افغانستان کرزئی سنڈروم سے باہر نکلے

تاریخ دانوں کا انداز نظر یہ ہے کہ تشدد نے افغانستان کی تاریخ اور سماجی و سیاسی اداروں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے

امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کا حالیہ دورہ افغانستان مثبت نتائج اور مفاہمانہ فضا پیدا کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو گا۔ فوٹو: فائل

افغانستان کی داخلی صورتحال کے بارے میں خامہ فرسائی کرتے ہوئے کئی تجزیہ کاروں، سائنسی سوچ رکھنے والے دانشوروں، صحافیوں اور تاریخ دانوں کا انداز نظر یہ ہے کہ تشدد نے افغانستان کی تاریخ اور سماجی و سیاسی اداروں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے، ان کے خیال میں ْپِر تشدد محکومی بڑی خرابیاں ساتھ لاتی ہے، اور وہی حاکم قوتیں تعمیر نو، آزادی اظہار اور معاشی خوشحالی کے اقدامات کا دعویٰ کرتی ہیں۔

افغانستان میں یہ سب کچھ ہوتا رہا اور اب بھی یہی ہو رہا ہے، یہاں تک کہ ممتاز تحقیقاتی صحافی باب وڈورڈ نے امریکی سائیکی اور اوباما انتظامیہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اگر افغانستان میں ناکامی کا غلغلہ اٹھا تو دہشت گردی گلوبل ہو گی، ہر جگہ جنگ کے شعلے بھڑکیں گے۔ چنانچہ اسی تناظر میں افغانستان نے پاکستان کو مخالفانہ پراپیگنڈا بند کرنے اور دوطرفہ اعتماد کی بحالی کے لیے کام کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر اْمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز جمعہ کو کابل پہنچے جہاں اْنہوں نے علاقائی اقتصادی تعاون کانفرنس برائے افغانستان میں شرکت کے افغان صدر اشرف غنی، افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی اور افغان قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔

افغان قیادت سے ملاقاتوں میں سرتاج عزیز نے دوطرفہ تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے کے علاوہ افغان میڈیا میں جاری پاکستان مخالف مہم ختم کرنے پر بات چیت کی۔ ایک اطلاع کے مطابق افغان صدر اشرف غنی اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی ملاقات میں پاکستان اور افغانستان نے کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی کے بعد باہمی اعتماد بحال کرنے پر اتفاق ہوا۔

در حقیقت پاک افغان تعلقات کا سیمابیت سے معمور معاملہ افغان صدر اشرف غنی کے تدبر آمیز رویے کا متقاضی ہے اور وہ پاکستان کی طرف سے دوستی کا ہاتھ جھٹکنے والوں کا راستہ روک کر جنرل رشید دوستم اینڈ کمپنی کی بے وقت کی شعلہ نوائی کے خطرات کو ٹال سکتے ہیں، ساتھ ہی داخلی دباؤ اور پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو روکنے کے بعد ہی صورتحال کا صحیح ادراک کر سکتے ہیں۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران افغان رہنماؤں اور وزرا کی جانب سے پاکستان پر الزامات کی بارش ہوتی دکھائی دی جس کے منہ میں جو آیا اس نے کہہ دیا، کسی نے اس چیز کا احساس نہیں کیا کہ پاک افغان مفاہمت ، دو طرفہ اشتراک، دفاعی اور سیاسی طور پر ساتھ چلنے کے عہد و پیماں ہوئے۔


پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سمیت دیگر افغان فوجی حکام سے خطے کی صورتحال کی بہتری، دہشت گردی کے خاتمہ، سرحد ی صورتحال، طالبان کے خطرہ اور جنگجوئی و شورش کی روک تھام کے لیے اہم معاہدے کیے جن میں واضح طور پر اعلان کیا گیا کہ افغانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن تصور کیا جائے گا۔

مگر افسوس کہ لا حاصل اور دانستہ ''بلیم گیم'' کے باعث صدر اشرف غنی نے مفاہمت کی باتیں کرتے کرتے اچانک یو ٹرن لے لیا اور پاکستان دشمن بیانات دینے لگے جس پر پاکستان نے حیرت کے ساتھ سخت تشویش ظاہر کی اور افغان حکام پر واضح کیا کہ اگر صدر اشرف غنی اور ان کے رفقا و وزراء خطے میں امن و ترقی اور مفاہمت و اشتراک عمل کے طے شدہ میکنزم پر کاربند نہیں رہے تو ''کرزئی سنڈروم '' میں ہی پھنسے رہیں گے۔

جس میں الجھ کر حامد کرزئی اپنے پورے دور اقتدار میں ''بلو ہاٹ بلو کولڈ'' پالیسی میں بھٹکتے رہے اور مفاہمت و دہشت گردی سے نمٹنے کے بہترین مواقع ضایع کر بیٹھے، نیز خطے میں امن، مفاہمت، دو طرفہ اشتراک عمل اور پاکستان کی طرف سے سماجی شعبوں میں تعمیر و ترقی کے لیے تعاون کی ہر ممکن کوشش کے باوجود الزام تراشی پر مبنی سیاسی طرز عمل پر کاربند رہے، ہر مسئلہ کا ذمے دار پاکستان کو ٹھہرایا، جب کہ افغانستان کو داخلی استحکام، جمہوری ٹرانزیشن اور معاشرتی و معاشی طور پر مضبوط بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی۔

چنانچہ حامد کرزئی کا دور حکومت ''بختوں کے بلیا، پکائی کھیر ہو گیا دلیا'' ثابت ہوا، مطلب یہ کہ سیاسی اور انتظامی ناکامیوں سے افغان معاشرے کو نیٹو فورسز کی فعالیت اور امداد و تعاون کے باوجود مخدوش صورتحال کا سامنا رہا جب کہ شورش، طالبان کے تابڑ توڑ حملوں، کرپشن، وار لارڈ رز کے پاکستان مخالف بیانات سے سیاسی، تزویراتی اور معاشی معاملات مزید پراگندہ ہو سکتے ہیں۔مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ افغان صدر اشرف غنی نے 'بلیم گیم' بند کرنے اور دوطرفہ اعتماد کی بحالی کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

قبل ازیں علاقائی تعاون کانفرنس سے خطاب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ اقتصادی طور پر مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری سے خطے میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ شاہراؤں کے اس نیٹ ورک کو وسط ایشیا تک پھیلانے میں پرعزم ہیں۔

انھوں نے افغانستان سے پراپیگنڈہ مہم بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سفارتی عملے کو سکیورٹی فراہم کی جائے۔امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کا حالیہ دورہ افغانستان مثبت نتائج اور مفاہمانہ فضا پیدا کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو گا اور افغان حکومت اپنے بنیادی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے اس عالمی کمٹمنٹ پر پورا اترے گی جو تعمیر افغانستان سے عبارت ہے اور جس کے لیے افغانستان اور پاکستان کی مشترکہ کوششیں ہی خطے کا مقدر بدل سکتی ہیں۔
Load Next Story