علما کے کوائف جمع کرنا حکومت کا کام ہے وفاق المدارس

علمائے کرام کی گورنرسندھ سے ملاقات، الطاف حسین کے بیان پر تحفظات کا اظہار.

مدارس کی خدمات قابل قدرہیں،علما اور آئمہ قوم کا سرمایہ ہیں،ڈاکٹرعشرت العباد.فوٹو: پی پی آئی/ فائل

وفاق المدارس کے وفد نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی جانب سے دینی مدارس کے کوائف جمع کرنے اور علما کو دین کا تاجر کہنے کے بیان کو علما کی دل آزاری قرار دیتے ہوئے اس پرشدید تحفظات کا اظہار کیا ۔

وفاق المدارس کے نمائندہ وفد کی قیادت وفاق المدارس العربیہ کے صدر مولاناسلیم اللہ خان نے کی جبکہ دیگراراکین میں جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم مفتی محمدنعیم،مولانا اسعد تھانوی ،جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاون کے مولانا امداد اللہ،جامعہ دارالعلوم کراچی کے مولانا راحت علی ہاشمی،جامعہ عثمانیہ شیرشاہ کے قاری محمد عثمان،جامعہ اشرف المدارس کے مولانا حکیم محمد مظہر،جامعہ فاروقیہ کے مولانا عبیداللہ خالد، دارالعلوم اصحاب الصفہ کے قاری حق نواز،جامعہ اسلامیہ کلفٹن کے مولانا ابوہریرہ محی الدین ،جامعہ بنوریہ کے مولانا غلام رسول شامل تھے۔

ملاقات میںدوطرفہ امورکے علاوہ شہرقائدمیںجاری بیگناہوںکی ٹارگٹ کلنگ،بھتہ خوری اوربالخصوص ملالہ یوسفزئی پر قاتلانہ حملے کے مذموم واقعے کے بعدکچھ سیاسی جماعتوں اور سیکولرطبقے کی جانب سے واقعے کو بنیاد بناکر علما اور مدارس دینیہ کے خلاف پروپیگنڈوں کے حوالے سے گفتگوکی، اس موقع پرعلما نے گورنرسند ڈاکٹر عشرت العباد خان کو ملالہ واقعے کے بعدکی صورتحال خصوصا مدارس دینیہ کے خلاف پروپیگنڈوںاورقائد ایم کیوایم الطاف حسین کی جانب سے آئمہ مساجد،علما اورمدارس دینیہ کے اساتذہ کے کوائف جمع کرنے اور علما کو دین کا تاجر کہنے کے بیان کو علمائے کرام کی دل آزاری قرار دیا اور دینی طبقے میں اس کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا.


ایم کیوایم کے سربراہ کے بیان کے بعدشہرکے مختلف علاقوںمیںآئمہ مساجدکے ساتھ پیش آنے والے نارواسلوک اور مذہبی طبقے بالخصوص اہل مدارس میں پائی جانے والی تشویش سے بھی گورنرسندھ کوآگاہ کیا،انھوںنے کہاکہ ایم کیوایم کے قائد کواپنی تشویش سے آگاہ کرنے کیلیے ایم کیوایم لندن سیکرٹریٹ خط ارسال کردیاگیاہے جبکہ اس سلسلے میں رابطہ کمیٹی اورمتحدہ علمافورم کے اراکین سے بھی ملاقات ہوئی ہے اور گورنر سندھ کواپنی تشویش سے آگاہ کرنے کامقصد بھی یہی ہے کہ ہماری تشویش ہرفورم سے آگے پہنچائی جائے.

انہوں نے مزیدکہاکہ شہرقائد میں امن وامان کے قیام کے حوالے سے قائدایم کیوایم الطاف حسین کو لاحق فکربجاہے کیونکہ بحیثیت اس شہرکے کابہت بڑااسٹیک ہولڈرہے ،شہرکے حالات درست ہوں تو ہر سیاسی جماعت دعویٰ کرنے آگے آتی ہے لیکن حالات کی خرابی کاذمہ دارایم کیوایم کو ٹھرا دیا جاتا ہے، انھوںنے کہا کہ شہر قائد سمیت پورے ملک میںامن وامان کی ذمے داری حکومت پرعائد ہوتی ہے لیکن بحیثیت پاکستانی اورشہرقائدکاساکن ہونے کے ناطے ہمارافرض بنتاہے کہ ہم اس شہر کودوبارہ امن کاگہوارہ اورروشنیوںکا شہر بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں.

ایم کیوایم کے قائد کی شہرمیںامن وامان کے قیام کے لیے اچھیسوچ ہے اوران کی نیت پرشک نہیںکیاجاسکتا ہے لیکن علماکرام ،آئمہ مساجداوراہل مدارس کے کوائف جمع کرنے کے حوالے سے الطاف حسین کے بیان شہر کے مختلف علاقوںمیںآئمہ مساجدکے ساتھ پیش آنے والے ناروا واقعات ایم کیوایم کے حوالے سے پورے ملک میںمذہبی طبقے اور بالخصوص اہل مدارس میںنفرت پیداکرنے کاسبب بن رہاہے ، کوائف جمع کرناریاست کاکام ہے اوراس کے لیے مذہبی طبقے کو اعتمادمیں لیکر قابل عمل طریقہ کار اختیار کیا جاسکتاہے.

علما ئے کرام نے کہاکہ دینی مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق پہلے تھا اور نہ اب ہے، مدارس خالص تعلیمی ادارے ہیںجہاں قال اللہ وقال الرسول ﷺ کی تعلیم دی جاتی ہیں، اس موقع پر گورنر سندھ عشرت العباد نے کہاکہ مدارس دین اسلام کو عام کرنے میں کردار ادا کررہے ہیں ، مدارس کی خدمات قابل قدر ہیں ، علمائے کرام اور آئمہ قوم کا سرمایا ہیں ،انھوںنے علماکرام کی تجاویزکوسراہتے ہوئے اس پرغورکرنے ،مسائل کے حل اورعلماکرام کی تشویش سے اعلیٰ قیادت کوآگاہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
Load Next Story