مبینہ مضر صحت گوشت کی فروخت
لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک کارروائی میں راولپنڈی سے لایا جانے والا مبینہ مضر صحت گوشت برآمد ہوا ہے۔
حکومت کا فرض ہے کہ وہ کوئی بھی مہم شروع کرنے سے پہلے اس پہلو کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔ فوٹو: فائل
پاکستان میں بیمار اور مردہ جانوروں کے گوشت کی فروخت کی اطلاعات منظر عام پر آتی رہتی ہیں' گزشتہ کچھ عرصے سے گدھے کے گوشت کی فروخت کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بنیں' کبھی کچھوے کے گوشت کی فروخت کی خبر آتی ہے اور کبھی گھوڑے ذبح کرنے کی اطلاعات بھی آتی ہیں' گزشتہ روز اخباری اطلاعات کے مطابق لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک کارروائی میں راولپنڈی سے لایا جانے والا مبینہ مضر صحت گوشت برآمد ہوا ہے۔
یہ گوشت کس جانور کا ہے' اس کا پتہ لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے ہی چلے گا تاہم یہ حقیقت واضح ہوئی ہے کہ مختلف دکانوں پر فروخت ہونے والے گوشت کی چیکنگ کا کوئی معیار اور طریقہ کار ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ چیکنگ کرنے والے سرکاری عملے کے احتساب کا بھی میکنزم ہونا چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ محکمہ فوڈ کے افسروں اور اہلکاروں کو چاہیے کہ وہ اپنے فرائض قانون کے مطابق ضرور ادا کریں لیکن جب تک لیبارٹری سے تصدیق نہیں ہو جاتی' اس وقت تک کسی چیز کے بارے میں میڈیا کو کوئی اطلاع نہ دیں' حتمی تصدیق کے بغیر محض چھاپوں کی بنا پر میڈیا میں آنے والی اطلاعات سے لوگوں کی کاروباری ساکھ متاثر ہوتی ہے اور عوام بھی پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔حکومت کا فرض ہے کہ وہ کوئی بھی مہم شروع کرنے سے پہلے اس پہلو کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔
یہ گوشت کس جانور کا ہے' اس کا پتہ لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے ہی چلے گا تاہم یہ حقیقت واضح ہوئی ہے کہ مختلف دکانوں پر فروخت ہونے والے گوشت کی چیکنگ کا کوئی معیار اور طریقہ کار ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ چیکنگ کرنے والے سرکاری عملے کے احتساب کا بھی میکنزم ہونا چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ محکمہ فوڈ کے افسروں اور اہلکاروں کو چاہیے کہ وہ اپنے فرائض قانون کے مطابق ضرور ادا کریں لیکن جب تک لیبارٹری سے تصدیق نہیں ہو جاتی' اس وقت تک کسی چیز کے بارے میں میڈیا کو کوئی اطلاع نہ دیں' حتمی تصدیق کے بغیر محض چھاپوں کی بنا پر میڈیا میں آنے والی اطلاعات سے لوگوں کی کاروباری ساکھ متاثر ہوتی ہے اور عوام بھی پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔حکومت کا فرض ہے کہ وہ کوئی بھی مہم شروع کرنے سے پہلے اس پہلو کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔