سزا یافتہ کرکٹرزپربورڈکے لاکھوں روپے خرچ ہوں گے
سلمان بٹ اور آصف کے ماہر نفسیات کے ساتھ سیشنز بھی رکھے جائیں گے
سابقہ تمام واجبات وکلا کی فیس منہا کر کے کئی برس قبل ادا کر دیے گئے تھے، ذرائع فوٹو : فائل
سزا یافتہ کرکٹرز پر پی سی بی کے لاکھوں روپے خرچ ہوں گے،قومی کرکٹ سیٹ اپ میں واپسی کے خواہشمند سلمان بٹ، محمد آصف اور عامر کی ری ہیبلی ٹیشن کے تمام اخراجات بورڈ کو ہی برداشت کرنا ہیں،
تفصیلات کے مطابق انگلینڈ میں اسپاٹ فکسنگ کر کے جیل کی ہوا کھانے والے تینوںکرکٹرز اب بھی مشکلات کا شکار ہیں،5سالہ پابندی ختم ہونے کے باوجود ان کی ٹیم میں فوری واپسی کا کوئی امکان نہیں،پی سی بی نے ان کیلیے سخت ''روڈ میپ'' تیار کیا ہے، وہ ملک بھر میں نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی مثال دیتے ہوئے کرپشن سے باز رہنے کا مشورہ دیں گے۔
ایدھی ہوم، یتیم خانوں اور پشاورکے آرمی پبلک اسکول کا بھی دورہ کرنا ہوگا، سلمان بٹ اور آصف کے ماہر نفسیات کے ساتھ سیشنز بھی رکھے جائیں گے، تینوں کو اس کے علاوہ کئی دیگر کام بھی کرنا ہیں، ذرائع نے بتایا کہ آئی سی سی قوانین کے تحت فکسنگ میں ملوث کھلاڑی کی عدالتی کارروائی میں متعلقہ بورڈکوئی مالی مدد نہیں کر سکتا، اس لیے پی سی بی نے انگلینڈ میں اس ضمن میں جو رقم ادا کی وہ فیس میچ و دیگر واجبات سے وصول کر لی تھی، البتہ سزا مکمل کرنے کے بعد ری ہیبلی ٹیشن کی ذمہ داری بورڈ پر عائد ہوتی ہے، اسی لیے تینوں کرکٹرز پر اب اسے کئی لاکھ روپے خرچ کرنا ہوں گے۔
آصف اور سلمان کی قومی ٹیم میں واپسی کا کوئی امکان نہیں لگتا، انھیں شدید مخالفت کا سامنا ہے،ذرائع نے اس ضمن میں سلیم ملک کی مثال پیش کی، وہ عدالت سے پابندی ختم کرانے کے باوجود اب بھی کھویا ہوا وقار حاصل نہیں کر سکے، انھیں فکسنگ میں ملوث کھلاڑی ہی سمجھا جاتا ہے، سلمان اور آصف کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک متوقع ہے، البتہ کم عمری کے سبب عامر عوامی ہمدردی حاصل کر سکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انگلینڈ میں اسپاٹ فکسنگ کر کے جیل کی ہوا کھانے والے تینوںکرکٹرز اب بھی مشکلات کا شکار ہیں،5سالہ پابندی ختم ہونے کے باوجود ان کی ٹیم میں فوری واپسی کا کوئی امکان نہیں،پی سی بی نے ان کیلیے سخت ''روڈ میپ'' تیار کیا ہے، وہ ملک بھر میں نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی مثال دیتے ہوئے کرپشن سے باز رہنے کا مشورہ دیں گے۔
ایدھی ہوم، یتیم خانوں اور پشاورکے آرمی پبلک اسکول کا بھی دورہ کرنا ہوگا، سلمان بٹ اور آصف کے ماہر نفسیات کے ساتھ سیشنز بھی رکھے جائیں گے، تینوں کو اس کے علاوہ کئی دیگر کام بھی کرنا ہیں، ذرائع نے بتایا کہ آئی سی سی قوانین کے تحت فکسنگ میں ملوث کھلاڑی کی عدالتی کارروائی میں متعلقہ بورڈکوئی مالی مدد نہیں کر سکتا، اس لیے پی سی بی نے انگلینڈ میں اس ضمن میں جو رقم ادا کی وہ فیس میچ و دیگر واجبات سے وصول کر لی تھی، البتہ سزا مکمل کرنے کے بعد ری ہیبلی ٹیشن کی ذمہ داری بورڈ پر عائد ہوتی ہے، اسی لیے تینوں کرکٹرز پر اب اسے کئی لاکھ روپے خرچ کرنا ہوں گے۔
آصف اور سلمان کی قومی ٹیم میں واپسی کا کوئی امکان نہیں لگتا، انھیں شدید مخالفت کا سامنا ہے،ذرائع نے اس ضمن میں سلیم ملک کی مثال پیش کی، وہ عدالت سے پابندی ختم کرانے کے باوجود اب بھی کھویا ہوا وقار حاصل نہیں کر سکے، انھیں فکسنگ میں ملوث کھلاڑی ہی سمجھا جاتا ہے، سلمان اور آصف کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک متوقع ہے، البتہ کم عمری کے سبب عامر عوامی ہمدردی حاصل کر سکتے ہیں۔