ادب فن اور عوام

انجمن ترقی پسند مصنفین کی ایک روشن اور لگ بھگ ایک صدی پر پھیلی ہوئی تاریخ ہے۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

پاکستان خصوصاً کراچی کے عوام خوف و دہشت کی جس فضا میں زندہ ہیں سیکیورٹی فورسز اس فضا کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں اور کسی حد تک عوام کا اعتماد بحال بھی ہو رہا ہے لیکن دس بارہ سال کے دوران یہ فضا اس قدر مستحکم ہو گئی ہے کہ اس کو آسانی سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ بدقسمتی سے اس عرصے میں نہ حکومتی سطح پر اس فضا کو بدلنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی نہ انتظامی اداروں نے خلوص نیت اور ایمانداری سے وہ کردار ادا کیا جو اس کی ذمے داری تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جرائم کی جڑیں اس قدر گہری اور وسیع ہو گئیں کہ انھیں اکھاڑ پھینکنا آسان نہ رہا۔ دہشت گرد اور جرائم پیشہ طاقتیں عوام میں اس طرح گھل مل گئی ہیں کہ انھیں علیحدہ کر کے ان کے خلاف کارروائی کرنا آسان نہ رہا۔

1947ء کے بعد متحدہ ہندوستان میں منفی اور انتہا پسند طاقتیں برصغیر کے عوام کو مذہب کے نام پر قتل و غارت کے ایسے صحرا میں لے گئیں کہ 22 لاکھ بے گناہ انسان جن میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، بچے، بڑے، عورتیں، مرد سب شامل تھے بھیڑ بکریوں کی طرح کاٹ دیے گئے۔ اس تاریخ کے بدترین قتل عام نے انسانوں کو خوف اور مایوسی کے سمندر میں دھکیل دیا۔ اگرچہ حکومتی سطح پر اس فضا کو بدلنے کی کوشش کی گئی لیکن خوف و دہشت کی چادر اس طرح لپٹی ہوئی تھی کہ محض حکومتی اور انتظامی سطح پر عوام کا اعتماد بحال کرنا اور انھیں مایوسی سے نکالنا ممکن نہ رہا۔

اس مایوس کن صورتحال میں ادیب اور شاعر آگے بڑھے اور عوام کے زخموں پر ادب اور شاعری کو مرہم کی طرح استعمال کیا۔ اس ادبی تحریک نے آہستہ آہستہ عوام کے درمیان محبت اور بھائی چارے کی فضا کو مستحکم کیا اور عوام 22 لاکھ بے گناہ انسانوں کے بے رحمانہ قتل عام کے صدمے سے باہر نکلنے لگے۔ اس ادبی تحریک میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی لکھاری سب شامل تھے۔

1947ء کے بعد جس ادبی تحریک نے انسانوں کے ذہنوں سے فرقہ وارانہ منافرتوں کو کھرچا، اس کا آغاز 1935ء میں سجاد ظہیر اور ان کے رفیقوں نے کیا تھا۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے متحرک پلیٹ فارم سے عوام میں محبت اور بھائی چارے کی ایسی فضا کی آبیاری کی گئی کہ 1947ء کے زخم بھرنے لگے۔

انجمن ترقی پسند مصنفین ایک تنظیم ہی نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک تھی جو سارے متحدہ ہندوستان میں خوشبو کی طرح پھیل گئی ہمارے بعض ادبی اکابرین کا کہنا ہے کہ ادب اور شاعری اگر نظریاتی ہو جائے تو پھر وہ محض پروپیگنڈہ بن کر رہ جاتی ہے ہم یہاں اس مفروضے پر بحث کر کے وقت ضایع نہیں کریں گے، اس حوالے سے بس اتنا کہیں گے کہ کسی بھی دور میں کوئی ادب کوئی شاعری غیر نظریاتی نہیں رہی۔ ہاں نظریے ضرور بدلتے رہے ہیں۔


انجمن ترقی پسند مصنفین کی ایک روشن اور لگ بھگ ایک صدی پر پھیلی ہوئی تاریخ ہے۔ انجمن کے علاوہ صرف کراچی میں بے شمار ادبی تنظیمیں ہیں لیکن انجمن ترقی پسند مصنفین سمیت تمام تنظیمیں عمومی طور پر تنقیدی نشستوں کے دائرے ہی میں گھوم رہی ہیں اور اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ ان تنقیدی نشستوں میں وہی مخصوص لکھاری اور وہی مخصوص حاضرین ہوتے ہیں جو ہر جگہ دیکھے جاتے ہیں اس بے معنی مشق سے سوائے وقت کے زیاں کے اور کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔

اس حوالے سے بیماریوں کے تسلسل کی وجہ سے ہم کوئی متحرک کردار ادا کرنے کے قابل تو نہیں لیکن اپنی سی کوشش کرتے ہوئے کچھ ادیبوں اور شاعروں کو اکٹھے کر کے انھیں یہ تجویز ضرور دی کہ ادبی تنظیموں خاص طور پر انجمن ترقی پسند مصنفین کو تنقیدی نشستوں کے موجودہ حصار سے نکل کر شہر کے مختلف علاقوں میں ادبی نشستوں اور مشاعروں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ خاص طور پر شہر کے مضافاتی علاقوں میں اس قسم کی نشستوں کا اہتمام کرنا چاہیے تا کہ ادب اور شاعری شہر کے دو چار مخصوص مقامات سے نکل کر عوام کی بستیوں تک پہنچ سکے۔

ادب اور شاعری کے علاوہ ڈرامے بھی عوام کو تفریح مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بیداری پیدا کرنے کا اہم کام انجام دے سکتے ہیں۔ کراچی میں تقسیم کے بعد دو تین عشروں تک ڈرامے کے حوالے سے معروف شخصیت علی احمد عوامی ڈرامے لکھتے اور پیش کرتے رہے علی احمد ہمارے قریبی دوستوں میں تھے ان کا اس حوالے سے بہت بڑا کنٹری بیوشن یہ رہا کہ وہ عوامی مسائل پر ڈرامے لکھتے تھے اور غریب عوام کی بستیوں میں پیش کرتے تھے ان کے مشہور ڈراموں میں زرد بخار، آدھی روٹی ایک لنگوٹی، وغیرہ شامل ہیں۔

کراچی میں ڈراموں کا مرکز آرٹس کونسل ہے اس میں شک نہیں کہ آرٹس کونسل میں بڑے کامیاب ڈرامے پیش کیے جاتے رہے ہیں لیکن ان کا مایوس کن پہلو یہ ہے کہ ان ڈراموں سے مستفید ہونے والے بھی مخصوص اور محدود ہیں۔ عام آدمی تک ان کی رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔ ایسی مایوس کن صورتحال میں کراچی کے کچھ ڈرامہ آرٹسٹوں کا یہ بیان کے ''اب ہم ڈراموں کو شہر کی چند مخصوص جگہوں سے نکال کر مضافاتی بستیوں میں لے جائیں گے'' انتہائی حوصلہ افزا ہے۔

کراچی سیکڑوں بلکہ ہزاروں کلو میٹر تک پھیلا ہوا ایسا شہر ہے جس میں غریب عوام کی اکثریت مضافاتی بستیوں میں رہتی ہے جن کے لیے تفریح کے کوئی مواقع نہیں ہیں اگر ہمارے آرٹسٹ دوست اپنے اعلان کے مطابق مضافاتی بستیوں میں ڈراموں کا اہتمام کریں تو یہ ایک بہت بڑا مثبت کام ہو گا۔ فن اور ادب دو ایسے میڈیم ہیں جن کے ذریعے عوام کو تفریح کے ساتھ ساتھ ذہنی انقلاب کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ ڈرامہ آرٹسٹوں نے اپنے ڈراموں کو مضافاتی بستیوں تک لے جانے کا ایک مثبت اور بامعنی اعلان کیا ہے اگر ہماری ادبی تنظیمیں بھی ادبی نشستوں اور مشاعروں کو مضافاتی بستیوں تک لے جانے کی کوئی سبیل کریں تو یہ ایک ایسا بامعنی بامقصد قدم ہو گا جس کے فوائد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
Load Next Story