احتیاط کی ضرورت ہے

نواز شریف 1990ء کی سیاست کر رہے ہیں وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اصغر خان کیس میں ملوث سارے کرداروں کو گرفتار کیا جائے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ اعلیٰ سطح کے سیاست دانوں اور بیوروکریسی کے خلاف کرپشن کے الزامات میں پکڑ دھکڑ اور تحقیقات کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ سابق وزرائے اعظم، وزراء بھی جس کی زد میں آرہے ہیں۔ یہ صورت حال اچانک پیش آنے والا کوئی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ کرپشن ہمارے ملک کی سیاست میں اندر ہی اندر روئی کی آگ کی طرح پھیلتی رہی ہے۔

چونکہ اقتدار پر گرفت مضبوط بلکہ غیر معمولی طور پر مضبوط رہی تھی لہٰذا کرپشن کا کوئی کیس منظر عام پر نہیں آسکا تھا، ہمارے ملک میں فوجی مداخلت کو جمہوریت دشمنی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ تعبیر غلط بھی نہیں ہے لیکن کیا اہل سیاست کے پاس اس کا کوئی جواب ہے کہ جب بھی جمہوری حکومتوں کو چلتا کیا گیا ان پر کرپشن اور نا اہلی کے الزامات ہی لگتے رہے؟ اس حوالے سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاست میں سنجیدہ مخلص ایماندار اور با صلاحیت افراد کا داخلہ ہی بند رہا، ہماری اشرافیہ سیاست اور اقتدار پر اس طرح قابض رہی کہ مڈل کلاس کے بہترین دماغ سیاست میں اچھوت بن کر رہ گئے۔

نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کا آغاز سیاست دانوں کی مرضی سے ہوا تھا، اس پس منظر میں اصولاً کسی سیاست دان کو نیشنل ایکشن پلان کی کارروائیوں پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن ان اعتراضات میں بعض اعتراض اس قدر جائز اور منطقی ہیں کہ انھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

مثلاً پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ آصف علی زرداری نے یہ اعتراض کہ کیا کرپشن کا ارتکاب صرف سندھ ہی میں ہو رہا ہے؟ کیا دوسرے صوبوں میں سب فرشتے رہتے ہیں اگر دوسرے صوبوں میں بھی کرپٹ عناصر موجود ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو رہی ہے؟ آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے اسی طرح کا اعتراض متحدہ بھی کر رہی ہے اس کی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کا دائرہ پورے ملک تک پھیلتا نظر نہیں آ رہا ہے اور میڈیا کی خبروں کے مطابق صرف سندھ ہی اس کی زد میں آ رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کی ایک رہنما شیری رحمن کا کہنا ہے کہ ہمیں کرپشن کے خالف احتسابی اداروں کے اقدامات پر کوئی اعتراض نہیں نہ ہم کرپشن کی حمایت کرتے ہیں، ہمیں اعتراض یہ ہے کہ یہ آپریشن جانبدارانہ اور امتیازی ہو رہا ہے، آصف علی زرداری نے اپنے ایک تازہ بیان میں فرمایا ہے کہ نواز شریف نے سندھ حکومت کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

نواز شریف 1990ء کی سیاست کر رہے ہیں وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اصغر خان کیس میں ملوث سارے کرداروں کو گرفتار کیا جائے، زرداری نواز شریف پر یہ سنگین الزام بھی لگا رہے ہیں کہ ان کی حکومت دہشت گردوں کو بچانے کے لیے قوم کو تقسیم کر رہی ہے۔ وہ دہشت گردی کے حوالے سے سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا ماڈل ٹاؤن میں 14 بے گناہ افراد کو مارنے والے دہشت گرد نہیں ہیں؟ ان کا ایک سوال یہ بھی ہے کہ منی لانڈرنگ کرنے والے وزیر کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔


پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان پچھلے 7-8 سال سے جو مفاہمتی رشتے تھے لگ رہا ہے کہ اب وہ ٹوٹ رہے ہیں۔ زرداری براہ راست مسلم لیگ (ن) پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔

اخباری اطلاعات کے مطابق لندن میں نواز شریف نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر داخلہ چوہدری نثار سے زرداری کے بیان کے بعد مشاورت کی ہے لیکن شہباز شریف اور چوہدری نثار نے نواز شریف سے کہا ہے کہ وہ بلیک میل نہ ہوں اور کرپشن کے خلاف ڈٹے رہیں اور (ن) لیگ کے ایک وزیر عبدالقادر بلوچ کا کہنا ہے کہ پی پی اگر جنگ چاہتی ہے تو بسم اﷲ ہم تیار ہیں۔ اس قسم کے الزامات جوابی الزامات بیان اور جوابی بیانات سے اندازہ ہو رہا ہے کہ سیاست دانوں خاص طور پر پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں، کیا اس قسم کی محاذ آرائی سے اس نام نہاد یا لولی لنگڑی جمہوریت کو خطرہ لاحق نہیں ہو گا؟

مسئلہ یہ ہے کہ دانستہ یا نادانستہ کرپشن کے خلاف آپریشن سندھ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ صورت حال اس لیے سنگین ہے کہ کہیں عوام اس آپریشن کے حوالے سے لسانی اور صوبائی بنیادوں پر تقسیم نہ ہو جائیں، ان خدشات اور امکانات کو دور کرنے کا آسان اور واحد طریقہ یہ ہے کہ آپریشن کا دائرہ پورے ملک تک پھیلایا جائے تا کہ جانبداری کے اعتراضات ختم ہو جائیں۔

آصف علی زرداری کی بے چینی اور ناراضی کی بڑی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ ان کے دست راست عاصم حسین کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور میڈیا کے اکابرین فرما رہے ہیں کہ عاصم حسین کی گرفتاری کا مطلب زرداری کے خلاف اقدامات کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور امین فہیم کے خلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے کیسز بن چکے ہیں اور ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے ہیں جس سے زرداری کی تشویش فطری ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی موجودہ صورت حال میں ناراضی بالکل فطری ہے لیکن ایک مسئلہ ایسا ہے جس کو ذہن میں رکھنے کی شدید ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اس سیاسی افرا تفری سے دہشت گردی کے خلاف جو کامیاب جنگ لڑی جا رہی ہے متاثر تو نہیں ہو گی؟ اس خدشے کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے کچھ دنوں کے اندر دہشت گردی کی ایسی سنگین وارداتیں ہوئی ہیں جس سے یہ خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ دہشت گرد ایک بار پھر منظم ہو کر منظم طریقے سے دہشت گردی کا از سر نو ارتکاب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اٹک میں شجاع خانزادہ اور کراچی میں رشید گوڈیل کے خلاف کامیاب حملوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گرد اپنی کمر سیدھی کر کے از سر نو اپنے مشن کی تکمیل پر کاربند ہو گئے ہیں۔ یہ ایک تشویش ناک صورت حال ہے جس کا آپریشن کے دوران خیال رکھنے کی ضرورت ہے اگر سیاسی افرا تفری بڑھتی ہے تو اس کا سارا فائدہ مذہبی انتہا پسندوں کو ہو گا۔

٭٭٭
Load Next Story