کمشنر نے بند ہائیڈرنٹس کھولنے کا حکم دے دیا

فیصلہ بقر عید کی آمد اور شہر میں قائم مویشی منڈیوں میں پانی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا.

غیرقانونی ہائیڈرنٹس کیخلاف صرف مصنوعی کارروائی کی گئی، واٹربورڈ کی انتظامیہ نے ایسا ماحول پیدا کردیا کہ قانونی ہائیڈرنٹس دوبارہ کھولنے کے احکامات دینے پڑے، ذرائع۔ فوٹو: فائل

کمشنر کراچی نے ہائیڈرنٹس کھولنے کا حکم دیدیا، قانونی ہائیڈرنٹس بھی دوبارہ کھولے جانے سے شہرمکمل طور پر دوبارہ ٹینکر مافیا کے کنٹرول میں چلاگیا۔

تفصیلات کے مطابق کمشنر کراچی سید ہاشم رضا زیدی نے کہا ہے کہ بقر عید کی آمد اور شہر میں قائم مویشی منڈیوں میں پانی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے قائم تین رکنی کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایسے تمام قانونی ہائیڈرنٹس جن کو آپریشنل وجوہات کی بنیاد پر بند کیاگیا تھا ان کو فوری کھولنے کے احکامات جاری کیے جائیں،ہاشم رضا زیدی نے کہا کہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے سلسلے میں حکومت کی جانب سے قائم تین رکنی کمیٹی میں کمشنر کراچی، ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کراچی محمد حسین سید اور ایم ڈی کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ مصباح الدین فرید شامل ہیں۔


انھوں نے مزید کہا کہ شہر میں جاری غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے خلاف مہم اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کرنے کیلیے حکومت کی جانب سے قائم سہ رکنی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں شہر میںموجودہ پانی کی قلت اور اس کے نتیجے میں شہریوں کو پیش آنیوالی مشکلات پر تفصیلی غور کیا گیا، کمیٹی نے اس بات کو نوٹ کیا کہ آپریشنل بنیاد پر بند کیے گئے قانونی ہائیڈرینٹس جن کی فہرست ایم ڈی واٹر بورڈ کے دفتر میں موجود ہے اوروہاں سے حا صل کی جاسکتی ہے وہ تمام ہائیڈرنٹس صرف پہلے سے حاصل شدہ اجازت نامے کے تحت کام کرینگے۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی غور کیا کہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے خلاف حکومت اور واٹر بورڈ کی جانب سے چلائی جانے والی مہم بدستور جاری رہے گی، واضح رہے کہ واٹربورڈ کی انتظامیہ نے کچھ عرصے قبل غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے خلاف آپریشن اور قانونی ہائیڈرنٹس بند کرنے کا اعلان کیا تھا، اس اعلان کے تحت شہر میں قانونی ہائیڈرنٹس تو بند ہوگئے تاہم غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے خلاف صرف مصنوعی کارروائی کی گئی جس کے باعث اس تاثر نے تقویت پایا کہ قانونی ہائیڈرنٹس صرف غیرقانونی ہائیڈرنٹس مافیا کو مزید نوازنے کیلیے بندکیے گئے۔

واٹربورڈ کے تمام تر دعوئوں کے باوجود شہر میں غیرقانونی ہائیڈرنٹس کا کاروبار اپنے پورے عروج پر رہا تاہم واٹربورڈ کی انتظامیہ نے غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے خلاف کارروائی کے بجائے اپنی نااہلی کا سارا ملبہ محکمہ پولیس پر گرادیا، ذرائع نے بتایا کہ واٹربورڈ کی انتظامیہ نے ایک خاص منصوبہ بندی کے ذریعے شہر میں ایسا ماحول پیدا کردیا کہ صوبائی حکومت کو قانونی ہائیڈرنٹس دوبارہ کھولنے کے احکامات دینے پڑے ہیں، اس طرح شہر میں غیرقانونی ہائیڈرنٹس تو پہلے ہی کام کررہے تھے اور اب قانونی ہائیڈرنٹس بھی دوبارہ کھول دیے گئے جس کے بعد شہرمکمل طور پر دوبارہ ٹینکر مافیا کے کنٹرول میں چلاگیا، کراچی کے شہریوں نے استفسار کیا ہے کہ آخر وہ وجوہات بتائی جائیں جس کی بنیاد پر ہائیڈرنٹس بند کیے گئے تھے اور وہ وجوہات بھی بتائی جائیں جن کی بنیاد پر یہ ہائیڈرنٹس دوبارہ کھولے گئے ہیں۔
Load Next Story