ٹارگٹ کلنگ حساس علاقوں میں ٹریفک پولیس اہلکار چوکیوں تک محدود

پہلی بار ٹریفک پولیس اہلکارمسلح ہوکرڈیوٹی دینے پر مجبور،کئی نے تبادلوں اوررخصت پر جانے کی درخواستیں دیدیں

ٹریفک پولیس کو نشانہ بنانے کے پیچھے وہ عناصر ہیں جن کے خلاف گھیرا تنگ ہوچکا ہے فوٹو: فائل

دہشت گردوں کی جانب سے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی پے در پے وارداتوں کے بعد شہر کے انتہائی حساس علاقوں میں ٹریفک پولیس اہلکاروں کو فرائض کی انجام دہی سے روک دیا گیا، ملکی تاریخ میں پہلی بار ٹریفک پولیس کو حساس علاقوں میں سڑکوں سے ہٹا کر دفاتر اور چوکیوں تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری ہدایات اور حکم نامے کے مطابق شہرکے انتہائی حساس علاقے جن میں منگھو پیر، اورنگی ٹاؤن، پیرآباد، بلدیہ ٹاؤن، سائٹ، نیوکراچی، سی ویو اور کورنگی سمیت کئی علاقوں میں قائم ٹریفک سیکشن میں تعینات ٹریفک پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر فرائض کی انجام دہی سے روک کر انھیں دفاتر اور چوکیوں تک محدود کردیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق چند روز کے دوران مسلسل ٹریفک پولیس اہلکاروں پر پے در پے حملوں کے باعث ٹریفک پولیس اہلکاروں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔


ٹریفک پولیس اہلکاروں نے پرامن علاقوں میں تبادلوں کی کوششیں تیزکر دی ہیں بعض ٹریفک پولیس اہلکاروں نے رخصت پر جانے درخواستیں دیدیں، ٹریفک پولیس حکام کے مطابق بیشتر علاقوں میں ٹریفک پولیس اہلکاروں کی حفاظت کے لیے پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ ٹریفک پولیس کے اہلکاروںکو اسلحہ کے ساتھ بلٹ پروف جیکٹیں بھی فراہم کردی گئی ہیں۔

ڈی آئی جی ٹریفک ڈاکٹر امیر شیخ کا کہنا ہے کہ انتہائی حساس علاقوں میں ٹریفک پولیس اہلکاروں کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے کا فیصلہ 10 روز کے دوران 3 وارداتوں میں ٹریفک پولیس کے 5 اہلکاروں کی شہادت کے بعد کیا گیا ہے یہ فیصلہ عارضی ہے صورتحال سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کی جارہی ہے مین یہ نہیں سمجھتا کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کہ وجہ ٹریفک پولیس کی جانب سے شروع کی جانے والے مہم ہے۔

ٹریفک پولیس کو نشانہ بنانے کے پیچھے وہ عناصر ہیں جن کے خلاف گھیرا تنگ ہوچکا ہے اور انھیں شکست کا سامنا ہے یہ عناصر دلبرداشتہ ہوکر نرم ہدف ٹریفک پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنارہے ہیں، ٹریفک پولیس شہریوں اور سڑک کے درمیان فرائض انجام دیتے ہیں اسی لیے انھیں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں پر حملے میں ایک ہی گروہ ملوث ہے جس کا جلد خاتما ہوگا، ٹریفک پولیس کو جو اسلحہ فراہم کیا گیا ہے وہ انتہائی کم ہے مزید اسلحے کی فراہمی کیلیے آئی جی پولیس سے درخواست کی ہے۔
Load Next Story