں کے ماسٹرمائنڈز اس زعم اور غرور میں مبتلا ہو گئے کہ کسی حکومت یا عسکری قوت میں ان سے ٹکرانے کا حوصلہ نہیں، مگر اس بار ان کے سارے دہشتگردانہ خواب چکنا چور ہو گئے کیونکہ عسکری اور سیاسی قیادت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ دہشتگردوں کو کراچی سمیت کسی جگہ پناہ نہیں ملنی چاہیے، پاک فوج نے سندھ پولیس کو ساڑھے 6 کروڑ کا اسلحہ اور دیگر سیکیورٹی آلات مہیا کیے جو آرمی چیف کی ہدایت پر مقامی طور پر تیار کردہ تھے جن میں بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ بھی شامل ہیں۔ چمن، ژوب میں بھی اسلحہ کی بھاری کھیپ پکڑی گئی۔
بی بی سی کے مطابق اس سے پہلے فوجی عدالتیں 14 مجرموں کو موت اور عمر قید کی سزائیں سنا چکی ہیں، ان میں آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور پر حملہ کرنے والے مجرمان بھی شامل ہیں جب کہ ایک مجرم حیدر علی نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس پر عدالت نے فیصلے پر عمل درآمد روک رکھا ہے۔
دریں اثنا پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب کے تحت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دیں، خیبر ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائیوں کے دوران مزید 31 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، دہشت گردوں کا اسلحہ اور بارود کا ذخیرہ تباہ کر دیا گیا، آئی ایس پی آر کے مطابق بدھ کو شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال کے علاقوں سیدگئی اور زوئی میں فضائی کارروائی کے دوران کئی شدت پسند مارے گئے جب کہ ان کے 5 ٹھکانے تباہ کر دیے گئے جب کہ پاکستان نے شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اپنی علاقائی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
بدھ کو دفتر خارجہ سے جاری بیان میں شمالی وزیرستان کے شمال مغربی علاقے میں پاک افغان سرحد سے تقریباً اڑھائی کلومیٹر اندر کیے گئے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس میں متعدد انسانی جانیں ضایع ہوئیں، ایسے حملے پاکستان کی علاقائی سالمیت اور عالمی قوانین کے منافی ہیں۔
بلاشبہ مشترکہ ریاستی عزم و حوصلے سے ان کریمنلز کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جا رہا ہے جو بیگناہ شہریوں پر خود کش حملے کرنے، جیلیں توڑنے، فرقہ ورانہ قتل و غارت، دہشتگردی، بھتہ خوری، اور اغوا برائے تاوان و دیگر بہیمانہ وارداتوں میں ملوث تھے اور کئی سال سے پھانسی گھاٹ میں تھے، یہ سیاسی ارادہ پہلی بار سامنے آیا اور عسکری و سیاسی قیادت کے مابین حکمت عملی اور ریاستی رٹ کو نہ ماننے والوں کا باب بند کرنے پر اتفاق ہوا۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے5 دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی۔ دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا یہ عزم در حقیقت نیشنل ایکشن پلان اور زمینی صورتحال کی سنگینی سے ہے، ملک میں عمومی رویہ یہ تھا کہ دہشتگردوں اور کریمنلز سے نمٹنا مشکل اور ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے چنانچہ شمالی وزیرستان کو دہشتگرد اپنا ناقابل تسخیر قلعہ سمجھتے تھے جب کہ سابقہ حکومتیں بھی قومی سلامتی اور دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث تحریک طالبان پاکستان اور دیگر گروپوں سے بات چیت اور مفاہمت میں وقت ضایع کرتی رہیں جس سے دہشتگردوں۔
انتہاپسند و فرقہ ورانہ گروہوں اور کالعدم تنظیموں کے ماسٹرمائنڈز اس زعم اور غرور میں مبتلا ہو گئے کہ کسی حکومت یا عسکری قوت میں ان سے ٹکرانے کا حوصلہ نہیں، مگر اس بار ان کے سارے دہشتگردانہ خواب چکنا چور ہو گئے کیونکہ عسکری اور سیاسی قیادت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ دہشتگردوں کو کراچی سمیت کسی جگہ پناہ نہیں ملنی چاہیے، پاک فوج نے سندھ پولیس کو ساڑھے 6 کروڑ کا اسلحہ اور دیگر سیکیورٹی آلات مہیا کیے جو آرمی چیف کی ہدایت پر مقامی طور پر تیار کردہ تھے جن میں بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ بھی شامل ہیں۔ چمن، ژوب میں بھی اسلحہ کی بھاری کھیپ پکڑی گئی۔
بی بی سی کے مطابق اس سے پہلے فوجی عدالتیں 14 مجرموں کو موت اور عمر قید کی سزائیں سنا چکی ہیں، ان میں آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور پر حملہ کرنے والے مجرمان بھی شامل ہیں جب کہ ایک مجرم حیدر علی نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس پر عدالت نے فیصلے پر عمل درآمد روک رکھا ہے۔
دریں اثنا پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب کے تحت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دیں، خیبر ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائیوں کے دوران مزید 31 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، دہشت گردوں کا اسلحہ اور بارود کا ذخیرہ تباہ کر دیا گیا، آئی ایس پی آر کے مطابق بدھ کو شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال کے علاقوں سیدگئی اور زوئی میں فضائی کارروائی کے دوران کئی شدت پسند مارے گئے جب کہ ان کے 5 ٹھکانے تباہ کر دیے گئے جب کہ پاکستان نے شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اپنی علاقائی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
بدھ کو دفتر خارجہ سے جاری بیان میں شمالی وزیرستان کے شمال مغربی علاقے میں پاک افغان سرحد سے تقریباً اڑھائی کلومیٹر اندر کیے گئے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس میں متعدد انسانی جانیں ضایع ہوئیں، ایسے حملے پاکستان کی علاقائی سالمیت اور عالمی قوانین کے منافی ہیں۔
بلاشبہ مشترکہ ریاستی عزم و حوصلے سے ان کریمنلز کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جا رہا ہے جو بیگناہ شہریوں پر خود کش حملے کرنے، جیلیں توڑنے، فرقہ ورانہ قتل و غارت، دہشتگردی، بھتہ خوری، اور اغوا برائے تاوان و دیگر بہیمانہ وارداتوں میں ملوث تھے اور کئی سال سے پھانسی گھاٹ میں تھے، یہ سیاسی ارادہ پہلی بار سامنے آیا اور عسکری و سیاسی قیادت کے مابین حکمت عملی اور ریاستی رٹ کو نہ ماننے والوں کا باب بند کرنے پر اتفاق ہوا۔